<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 17:46:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 17:46:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اختیارات کی ادھوری منتقلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288877/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئینی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی لانے والی 18ویں آئینی ترمیم کو ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن پاکستان اب بھی ایسے طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے جیسے ترقیاتی منصوبہ بندی بنیادی طور پر وفاق ہی کی ذمہ داری ہو۔ یہ تضاد اب پہلے سے کہیں زیادہ غیر منطقی محسوس ہوتا ہے، اسی لیے ماہرِ معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی کی یہ تجویز، جو انہوں نے پاکستان کے ترقیاتی بجٹ اور اختیارات کی منتقلی کے بعد درپیش چیلنجز پر منعقدہ ایک پالیسی گول میز اجلاس میں پیش کی کہ صوبے اپنا اپنا منصوبہ بندی کمیشن قائم کریں، سنجیدہ غور و فکر کی مستحق ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجویز پاکستان کے اختیارات کی منتقلی کے بعد کے طرزِ حکمرانی میں موجود ان کمزوریوں میں سے ایک کو نشانہ بناتی ہے جسے سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;18ویں آئینی ترمیم کے پس منظر میں موجود منطق صرف یہ نہیں تھی کہ انتظامی اختیارات اسلام آباد سے صوبوں کو منتقل کر دیے جائیں۔ اس کا وسیع تر مقصد یہ تھا کہ فیصلہ سازی کو عوام کے زیادہ قریب لایا جائے تاکہ پالیسیاں مرکزی مفروضوں کے بجائے مقامی حقائق کی بنیاد پر تشکیل پائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت، تعلیم، آبادی کی بہبود اور متعدد دیگر شعبے اسی لیے صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے کہ صوبائی حکومتیں ترقیاتی ترجیحات کی زیادہ ذمہ داری سنبھالیں۔ لیکن اگر منصوبہ بندی کا عمل خود اب بھی غیر متناسب حد تک وفاقی اداروں پر انحصار کرتا رہے تو اس مقصد کی تکمیل صرف جزوی ہی کہلائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبہ بندی صرف سالانہ ترقیاتی پروگرام تیار کرنے یا بجٹ مختص کرنے کا نام نہیں۔ اس میں طویل المدتی ترجیحات کا تعین، فزیبلٹی اسٹڈیز کی تیاری، معاشی فوائد کا جائزہ، مختلف شعبوں کی حکمتِ عملیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور نتائج کی پیمائش شامل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر صوبوں کے پاس ایسے ادارے موجود نہ ہوں جو ان تمام ذمہ داریوں کو آزادانہ، پیشہ ورانہ اور مؤثر انداز میں انجام دے سکیں تو وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ضرورت اس وقت مزید نمایاں ہو گئی ہے جب پاکستان مسلسل محدود مالی گنجائش کا سامنا کر رہا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی عوامی وسائل کا ایک بڑا حصہ ہڑپ کر رہی ہے، جس کے باعث ہر سطح کی حکومتوں کو اخراجات کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورتحال میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیا جانے والا ہر روپیہ قابلِ پیمائش نتائج پیدا کرنا چاہیے۔ اس کے لیے مضبوط منصوبہ بندی، بہتر منصوبہ جاتی انتخاب اور اس سے کہیں زیادہ احتساب درکار ہے جتنا عمومی طور پر سرکاری ترقیاتی اخراجات میں دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ترقیاتی ماڈل پر ہونے والی بحث بھی اہم انداز میں تبدیل ہو رہی ہے۔ اب معاشی ماہرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مؤقف ہے کہ تعلیم، صحت اور غذائیت کو صرف سماجی اخراجات نہیں بلکہ انسانی سرمایہ کاری سمجھا جانا چاہیے۔ اس نئی سوچ کے لیے ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو معاشی منصوبہ بندی کو انسانی ترقی کے اہداف کے ساتھ مربوط کر سکیں، نہ کہ دونوں کو الگ الگ پالیسی شعبے تصور کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی منصوبہ بندی کمیشنز کا قیام ملک کو اسی سمت لے جانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ہر صوبے کو مختلف معاشی حقائق، آبادی کے دباؤ اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق الگ الگ ضروریات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کی ترجیحات پنجاب سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ سندھ کو ایسے شہری مسائل درپیش ہیں جو خیبرپختونخوا سے یکسر مختلف نوعیت رکھتے ہیں۔ اس لیے صوبائی حالات کے مطابق تشکیل دیا گیا منصوبہ بندی کا نظام وسائل کی زیادہ مؤثر تقسیم کو یقینی بنا سکتا ہے، نسبتاً اس نظام کے جو حد سے زیادہ مرکزی مفروضوں پر انحصار کرتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تصور اختیارات کی منتقلی کے بنیادی اصول سے بھی مکمل ہم آہنگ ہے۔ اختیارات کا بہاؤ صرف وفاق سے صوبوں تک پہنچ کر رک نہیں جانا چاہیے۔ مؤثر طرزِ حکمرانی کا انحصار اس بات پر ہے کہ فیصلہ سازی کو ان کمیونٹیز تک ممکنہ حد تک منتقل کیا جائے جو ان فیصلوں سے براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد صوبائی اداروں کو بھی بتدریج مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا چاہیے تاکہ وہ ضلعی اور بلدیاتی سطح کی ترجیحات کے مطابق فیصلے کر سکیں۔ اختیارات کی منتقلی کوئی ایک وقتی آئینی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان برسوں سے اس بحث میں مصروف ہے کہ ترقیاتی خلا کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی ہے، اخراجات میں غیر مؤثریت ہے یا ادارہ جاتی کمزوری۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تینوں عوامل کا اس میں کردار موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتر منصوبہ بندی ہر مسئلے کا حل نہیں، لیکن ناقص منصوبہ بندی تقریباً اس بات کی ضمانت بن جاتی ہے کہ محدود عوامی وسائل بھی مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;18ویں آئینی ترمیم کا مقصد پاکستان کے نظامِ حکمرانی کو اس انداز میں تبدیل کرنا تھا کہ اختیارات ان لوگوں کے زیادہ قریب پہنچ جائیں جو انہیں بہتر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر صوبے اب بھی ان اداروں پر انحصار کرتے رہیں جو زیادہ مرکزی نوعیت کی ریاست کے لیے تشکیل دیے گئے تھے، تو آئین کا یہ وژن ادھورا ہی رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی منصوبہ بندی کمیشنز کا قیام نہ صرف اختیارات کی منتقلی کی روح کو مکمل کرے گا بلکہ یہ ملک کی اس صلاحیت کو بھی مضبوط بنائے گا کہ وہ وہاں بہتر منصوبہ بندی، درست ترجیحات کا تعین اور مؤثر ترقیاتی عمل درآمد کر سکے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئینی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی لانے والی 18ویں آئینی ترمیم کو ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن پاکستان اب بھی ایسے طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے جیسے ترقیاتی منصوبہ بندی بنیادی طور پر وفاق ہی کی ذمہ داری ہو۔ یہ تضاد اب پہلے سے کہیں زیادہ غیر منطقی محسوس ہوتا ہے، اسی لیے ماہرِ معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی کی یہ تجویز، جو انہوں نے پاکستان کے ترقیاتی بجٹ اور اختیارات کی منتقلی کے بعد درپیش چیلنجز پر منعقدہ ایک پالیسی گول میز اجلاس میں پیش کی کہ صوبے اپنا اپنا منصوبہ بندی کمیشن قائم کریں، سنجیدہ غور و فکر کی مستحق ہے۔</strong></p>
<p>یہ تجویز پاکستان کے اختیارات کی منتقلی کے بعد کے طرزِ حکمرانی میں موجود ان کمزوریوں میں سے ایک کو نشانہ بناتی ہے جسے سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے۔</p>
<p>18ویں آئینی ترمیم کے پس منظر میں موجود منطق صرف یہ نہیں تھی کہ انتظامی اختیارات اسلام آباد سے صوبوں کو منتقل کر دیے جائیں۔ اس کا وسیع تر مقصد یہ تھا کہ فیصلہ سازی کو عوام کے زیادہ قریب لایا جائے تاکہ پالیسیاں مرکزی مفروضوں کے بجائے مقامی حقائق کی بنیاد پر تشکیل پائیں۔</p>
<p>صحت، تعلیم، آبادی کی بہبود اور متعدد دیگر شعبے اسی لیے صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے کہ صوبائی حکومتیں ترقیاتی ترجیحات کی زیادہ ذمہ داری سنبھالیں۔ لیکن اگر منصوبہ بندی کا عمل خود اب بھی غیر متناسب حد تک وفاقی اداروں پر انحصار کرتا رہے تو اس مقصد کی تکمیل صرف جزوی ہی کہلائے گی۔</p>
<p>منصوبہ بندی صرف سالانہ ترقیاتی پروگرام تیار کرنے یا بجٹ مختص کرنے کا نام نہیں۔ اس میں طویل المدتی ترجیحات کا تعین، فزیبلٹی اسٹڈیز کی تیاری، معاشی فوائد کا جائزہ، مختلف شعبوں کی حکمتِ عملیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور نتائج کی پیمائش شامل ہوتی ہے۔</p>
