<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 13:44:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Jul 2026 13:44:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ضابطوں سے بالاتر انصاف کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288832/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ کی یہ یاددہانی کہ ”ضابطہ جاتی قانون انسانی تکلیف کو آواز دینے کے لیے موجود ہے، اسے خاموش کرنے کے لیے نہیں“ کبھی ضروری نہیں ہونی چاہیے تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ حقیقت کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو نچلی عدالتوں کی اس غلطی کی اصلاح کرنا پڑی کہ انہوں نے ایک گواہ کے بیان میں موجود واضح غلطیوں کو درست کرنے سے انکار کر دیا، پاکستان کے نظامِ انصاف میں موجود ایک گہرے مرض کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد عدالتوں کو انصاف کے ایک نہایت بنیادی اصول کی یاد دہانی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی: ضابطہ کار انصاف کو آسان بنانے کے لیے ہوتا ہے، اسے ناکام بنانے کے لیے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ خود اس مسئلے کو نہایت واضح انداز میں سامنے لاتا ہے۔ استغاثہ کی ایک گواہ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس کا بیان درست طور پر قلم بند نہیں کیا گیا، جس میں مبینہ جرم کی تاریخ بھی غلط درج ہوگئی تھی، لہٰذا اس نے اپنے ریکارڈ شدہ بیان میں موجود تضادات کی اصلاح کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضابطۂ فوجداری کے تحت دستیاب اختیارات استعمال کرتے ہوئے ویڈیو ریکارڈنگ کی تصدیق کرنے اور کسی بھی غلطی کو درست کرنے کے بجائے، ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ دونوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے بجا طور پر قرار دیا کہ یہ اقدام غیر قانونی تھا، دونوں عدالتوں کے احکامات کالعدم قرار دیے اور ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ وہی کارروائی انجام دے جو ابتدا ہی میں کی جانی چاہیے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کی جانب سے دوبارہ واضح کیا گیا قانونی اصول نہ تو کوئی نیا ہے اور نہ ہی متنازع۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتیں منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنے کے لیے قائم کی جاتی ہیں۔ ضابطہ جاتی قواعد ناگزیر ہیں کیونکہ وہ منصفانہ قانونی عمل کا تحفظ کرتے ہیں، تمام فریقین کے حقوق کی حفاظت کرتے ہیں اور عدالتی کارروائی میں یکسانیت کو یقینی بناتے ہیں۔ ان قواعد کا مقصد کبھی بھی یہ نہیں تھا کہ وہ عدالتوں کے لیے ایسی رکاوٹ بن جائیں جو مقدمے کی شفافیت کو متاثر کرنے والی واضح غلطیوں کی اصلاح سے انہیں روک دیں۔ جو نظامِ انصاف حد سے زیادہ تکنیکی نکات میں الجھ جائے، وہ اپنے اصل مقصد سے دور ہو جانے کا خطرہ مول لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی تصور انصاف کے انتظام سے وابستہ ایک قدیم ترین اصول میں بھی جھلکتا ہے کہ ”انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔“ عوام کا اعتماد صرف درست قانونی فیصلوں پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ عدالتیں عدالتی عمل کے ہر مرحلے پر انصاف کو یقینی بنانے کے لیے عملی آمادگی کا مظاہرہ کریں۔ جب داد خواہان کو ان کی جائز شکایات کے ازالے کی مخلصانہ کوشش کے بجائے سخت گیر ضابطہ جاتی سمیت کا سامنا کرنا پڑے تو نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد لازماً متاثر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے یہ مقدمہ ایک وسیع تر ادارہ جاتی تشویش کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی عدلیہ اب بھی مقدمات میں تاخیر، ضابطہ جاتی تحفظات کے غیر یکساں اطلاق، مقدمات کے بڑھتے ہوئے انبار اور دیانت داری و احتساب سے متعلق عوامی تصورات جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ اگرچہ بہت سے جج اپنی ذمہ داریاں پیشہ ورانہ مہارت اور آزادی کے ساتھ انجام دیتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ ادارہ ایسی تنقید کا سامنا کر رہا ہے جسے محض عوامی بدگمانی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کئی برسوں سے ہونے والے متعدد سرویز مسلسل یہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد بدستور کمزور ہے۔ یہ صورتِ حال عوام کی طرح عدلیہ کے لیے بھی باعثِ تشویش ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو صرف اس مخصوص مقدمے کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ عدالتی اختیار کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے کہ جہاں انصاف کا تقاضا ہو وہاں عدالتیں اپنے قانونی اختیارات استعمال کریں۔ محض اس وجہ سے کہ ضابطہ کار پر عمل کرنا مشکل یا غیر سہل محسوس ہوتا ہے، کسی واضح غلطی کو درست کرنے سے انکار کرنا نہ صرف انصاف بلکہ عوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی قدر اہم سپریم کورٹ کا یہ زور دینا بھی ہے کہ اس مقدمے کو بروقت نمٹایا جائے۔ یہ اصول عرصۂ دراز سے تسلیم شدہ ہے کہ تاخیر سے ملنے والا انصاف درحقیقت انصاف سے محرومی کے مترادف ہے، خصوصاً فوجداری مقدمات میں جہاں متاثرین، گواہان اور ملزمان سبھی طویل قانونی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں۔ ٹرائل کورٹ کو پندرہ ورکنگ دنوں کے اندر ویڈیو کی تصدیق کا عمل مکمل کرنے اور اس کے بعد مقدمہ نمٹانے کی ہدایت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ضابطہ جاتی انصاف اور عدالتی کارکردگی کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدلیہ آئینی ڈھانچے میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہ بنیادی حقوق کی آخری محافظ اور قانونی تنازعات کا حتمی فیصلہ کرنے والا ادارہ ہے۔ اس کردار کا تقاضا صرف بیرونی دباؤ سے آزادی نہیں بلکہ اپنے داخلی عدالتی طریقۂ کار میں بھی انصاف، شفافیت اور عملی عدل کے لیے غیر متزلزل وابستگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے اب ایک بار پھر اس اصول کو دہرایا ہے جو ہر معتبر قانونی نظام کی بنیاد میں موجود ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ اس اصول پر عدالتی درجہ بندی کے ہر مرحلے پر یکساں طور پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ عدالتوں کو اس سادہ مگر بنیادی حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ قانون انسانوں کے لیے بنایا گیا ہے، انسان قانون کے لیے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ کی یہ یاددہانی کہ ”ضابطہ جاتی قانون انسانی تکلیف کو آواز دینے کے لیے موجود ہے، اسے خاموش کرنے کے لیے نہیں“ کبھی ضروری نہیں ہونی چاہیے تھی۔</strong></p>
<p>تاہم یہ حقیقت کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو نچلی عدالتوں کی اس غلطی کی اصلاح کرنا پڑی کہ انہوں نے ایک گواہ کے بیان میں موجود واضح غلطیوں کو درست کرنے سے انکار کر دیا، پاکستان کے نظامِ انصاف میں موجود ایک گہرے مرض کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد عدالتوں کو انصاف کے ایک نہایت بنیادی اصول کی یاد دہانی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی: ضابطہ کار انصاف کو آسان بنانے کے لیے ہوتا ہے، اسے ناکام بنانے کے لیے نہیں۔</p>
<p>یہ مقدمہ خود اس مسئلے کو نہایت واضح انداز میں سامنے لاتا ہے۔ استغاثہ کی ایک گواہ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس کا بیان درست طور پر قلم بند نہیں کیا گیا، جس میں مبینہ جرم کی تاریخ بھی غلط درج ہوگئی تھی، لہٰذا اس نے اپنے ریکارڈ شدہ بیان میں موجود تضادات کی اصلاح کی درخواست کی۔</p>
<p>ضابطۂ فوجداری کے تحت دستیاب اختیارات استعمال کرتے ہوئے ویڈیو ریکارڈنگ کی تصدیق کرنے اور کسی بھی غلطی کو درست کرنے کے بجائے، ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ دونوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے بجا طور پر قرار دیا کہ یہ اقدام غیر قانونی تھا، دونوں عدالتوں کے احکامات کالعدم قرار دیے اور ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ وہی کارروائی انجام دے جو ابتدا ہی میں کی جانی چاہیے تھی۔</p>
<p>سپریم کورٹ کی جانب سے دوبارہ واضح کیا گیا قانونی اصول نہ تو کوئی نیا ہے اور نہ ہی متنازع۔</p>
