<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 11:16:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Jul 2026 11:16:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی بی ایس کے اعداد و شمار نے حکومت کے ریکارڈ سی فوڈ برآمدات کے دعوے کی تردید کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288830/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے جاری کردہ سرکاری تجارتی اعداد و شمار نے وفاقی حکومت کے ریکارڈ سمندری خوراک (سی فوڈ) برآمدات کے دعوے سے مختلف تصویر پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان نے سی فوڈ برآمدات سے 482.078 ملین ڈالر حاصل کیے، جبکہ وزارتِ بحری امور نے اس سے قبل 568 ملین ڈالر کی ریکارڈ برآمدات کا اعلان کیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 86 ملین ڈالر کے اس فرق نے ماہی گیری کی صنعت میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ برآمد کنندگان اور سابق حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ عوامی اعلانات صرف تصدیق شدہ تجارتی اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے جانے چاہییں، جس کے لیے میرین فشریز ڈپارٹمنٹ (ایم ایف ڈی) اور پاکستان بیورو آف شماریات کے درمیان بہتر رابطہ ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے جب 568 ملین ڈالر کی ریکارڈ برآمدات کا اعلان کیا تو اسے حکومت کی بلیو اکانومی اصلاحات اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔ بعد ازاں میرین فشریز ڈپارٹمنٹ نے بھی اس کامیابی کا سہرا وزارت کی اصلاحات اور چین، تھائی لینڈ، ویتنام، جاپان، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا، سعودی عرب، یورپی یونین اور امریکا کو برآمدات میں اضافے کے سر باندھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پی بی ایس کے حتمی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان نے 215,170.296 میٹرک ٹن مچھلی اور مچھلی سے تیار مصنوعات برآمد کیں، جن کی مالیت 482.078 ملین ڈالر رہی۔ گزشتہ مالی سال میں 216,482 میٹرک ٹن برآمدات سے 465.4 ملین ڈالر حاصل ہوئے تھے۔ اس طرح برآمدی آمدن میں تقریباً 4 فیصد اضافہ جبکہ برآمدی حجم میں تقریباً 1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2026 میں سی فوڈ برآمدات 15,770 میٹرک ٹن رہیں، جن کی مالیت تقریباً 36.7 ملین ڈالر تھی، جبکہ مئی میں یہ 51.9 ملین ڈالر اور جون 2025 میں تقریباً 38 ملین ڈالر تھی۔ مئی کے مقابلے میں جون میں برآمدی مقدار میں 33.61 فیصد اور مالیت میں 29.10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق ڈائریکٹر جنرل میرین فشریز ڈپارٹمنٹ اسرار پٹھان کے مطابق یہ فرق اعداد و شمار مرتب کرنے کے مختلف طریقہ کار کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول ایم ایف ڈی کے اعداد و شمار برآمدی سرٹیفکیٹس پر مبنی ہوتے ہیں، جو مجوزہ برآمدات ظاہر کرتے ہیں، جبکہ پی بی ایس صرف مکمل ہونے والی تجارتی ترسیلات کو شمار کرتا ہے، اس لیے حتمی اور مستند اعداد و شمار کا اختیار اسی کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ماہی گیری کا شعبہ لاکھوں افراد کے روزگار اور ساحلی معیشت کے لیے اہم ہے، اس لیے سرکاری اعداد و شمار میں ہم آہنگی اور شفافیت ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق 482.078 ملین ڈالر کی تصدیق شدہ برآمدات بھی مشکل حالات میں حقیقی پیش رفت کی عکاس ہیں اور اس کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے بجائے درست اعداد و شمار جاری کرنا پاکستان کی عالمی ساکھ اور مستقبل کی برآمدی منصوبہ بندی کے لیے زیادہ مفید ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے جاری کردہ سرکاری تجارتی اعداد و شمار نے وفاقی حکومت کے ریکارڈ سمندری خوراک (سی فوڈ) برآمدات کے دعوے سے مختلف تصویر پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان نے سی فوڈ برآمدات سے 482.078 ملین ڈالر حاصل کیے، جبکہ وزارتِ بحری امور نے اس سے قبل 568 ملین ڈالر کی ریکارڈ برآمدات کا اعلان کیا تھا۔</strong></p>
<p>تقریباً 86 ملین ڈالر کے اس فرق نے ماہی گیری کی صنعت میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ برآمد کنندگان اور سابق حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ عوامی اعلانات صرف تصدیق شدہ تجارتی اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے جانے چاہییں، جس کے لیے میرین فشریز ڈپارٹمنٹ (ایم ایف ڈی) اور پاکستان بیورو آف شماریات کے درمیان بہتر رابطہ ناگزیر ہے۔</p>
<p>وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے جب 568 ملین ڈالر کی ریکارڈ برآمدات کا اعلان کیا تو اسے حکومت کی بلیو اکانومی اصلاحات اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔ بعد ازاں میرین فشریز ڈپارٹمنٹ نے بھی اس کامیابی کا سہرا وزارت کی اصلاحات اور چین، تھائی لینڈ، ویتنام، جاپان، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا، سعودی عرب، یورپی یونین اور امریکا کو برآمدات میں اضافے کے سر باندھا۔</p>
<p>تاہم پی بی ایس کے حتمی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان نے 215,170.296 میٹرک ٹن مچھلی اور مچھلی سے تیار مصنوعات برآمد کیں، جن کی مالیت 482.078 ملین ڈالر رہی۔ گزشتہ مالی سال میں 216,482 میٹرک ٹن برآمدات سے 465.4 ملین ڈالر حاصل ہوئے تھے۔ اس طرح برآمدی آمدن میں تقریباً 4 فیصد اضافہ جبکہ برآمدی حجم میں تقریباً 1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>جون 2026 میں سی فوڈ برآمدات 15,770 میٹرک ٹن رہیں، جن کی مالیت تقریباً 36.7 ملین ڈالر تھی، جبکہ مئی میں یہ 51.9 ملین ڈالر اور جون 2025 میں تقریباً 38 ملین ڈالر تھی۔ مئی کے مقابلے میں جون میں برآمدی مقدار میں 33.61 فیصد اور مالیت میں 29.10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>سابق ڈائریکٹر جنرل میرین فشریز ڈپارٹمنٹ اسرار پٹھان کے مطابق یہ فرق اعداد و شمار مرتب کرنے کے مختلف طریقہ کار کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول ایم ایف ڈی کے اعداد و شمار برآمدی سرٹیفکیٹس پر مبنی ہوتے ہیں، جو مجوزہ برآمدات ظاہر کرتے ہیں، جبکہ پی بی ایس صرف مکمل ہونے والی تجارتی ترسیلات کو شمار کرتا ہے، اس لیے حتمی اور مستند اعداد و شمار کا اختیار اسی کے پاس ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ماہی گیری کا شعبہ لاکھوں افراد کے روزگار اور ساحلی معیشت کے لیے اہم ہے، اس لیے سرکاری اعداد و شمار میں ہم آہنگی اور شفافیت ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق 482.078 ملین ڈالر کی تصدیق شدہ برآمدات بھی مشکل حالات میں حقیقی پیش رفت کی عکاس ہیں اور اس کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے بجائے درست اعداد و شمار جاری کرنا پاکستان کی عالمی ساکھ اور مستقبل کی برآمدی منصوبہ بندی کے لیے زیادہ مفید ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288830</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 09:32:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/170930051be12cd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/170930051be12cd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