<p>اگر صوبوں کے پاس ایسے ادارے موجود نہ ہوں جو ان تمام ذمہ داریوں کو آزادانہ، پیشہ ورانہ اور مؤثر انداز میں انجام دے سکیں تو وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا نہیں کر سکتے۔</p>
<p>یہ ضرورت اس وقت مزید نمایاں ہو گئی ہے جب پاکستان مسلسل محدود مالی گنجائش کا سامنا کر رہا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی عوامی وسائل کا ایک بڑا حصہ ہڑپ کر رہی ہے، جس کے باعث ہر سطح کی حکومتوں کو اخراجات کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔</p>
<p>ایسی صورتحال میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیا جانے والا ہر روپیہ قابلِ پیمائش نتائج پیدا کرنا چاہیے۔ اس کے لیے مضبوط منصوبہ بندی، بہتر منصوبہ جاتی انتخاب اور اس سے کہیں زیادہ احتساب درکار ہے جتنا عمومی طور پر سرکاری ترقیاتی اخراجات میں دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے ترقیاتی ماڈل پر ہونے والی بحث بھی اہم انداز میں تبدیل ہو رہی ہے۔ اب معاشی ماہرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مؤقف ہے کہ تعلیم، صحت اور غذائیت کو صرف سماجی اخراجات نہیں بلکہ انسانی سرمایہ کاری سمجھا جانا چاہیے۔ اس نئی سوچ کے لیے ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو معاشی منصوبہ بندی کو انسانی ترقی کے اہداف کے ساتھ مربوط کر سکیں، نہ کہ دونوں کو الگ الگ پالیسی شعبے تصور کریں۔</p>
<p>صوبائی منصوبہ بندی کمیشنز کا قیام ملک کو اسی سمت لے جانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ہر صوبے کو مختلف معاشی حقائق، آبادی کے دباؤ اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق الگ الگ ضروریات کا سامنا ہے۔</p>
<p>بلوچستان کی ترجیحات پنجاب سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ سندھ کو ایسے شہری مسائل درپیش ہیں جو خیبرپختونخوا سے یکسر مختلف نوعیت رکھتے ہیں۔ اس لیے صوبائی حالات کے مطابق تشکیل دیا گیا منصوبہ بندی کا نظام وسائل کی زیادہ مؤثر تقسیم کو یقینی بنا سکتا ہے، نسبتاً اس نظام کے جو حد سے زیادہ مرکزی مفروضوں پر انحصار کرتا ہو۔</p>
<p>یہ تصور اختیارات کی منتقلی کے بنیادی اصول سے بھی مکمل ہم آہنگ ہے۔ اختیارات کا بہاؤ صرف وفاق سے صوبوں تک پہنچ کر رک نہیں جانا چاہیے۔ مؤثر طرزِ حکمرانی کا انحصار اس بات پر ہے کہ فیصلہ سازی کو ان کمیونٹیز تک ممکنہ حد تک منتقل کیا جائے جو ان فیصلوں سے براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔</p>
<p>اس کے بعد صوبائی اداروں کو بھی بتدریج مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا چاہیے تاکہ وہ ضلعی اور بلدیاتی سطح کی ترجیحات کے مطابق فیصلے کر سکیں۔ اختیارات کی منتقلی کوئی ایک وقتی آئینی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔</p>
<p>پاکستان برسوں سے اس بحث میں مصروف ہے کہ ترقیاتی خلا کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی ہے، اخراجات میں غیر مؤثریت ہے یا ادارہ جاتی کمزوری۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تینوں عوامل کا اس میں کردار موجود ہے۔</p>
<p>بہتر منصوبہ بندی ہر مسئلے کا حل نہیں، لیکن ناقص منصوبہ بندی تقریباً اس بات کی ضمانت بن جاتی ہے کہ محدود عوامی وسائل بھی مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکیں گے۔</p>
<p>18ویں آئینی ترمیم کا مقصد پاکستان کے نظامِ حکمرانی کو اس انداز میں تبدیل کرنا تھا کہ اختیارات ان لوگوں کے زیادہ قریب پہنچ جائیں جو انہیں بہتر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر صوبے اب بھی ان اداروں پر انحصار کرتے رہیں جو زیادہ مرکزی نوعیت کی ریاست کے لیے تشکیل دیے گئے تھے، تو آئین کا یہ وژن ادھورا ہی رہے گا۔</p>
<p>صوبائی منصوبہ بندی کمیشنز کا قیام نہ صرف اختیارات کی منتقلی کی روح کو مکمل کرے گا بلکہ یہ ملک کی اس صلاحیت کو بھی مضبوط بنائے گا کہ وہ وہاں بہتر منصوبہ بندی، درست ترجیحات کا تعین اور مؤثر ترقیاتی عمل درآمد کر سکے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288877</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 10:52:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/18104929b82c231.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/18104929b82c231.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
