<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 03:54:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Jul 2026 03:54:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ نے طلبہ اور صحافیوں کے ویزوں کی مدت محدود کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288818/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعرات کو ایسے قواعد کو حتمی شکل دے دی جن کے تحت غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے امریکہ میں قیام کی مدت پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ یہ اقدام ملک میں قانونی امیگریشن کو مزید سخت بنانے کی تازہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر سے نافذ کیے جانے والے نئے قواعد کے تحت طالب علم ویزے پر آنے والے غیر ملکیوں کو ان کے تعلیمی پروگرام کی مدت کے مطابق، تاہم زیادہ سے زیادہ چار سال تک امریکہ میں قیام کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی صحافیوں کے قیام کی مدت 240 دن (تقریباً آٹھ ماہ) تک محدود ہوگی، البتہ وہ ہر بار مزید 240 دن کی توسیع کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ تاہم چینی صحافیوں کو صرف 90 دن کے قیام کی اجازت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس وسیع تر امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے جسے انہوں نے اپنی صدارت کا مرکزی نکتہ بنایا ہے۔ اس پالیسی میں بڑے شہروں میں سخت امیگریشن کارروائیاں اور قانونی شہریت کے راستوں پر نئی پابندیاں بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) کو اگست 2025 میں طلبہ اور صحافیوں سے متعلق مجوزہ قواعد پر تقریباً 22 ہزار عوامی آراء موصول ہوئیں، تاہم محکمے نے انہیں تقریباً بغیر کسی تبدیلی کے حتمی شکل دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قواعد تجویز کرتے وقت ڈی ایچ ایس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بعض غیر ملکی طلبہ اپنی تعلیم کا سلسلہ غیر معینہ مدت تک بڑھاتے رہتے ہیں تاکہ وہ ”ہمیشہ طالب علم“ بن کر امریکہ میں قیام جاری رکھ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمے کے مطابق 1970 کی دہائی کے اواخر سے رائج غیر معینہ مدت کے اس نظام نے ویزا ہولڈرز کی مؤثر نگرانی کی صلاحیت کو متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023-24 کے تعلیمی سال میں امریکہ نے 11 لاکھ سے زائد بین الاقوامی طلبہ کا خیرمقدم کیا، جو دنیا میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہیں۔ ان طلبہ کی بدولت 2023 میں امریکی معیشت کو 50 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی فائدہ پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تنظیموں نے اس تجویز کو غیر ضروری دفتری پیچیدگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے باصلاحیت طلبہ امریکہ آنے سے گریز کریں گے۔ پریزیڈنٹس الائنس آن ہائر ایجوکیشن اینڈ امیگریشن نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے امریکی جامعات کی بہترین عالمی صلاحیتوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعات پہلے ہی ٹرمپ انتظامیہ کے سابقہ اقدامات، جن میں ہزاروں طلبہ کے ویزوں کی منسوخی اور وفاقی تحقیقی فنڈز کی اربوں ڈالر مالیت کی معطلی شامل ہے، کے بعد بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں میں کمی کی اطلاع دے چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا اداروں اور دیگر بین الاقوامی فریقوں، جن میں جاپان کا سفارت خانہ بھی شامل ہے، نے ڈی ایچ ایس پر زور دیا کہ امریکہ میں تعینات غیر ملکی نامہ نگاروں کو دو سے پانچ سال تک قیام کی اجازت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم محکمۂ داخلی سلامتی نے صحافیوں کے لیے درخواستوں پر تیز رفتار کارروائی، محدود فیس اور طویل مدت کے قیام سے متعلق تمام تجاویز مسترد کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے اختتام پر بھی اسی نوعیت کی پابندیاں تجویز کی تھیں، تاہم ان کے جانشین جو بائیڈن نے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ منصوبہ ختم کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نیا ضابطہ اب ریپبلکن اکثریت والی