<p>عدالتیں منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنے کے لیے قائم کی جاتی ہیں۔ ضابطہ جاتی قواعد ناگزیر ہیں کیونکہ وہ منصفانہ قانونی عمل کا تحفظ کرتے ہیں، تمام فریقین کے حقوق کی حفاظت کرتے ہیں اور عدالتی کارروائی میں یکسانیت کو یقینی بناتے ہیں۔ ان قواعد کا مقصد کبھی بھی یہ نہیں تھا کہ وہ عدالتوں کے لیے ایسی رکاوٹ بن جائیں جو مقدمے کی شفافیت کو متاثر کرنے والی واضح غلطیوں کی اصلاح سے انہیں روک دیں۔ جو نظامِ انصاف حد سے زیادہ تکنیکی نکات میں الجھ جائے، وہ اپنے اصل مقصد سے دور ہو جانے کا خطرہ مول لیتا ہے۔</p>
<p>یہی تصور انصاف کے انتظام سے وابستہ ایک قدیم ترین اصول میں بھی جھلکتا ہے کہ ”انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔“ عوام کا اعتماد صرف درست قانونی فیصلوں پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ عدالتیں عدالتی عمل کے ہر مرحلے پر انصاف کو یقینی بنانے کے لیے عملی آمادگی کا مظاہرہ کریں۔ جب داد خواہان کو ان کی جائز شکایات کے ازالے کی مخلصانہ کوشش کے بجائے سخت گیر ضابطہ جاتی سمیت کا سامنا کرنا پڑے تو نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد لازماً متاثر ہوتا ہے۔</p>
<p>بدقسمتی سے یہ مقدمہ ایک وسیع تر ادارہ جاتی تشویش کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی عدلیہ اب بھی مقدمات میں تاخیر، ضابطہ جاتی تحفظات کے غیر یکساں اطلاق، مقدمات کے بڑھتے ہوئے انبار اور دیانت داری و احتساب سے متعلق عوامی تصورات جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ اگرچہ بہت سے جج اپنی ذمہ داریاں پیشہ ورانہ مہارت اور آزادی کے ساتھ انجام دیتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ ادارہ ایسی تنقید کا سامنا کر رہا ہے جسے محض عوامی بدگمانی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کئی برسوں سے ہونے والے متعدد سرویز مسلسل یہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد بدستور کمزور ہے۔ یہ صورتِ حال عوام کی طرح عدلیہ کے لیے بھی باعثِ تشویش ہونی چاہیے۔</p>
<p>اسی لیے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو صرف اس مخصوص مقدمے کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ عدالتی اختیار کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے کہ جہاں انصاف کا تقاضا ہو وہاں عدالتیں اپنے قانونی اختیارات استعمال کریں۔ محض اس وجہ سے کہ ضابطہ کار پر عمل کرنا مشکل یا غیر سہل محسوس ہوتا ہے، کسی واضح غلطی کو درست کرنے سے انکار کرنا نہ صرف انصاف بلکہ عوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔</p>
<p>اسی قدر اہم سپریم کورٹ کا یہ زور دینا بھی ہے کہ اس مقدمے کو بروقت نمٹایا جائے۔ یہ اصول عرصۂ دراز سے تسلیم شدہ ہے کہ تاخیر سے ملنے والا انصاف درحقیقت انصاف سے محرومی کے مترادف ہے، خصوصاً فوجداری مقدمات میں جہاں متاثرین، گواہان اور ملزمان سبھی طویل قانونی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں۔ ٹرائل کورٹ کو پندرہ ورکنگ دنوں کے اندر ویڈیو کی تصدیق کا عمل مکمل کرنے اور اس کے بعد مقدمہ نمٹانے کی ہدایت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ضابطہ جاتی انصاف اور عدالتی کارکردگی کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔</p>
<p>عدلیہ آئینی ڈھانچے میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہ بنیادی حقوق کی آخری محافظ اور قانونی تنازعات کا حتمی فیصلہ کرنے والا ادارہ ہے۔ اس کردار کا تقاضا صرف بیرونی دباؤ سے آزادی نہیں بلکہ اپنے داخلی عدالتی طریقۂ کار میں بھی انصاف، شفافیت اور عملی عدل کے لیے غیر متزلزل وابستگی ہے۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے اب ایک بار پھر اس اصول کو دہرایا ہے جو ہر معتبر قانونی نظام کی بنیاد میں موجود ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ اس اصول پر عدالتی درجہ بندی کے ہر مرحلے پر یکساں طور پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ عدالتوں کو اس سادہ مگر بنیادی حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ قانون انسانوں کے لیے بنایا گیا ہے، انسان قانون کے لیے نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288832</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 09:55:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/1709540223ef708.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/1709540223ef708.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
