<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 00:50:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Jul 2026 00:50:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے اپنے جہاز رانوں کو آبنائے ہرمز کے سفر سے گریز کی ہدایت کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288813/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت نے خطے میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے پیشِ نظر جہاز مالکان، جہازوں کا انتظام سنبھالنے والی کمپنیوں اور بھرتی کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھارتی جہاز رانوں کو تعینات نہ کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت دنیا میں جہاز ران فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے، جہاں سے 3 لاکھ سے زائد جہاز ران عالمی بحری بیڑوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے بدھ کی شب جاری کردہ حکم نامے میں کہا ہے، ”آئندہ احکامات تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری سفر پر روانہ ہونے والے جہازوں پر کسی بھی بھارتی جہاز ران کو تعینات نہ کیا جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران گزشتہ تین روز میں خطے میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں میں دو بھارتی جہاز ران ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اس سے قبل بھی متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے بحری جہاز رانی کے نگران ادارے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے باعث تنازع سے متاثرہ علاقے میں کام کرنے والے جہاز رانوں اور تجارتی بحری جہازوں کو درپیش خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے میں کہا گیا ہے، ”خلیج فارس میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر ڈائریکٹوریٹ نے ضروری سمجھا ہے کہ خطے میں خدمات انجام دینے والے بھارتی جہاز رانوں کے مفادات اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزید احتیاطی اقدامات اختیار کیے جائیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے میں بحری جہازوں کے کپتانوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور ملحقہ سمندری علاقوں کی سکیورٹی صورتحال پر مسلسل کڑی نظر رکھیں، جبکہ بحری جہاز رانی سے متعلق جاری ہونے والی حفاظتی وارننگز کی مسلسل نگرانی بھی یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی نے منگل کو پیش آنے والے ایک واقعے میں بھارتی جہاز ران کی ہلاکت پر ایران کے نائب سفیر کو طلب کرکے سخت احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈ سی مینز یونین آف انڈیا کے جنرل سیکریٹری منوج یادو کے مطابق اس وقت بھی 15 ہزار سے زائد بھارتی جہاز ران آبنائے ہرمز کے مغربی جانب مختلف بحری جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منوج یادو نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ہم نئے بحری عملے کو ان علاقوں میں بھیجنے سے تو روک سکتے ہیں، لیکن ان ہزاروں جہاز رانوں کا کیا ہوگا جو اب بھی ان خطرناک سمندری علاقوں میں اپنی جانوں کو لاحق خطرات کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں؟ حکومت انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے؟“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت نے خطے میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے پیشِ نظر جہاز مالکان، جہازوں کا انتظام سنبھالنے والی کمپنیوں اور بھرتی کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھارتی جہاز رانوں کو تعینات نہ کریں۔</strong></p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت دنیا میں جہاز ران فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے، جہاں سے 3 لاکھ سے زائد جہاز ران عالمی بحری بیڑوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p>ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے بدھ کی شب جاری کردہ حکم نامے میں کہا ہے، ”آئندہ احکامات تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری سفر پر روانہ ہونے والے جہازوں پر کسی بھی بھارتی جہاز ران کو تعینات نہ کیا جائے۔“</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران گزشتہ تین روز میں خطے میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں میں دو بھارتی جہاز ران ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اس سے قبل بھی متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔</p>
<p>بھارت کے بحری جہاز رانی کے نگران ادارے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے باعث تنازع سے متاثرہ علاقے میں کام کرنے والے جہاز رانوں اور تجارتی بحری جہازوں کو درپیش خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>حکم نامے میں کہا گیا ہے، ”خلیج فارس میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر ڈائریکٹوریٹ نے ضروری سمجھا ہے کہ خطے میں خدمات انجام دینے والے بھارتی جہاز رانوں کے مفادات اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزید احتیاطی اقدامات اختیار کیے جائیں۔“</p>
<p>حکم نامے میں بحری جہازوں کے کپتانوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور ملحقہ سمندری علاقوں کی سکیورٹی صورتحال پر مسلسل کڑی نظر رکھیں، جبکہ بحری جہاز رانی سے متعلق جاری ہونے والی حفاظتی وارننگز کی مسلسل نگرانی بھی یقینی بنائیں۔</p>
<p>نئی دہلی نے منگل کو پیش آنے والے ایک واقعے میں بھارتی جہاز ران کی ہلاکت پر ایران کے نائب سفیر کو طلب کرکے سخت احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔</p>
<p>فارورڈ سی مینز یونین آف انڈیا کے جنرل سیکریٹری منوج یادو کے مطابق اس وقت بھی 15 ہزار سے زائد بھارتی جہاز ران آبنائے ہرمز کے مغربی جانب مختلف بحری جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔</p>
<p>منوج یادو نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ہم نئے بحری عملے کو ان علاقوں میں بھیجنے سے تو روک سکتے ہیں، لیکن ان ہزاروں جہاز رانوں کا کیا ہوگا جو اب بھی ان خطرناک سمندری علاقوں میں اپنی جانوں کو لاحق خطرات کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں؟ حکومت انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے؟“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288813</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 20:32:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/16202300b3851a9.webp" type="image/webp" medium="image" height="1065" width="1920">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/16202300b3851a9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