امریکی کانگریس کے جائزے سے بھی گزرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعرات کو ایسے قواعد کو حتمی شکل دے دی جن کے تحت غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے امریکہ میں قیام کی مدت پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ یہ اقدام ملک میں قانونی امیگریشن کو مزید سخت بنانے کی تازہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>ستمبر سے نافذ کیے جانے والے نئے قواعد کے تحت طالب علم ویزے پر آنے والے غیر ملکیوں کو ان کے تعلیمی پروگرام کی مدت کے مطابق، تاہم زیادہ سے زیادہ چار سال تک امریکہ میں قیام کی اجازت ہوگی۔</p>
<p>غیر ملکی صحافیوں کے قیام کی مدت 240 دن (تقریباً آٹھ ماہ) تک محدود ہوگی، البتہ وہ ہر بار مزید 240 دن کی توسیع کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ تاہم چینی صحافیوں کو صرف 90 دن کے قیام کی اجازت دی جائے گی۔</p>
<p>یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس وسیع تر امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے جسے انہوں نے اپنی صدارت کا مرکزی نکتہ بنایا ہے۔ اس پالیسی میں بڑے شہروں میں سخت امیگریشن کارروائیاں اور قانونی شہریت کے راستوں پر نئی پابندیاں بھی شامل ہیں۔</p>
<p>امریکی محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) کو اگست 2025 میں طلبہ اور صحافیوں سے متعلق مجوزہ قواعد پر تقریباً 22 ہزار عوامی آراء موصول ہوئیں، تاہم محکمے نے انہیں تقریباً بغیر کسی تبدیلی کے حتمی شکل دے دی۔</p>
<p>قواعد تجویز کرتے وقت ڈی ایچ ایس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بعض غیر ملکی طلبہ اپنی تعلیم کا سلسلہ غیر معینہ مدت تک بڑھاتے رہتے ہیں تاکہ وہ ”ہمیشہ طالب علم“ بن کر امریکہ میں قیام جاری رکھ سکیں۔</p>
<p>محکمے کے مطابق 1970 کی دہائی کے اواخر سے رائج غیر معینہ مدت کے اس نظام نے ویزا ہولڈرز کی مؤثر نگرانی کی صلاحیت کو متاثر کیا۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023-24 کے تعلیمی سال میں امریکہ نے 11 لاکھ سے زائد بین الاقوامی طلبہ کا خیرمقدم کیا، جو دنیا میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہیں۔ ان طلبہ کی بدولت 2023 میں امریکی معیشت کو 50 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی فائدہ پہنچا۔</p>
<p>اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تنظیموں نے اس تجویز کو غیر ضروری دفتری پیچیدگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے باصلاحیت طلبہ امریکہ آنے سے گریز کریں گے۔ پریزیڈنٹس الائنس آن ہائر ایجوکیشن اینڈ امیگریشن نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے امریکی جامعات کی بہترین عالمی صلاحیتوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہوگی۔</p>
<p>جامعات پہلے ہی ٹرمپ انتظامیہ کے سابقہ اقدامات، جن میں ہزاروں طلبہ کے ویزوں کی منسوخی اور وفاقی تحقیقی فنڈز کی اربوں ڈالر مالیت کی معطلی شامل ہے، کے بعد بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں میں کمی کی اطلاع دے چکی ہیں۔</p>
<p>میڈیا اداروں اور دیگر بین الاقوامی فریقوں، جن میں جاپان کا سفارت خانہ بھی شامل ہے، نے ڈی ایچ ایس پر زور دیا کہ امریکہ میں تعینات غیر ملکی نامہ نگاروں کو دو سے پانچ سال تک قیام کی اجازت دی جائے۔</p>
<p>تاہم محکمۂ داخلی سلامتی نے صحافیوں کے لیے درخواستوں پر تیز رفتار کارروائی، محدود فیس اور طویل مدت کے قیام سے متعلق تمام تجاویز مسترد کر دیں۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے اختتام پر بھی اسی نوعیت کی پابندیاں تجویز کی تھیں، تاہم ان کے جانشین جو بائیڈن نے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ منصوبہ ختم کر دیا تھا۔</p>
<p>یہ نیا ضابطہ اب ریپبلکن اکثریت والی امریکی کانگریس کے جائزے سے بھی گزرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288818</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 22:24:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/162216050dce377.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/162216050dce377.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
