<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Perspectives</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 16:02:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Jul 2026 16:02:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا مصنوعی ذہانت پاکستان میں انشورنس کوریج بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288792/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کئی دہائیوں سے انشورنس (بیمہ کاری) کی صنعت ترقی پذیر دنیا کے اربوں غیر محفوظ لوگوں تک پہنچنے کی کوششوں میں ناکام رہی ہے۔ اس کی وجہ کبھی بھی پالیسیوں کا ڈیزائن یا ان کی قیمت نہیں تھی بلکہ اصل رکاوٹ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں سے براہِ راست رابطہ اور گفتگو کا ناممکن ہونا تھا مگر اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) نے شاید یہ دیرینہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سمیت پوری ترقی پذیر دنیا میں ہر سال لاکھوں چھوٹے کاروباری حضرات، کسان اور محنت کش خاندان ایسے مالیاتی جھٹکوں کا شکار ہوتے ہیں جنہیں انشورنس کے ذریعے روکا جا سکتا تھا۔ کبھی سیلاب فصل تباہ کر دیتا ہے  تو کبھی کوئی بیماری خاندان کی عمر بھر کی جمع پونجی نگل جاتی ہے۔ کسی حادثاتی آگ کے نتیجے میں نسلوں سے کھڑا کیا گیا کاروبار لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر ایسے واقعے میں نقصان صرف حادثے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے بعد کے حالات اسے مزید سنگین بنا دیتے ہیں؛ جیسے بھاری سود پر قرضے لینا، بچوں کو اسکول سے اٹھا لینا اور سالہا سال کی محنت کا ضائع ہو جانا۔ یہ محض انفرادی سانحات نہیں ہیں بلکہ یہ اس فرسودہ نظام کا منطقی نتیجہ ہیں جو ان لوگوں تک پہنچنے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ایسا اس لیے نہیں کہ انشورنس کی سہولت موجود نہیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ کبھی کسی نے ان غریب طبقوں سے نقصان کے تحفظ کے موضوع پر ڈھنگ سے بات ہی نہیں کی۔یہ تضاد انتہائی واضح ہے۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک کے معاشی ڈھانچے میں انشورنس گہرائی تک سرایت کر چکی ہے، وہیں ترقی پذیر ممالک کی اکثریت اس سہولت سے محروم ہے۔ امیر ممالک میں انشورنس کا حجم ان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 7 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہے، جو پورے ایشیا میں سب سے کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں یہ شرح 4 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس خلیج کا نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں خاندان اور کاروبار کسی بھی ناگہانی آفت کے سامنے بالکل بے یارومددگار رہ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں انشورنس کی اس کم رسائی کا ذمہ دار عام طور پر غربت، مالیاتی شعور کی کمی اور روایتی یا مذہبی ہچکچاہٹ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ عوامل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن یہ اصل رکاوٹ نہیں ہیں۔ اصل  مسئلہ جس کا انشورنس کمپنیوں نے کبھی ایمانداری سے اعتراف نہیں کیا وہ انشورنس کو لوگوں تک پہنچانے کا ناقص نظام اور رسائی کی کمی ہے۔انشورنس دیگر مالیاتی مصنوعات (جیسے بینک اکاؤنٹ وغیرہ) سے بالکل مختلف ہے۔ گاہک اس کے بارے میں سوالات پوچھتے ہیں۔ وہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ پالیسی میں کیا شامل ہے اور کیا نہیں، کلیم (رقم کی واپسی) کی صورت میں کیا ہوگا اور وہ اپنی محنت کی کمائی کسی ایسے ادارے کے سپرد کیوں کریں جس پر انہیں بھروسہ نہیں ہے۔ ان تمام سوالات کے لیے انتہائی صبر اور مہارت سے جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس توجہ اور رہنمائی پر اخراجات آتے ہیں۔ کم آمدنی والے کروڑوں صارفین تک پہنچنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں انسانی مشیروں (ایجنٹس) کو ملازمت پر رکھنا معاشی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں انشورنس کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کی تعداد ان لوگوں کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے جنہیں اس سروس کی ضرورت ہے۔ شہروں کے متوسط طبقے کے لیے بنایا گیا یہ روایتی نظام دیہی علاقوں، دیہاڑی دار مزدوروں اور چھوٹے کاروباروں تک پہنچتے ہی مکمل طور پر ناکام ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً یہ صنعت دہائیوں سے اس مسئلے سے واقف ہونے کے باوجود اسے حل کرنے سے قاصر رہی ہے۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو بڑے پیمانے پر اس صورتحال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے  اور اس کے اثرات صرف انشورنس تک محدود نہیں رہیں گے۔ مصنوعی ذہانت کا اصل کمال دفتری کاموں کو خودکار بنانا یا کال سینٹر کے عملے کو تبدیل کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل فائدہ اس رسائی کے مسئلے کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;اب پہلی بار کوئی بھی انشورنس کمپنی یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایک بہترین تربیت یافتہ  اے آئی ایجنٹ  تعینات کر سکتا ہے، جو مقامی زبانوں میں دن رات کے کسی بھی حصے میں بیک وقت ہزاروں صارفین سے گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی لاگت اتنی کم ہے کہ معمولی پریمیم (قسط) دینے والے غریب گاہکوں کو سروس فراہم کرنا بھی کمپنیوں کے لیے منافع بخش بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام عام خودکار چیٹ بوٹس کی طرح نہیں ہیں جو صرف چند طے شدہ آپشنز دیتے ہیں۔ جدید ترین زبانیں سمجھنے والے یہ  اے آئی مشیر انشورنس کے دائرہ کار کے بارے میں مخصوص سوالات کے جواب دے سکتے ہیں، پالیسی کی شرائط آسان زبان میں سمجھا سکتے ہیں، کلیم کا طریقہ کار واضح کر سکتے ہیں اور اسمارٹ فون پر ایک ہی گفتگو کے دوران پالیسی کی خرید و فروخت کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں اسمارٹ فونز کا استعمال تیزی سے پھیل رہا ہے مگر انشورنس کی شرح انتہائی کم ہے یہ ٹیکنالوجی انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔پاکستان جیسے کم انشورنس والے ملک میں مصنوعی ذہانت کے ابتدائی تجربات نے اس کے شاندار امکانات کو ثابت کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس ماڈل کا پاکستان کے ایک شرعی ڈیجیٹل انشورنس پلیٹ فارم  تکافل بازار پر کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ ان ابتدائی نتائج سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ نفاذ کے چند ہی مہینوں میں اس اے آئی ایجنٹ نے نہ صرف صارفین کو تکافل کی مصنوعات کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور ان کے خدشات دور کیے، بلکہ بغیر کسی انسانی مداخلت کے ان گفتگو کو گاڑی اور صحت کی انشورنس کی براہِ راست خریداری میں تبدیل کر دیا۔ ان نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ اگر صارفین کو بھروسہ، آسان رسائی اور سستی انشورنس فراہم کی جائے تو اس کی مانگ توقع سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ انشورنس کی کم شرح کا تعلق مانگ کی کمی سے نہیں، بلکہ رسائی کے فقدان سے ہے۔ انشورنس کمپنیوں کے پاس لوگوں کے گھروں تک پہنچنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو انشورنس کی شرح میں اضافہ صرف خاندانوں کا ہی تحفظ نہیں کرتا، بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط بناتا ہے، قدرتی آفات کے بعد حکومت پر بوجھ کم کرتا ہے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ جن ممالک میں انشورنس کا نظام مضبوط ہوتا ہے وہ معاشی بحرانوں کا مقابلہ زیادہ بہتر طریقے سے کرتے ہیں اور جلد سنبھل جاتے ہیں۔تاہم موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کی اپنی حدود بھی ہیں جنہیں تسلیم کرنا ضروری ہے۔ پیچیدہ تجارتی خطرات، بڑی لائف انشورنس پالیسیاں اور متنازع کلیمز کے معاملات میں اب بھی تجربہ کار انسانی ماہرین کے فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے جس کا کوئی بھی کمپیوٹر سسٹم متبادل نہیں ہوسکتا۔ مصنوعی ذہانت بنیادی طور پر صحت، گاڑی، سفر اور حادثاتی انشورنس جیسی ذاتی اور سادہ پالیسیوں کے لیے بہترین ہے۔ اگر اس نظام کو بغیر کسی نگرانی کے لاپروائی سے استعمال کیا جائے تو صارفین کو غلط مصنوعات بیچنے اور نقصان پہنچانے کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، جو خاص طور پر پاکستان جیسی مارکیٹوں کے لیے نقصان دہ ہوگا جہاں پہلے ہی اداروں پر عوامی اعتماد کمزور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں نگران اداروں (ریگولیٹرز) کا کردار انتہائی اہم ہے۔ جیسے جیسے اے آئی کے ذریعے انشورنس کی فروخت بڑھے گی ویسے ہی شفافیت اور صارفین کے تحفظ کے لیے واضح قوانین کی ضرورت ہوگی۔ مقصد جدت کو روکنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ترقی کی دوڑ میں عام صارفین کے حقوق متاثر نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک کے لیے اے آئی محض موجودہ نظام کو بہتر نہیں بنائے گی بلکہ یہ اس نظام کو ہر فرد کی پہنچ میں لے آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں انشورنس کے شعبے کی اصلاحات کے لیے 70 کروڑ ڈالر کے قرضے کی منظوری دی ہے۔ یہ سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ انشورنس کو اب محض ایک ثانوی صنعت نہیں، بلکہ معاشی مضبوطی کا ایک اہم ستون تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اگر اس فنڈنگ کا ایک حصہ مصنوعی ذہانت پر مبنی فروخت، ڈیجیٹل پالیسی سازی اور عوامی شعور کے لیے مختص کیا جائے تو پاکستان روایتی طریقوں کی کئی دہائیوں کی مسافت کو چند سالوں میں طے کرکے دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے کامیاب ماڈل وہ نہیں ہوگا جہاں انسانوں کو بالکل ہٹا دیا جائے بلکہ وہ ہوگا جہاں انسانی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے جلا بخشی جائے۔ ایک ماہر انسانی ایجنٹ دن میں مشکل سے 20 لوگوں سے تفصیلی گفتگو کر سکتا ہے، جبکہ ایک اے آئی سسٹم بیک وقت ہزاروں لوگوں سے بات چیت کرکے صرف انتہائی پیچیدہ کیسز کو انسانی ماہرین کی طرف بھیج سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی رسائی کو ممکن بناتی ہے، جبکہ انسانی مہارت وہاں کام آتی ہے جہاں حتمی فیصلے کی ضرورت ہو۔انشورنس پاکستان میں معاشی تحفظ کا وہ ستون ہے جسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ صحت کی انشورنس رکھنے والے خاندان کسی طبی ہنگامی صورتحال کے بعد قرضوں کے دلدل میں پھنسنے سے بچ جاتے ہیں۔ چھوٹے کاروبار ناگہانی آفت کے بعد دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کسان موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے بے فکر ہو کر فصلوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور جب انشورنس نقصانات کا بوجھ خود اٹھاتی ہے تو حکومتوں پر مالی دباؤ کم  اور خاندان تباہی سے بچ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ غیر بیمہ شدہ آبادی تک پہنچنے کے لیے اب انسانوں کے نیٹ ورک کو پھیلانے کی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ وہ ماڈل بہت مہنگا تھا۔ مصنوعی ذہانت نے ایک حقیقت واضح کر دی ہے کہ شاید پاکستان جیسے ممالک میں انشورنس کی کم شرح کی وجہ غربت یا ثقافت نہیں تھی بلکہ یہ صرف ٹیکنالوجی کی ایک حد تھی جو اب ختم ہو چکی ہے۔ ماضی میں دنیا کے پاس اربوں لوگوں سے ان کے مالی تحفظ کے بارے میں سستے داموں گفتگو کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اے آئی اب صرف ایک سہولت نہیں  بلکہ وہ چابی ہے جو اس نظام کو ہر خاص و عام کے لیے ممکن بنا دے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کئی دہائیوں سے انشورنس (بیمہ کاری) کی صنعت ترقی پذیر دنیا کے اربوں غیر محفوظ لوگوں تک پہنچنے کی کوششوں میں ناکام رہی ہے۔ اس کی وجہ کبھی بھی پالیسیوں کا ڈیزائن یا ان کی قیمت نہیں تھی بلکہ اصل رکاوٹ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں سے براہِ راست رابطہ اور گفتگو کا ناممکن ہونا تھا مگر اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) نے شاید یہ دیرینہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان سمیت پوری ترقی پذیر دنیا میں ہر سال لاکھوں چھوٹے کاروباری حضرات، کسان اور محنت کش خاندان ایسے مالیاتی جھٹکوں کا شکار ہوتے ہیں جنہیں انشورنس کے ذریعے روکا جا سکتا تھا۔ کبھی سیلاب فصل تباہ کر دیتا ہے  تو کبھی کوئی بیماری خاندان کی عمر بھر کی جمع پونجی نگل جاتی ہے۔ کسی حادثاتی آگ کے نتیجے میں نسلوں سے کھڑا کیا گیا کاروبار لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے۔</p>
<p>ہر ایسے واقعے میں نقصان صرف حادثے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے بعد کے حالات اسے مزید سنگین بنا دیتے ہیں؛ جیسے بھاری سود پر قرضے لینا، بچوں کو اسکول سے اٹھا لینا اور سالہا سال کی محنت کا ضائع ہو جانا۔ یہ محض انفرادی سانحات نہیں ہیں بلکہ یہ اس فرسودہ نظام کا منطقی نتیجہ ہیں جو ان لوگوں تک پہنچنے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ایسا اس لیے نہیں کہ انشورنس کی سہولت موجود نہیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ کبھی کسی نے ان غریب طبقوں سے نقصان کے تحفظ کے موضوع پر ڈھنگ سے بات ہی نہیں کی۔یہ تضاد انتہائی واضح ہے۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک کے معاشی ڈھانچے میں انشورنس گہرائی تک سرایت کر چکی ہے، وہیں ترقی پذیر ممالک کی اکثریت اس سہولت سے محروم ہے۔ امیر ممالک میں انشورنس کا حجم ان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 7 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہے، جو پورے ایشیا میں سب سے کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں یہ شرح 4 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس خلیج کا نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں خاندان اور کاروبار کسی بھی ناگہانی آفت کے سامنے بالکل بے یارومددگار رہ جاتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں انشورنس کی اس کم رسائی کا ذمہ دار عام طور پر غربت، مالیاتی شعور کی کمی اور روایتی یا مذہبی ہچکچاہٹ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ عوامل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن یہ اصل رکاوٹ نہیں ہیں۔ اصل  مسئلہ جس کا انشورنس کمپنیوں نے کبھی ایمانداری سے اعتراف نہیں کیا وہ انشورنس کو لوگوں تک پہنچانے کا ناقص نظام اور رسائی کی کمی ہے۔انشورنس دیگر مالیاتی مصنوعات (جیسے بینک اکاؤنٹ وغیرہ) سے بالکل مختلف ہے۔ گاہک اس کے بارے میں سوالات پوچھتے ہیں۔ وہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ پالیسی میں کیا شامل ہے اور کیا نہیں، کلیم (رقم کی واپسی) کی صورت میں کیا ہوگا اور وہ اپنی محنت کی کمائی کسی ایسے ادارے کے سپرد کیوں کریں جس پر انہیں بھروسہ نہیں ہے۔ ان تمام سوالات کے لیے انتہائی صبر اور مہارت سے جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>اس توجہ اور رہنمائی پر اخراجات آتے ہیں۔ کم آمدنی والے کروڑوں صارفین تک پہنچنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں انسانی مشیروں (ایجنٹس) کو ملازمت پر رکھنا معاشی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں انشورنس کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کی تعداد ان لوگوں کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے جنہیں اس سروس کی ضرورت ہے۔ شہروں کے متوسط طبقے کے لیے بنایا گیا یہ روایتی نظام دیہی علاقوں، دیہاڑی دار مزدوروں اور چھوٹے کاروباروں تک پہنچتے ہی مکمل طور پر ناکام ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً یہ صنعت دہائیوں سے اس مسئلے سے واقف ہونے کے باوجود اسے حل کرنے سے قاصر رہی ہے۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو بڑے پیمانے پر اس صورتحال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے  اور اس کے اثرات صرف انشورنس تک محدود نہیں رہیں گے۔ مصنوعی ذہانت کا اصل کمال دفتری کاموں کو خودکار بنانا یا کال سینٹر کے عملے کو تبدیل کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل فائدہ اس رسائی کے مسئلے کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>اب پہلی بار کوئی بھی انشورنس کمپنی یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایک بہترین تربیت یافتہ  اے آئی ایجنٹ  تعینات کر سکتا ہے، جو مقامی زبانوں میں دن رات کے کسی بھی حصے میں بیک وقت ہزاروں صارفین سے گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی لاگت اتنی کم ہے کہ معمولی پریمیم (قسط) دینے والے غریب گاہکوں کو سروس فراہم کرنا بھی کمپنیوں کے لیے منافع بخش بن جاتا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>یہ نظام عام خودکار چیٹ بوٹس کی طرح نہیں ہیں جو صرف چند طے شدہ آپشنز دیتے ہیں۔ جدید ترین زبانیں سمجھنے والے یہ  اے آئی مشیر انشورنس کے دائرہ کار کے بارے میں مخصوص سوالات کے جواب دے سکتے ہیں، پالیسی کی شرائط آسان زبان میں سمجھا سکتے ہیں، کلیم کا طریقہ کار واضح کر سکتے ہیں اور اسمارٹ فون پر ایک ہی گفتگو کے دوران پالیسی کی خرید و فروخت کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں اسمارٹ فونز کا استعمال تیزی سے پھیل رہا ہے مگر انشورنس کی شرح انتہائی کم ہے یہ ٹیکنالوجی انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔پاکستان جیسے کم انشورنس والے ملک میں مصنوعی ذہانت کے ابتدائی تجربات نے اس کے شاندار امکانات کو ثابت کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس ماڈل کا پاکستان کے ایک شرعی ڈیجیٹل انشورنس پلیٹ فارم  تکافل بازار پر کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ ان ابتدائی نتائج سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ نفاذ کے چند ہی مہینوں میں اس اے آئی ایجنٹ نے نہ صرف صارفین کو تکافل کی مصنوعات کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور ان کے خدشات دور کیے، بلکہ بغیر کسی انسانی مداخلت کے ان گفتگو کو گاڑی اور صحت کی انشورنس کی براہِ راست خریداری میں تبدیل کر دیا۔ ان نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ اگر صارفین کو بھروسہ، آسان رسائی اور سستی انشورنس فراہم کی جائے تو اس کی مانگ توقع سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ انشورنس کی کم شرح کا تعلق مانگ کی کمی سے نہیں، بلکہ رسائی کے فقدان سے ہے۔ انشورنس کمپنیوں کے پاس لوگوں کے گھروں تک پہنچنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو انشورنس کی شرح میں اضافہ صرف خاندانوں کا ہی تحفظ نہیں کرتا، بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط بناتا ہے، قدرتی آفات کے بعد حکومت پر بوجھ کم کرتا ہے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ جن ممالک میں انشورنس کا نظام مضبوط ہوتا ہے وہ معاشی بحرانوں کا مقابلہ زیادہ بہتر طریقے سے کرتے ہیں اور جلد سنبھل جاتے ہیں۔تاہم موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کی اپنی حدود بھی ہیں جنہیں تسلیم کرنا ضروری ہے۔ پیچیدہ تجارتی خطرات، بڑی لائف انشورنس پالیسیاں اور متنازع کلیمز کے معاملات میں اب بھی تجربہ کار انسانی ماہرین کے فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے جس کا کوئی بھی کمپیوٹر سسٹم متبادل نہیں ہوسکتا۔ مصنوعی ذہانت بنیادی طور پر صحت، گاڑی، سفر اور حادثاتی انشورنس جیسی ذاتی اور سادہ پالیسیوں کے لیے بہترین ہے۔ اگر اس نظام کو بغیر کسی نگرانی کے لاپروائی سے استعمال کیا جائے تو صارفین کو غلط مصنوعات بیچنے اور نقصان پہنچانے کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، جو خاص طور پر پاکستان جیسی مارکیٹوں کے لیے نقصان دہ ہوگا جہاں پہلے ہی اداروں پر عوامی اعتماد کمزور ہے۔</p>
<p>اس سلسلے میں نگران اداروں (ریگولیٹرز) کا کردار انتہائی اہم ہے۔ جیسے جیسے اے آئی کے ذریعے انشورنس کی فروخت بڑھے گی ویسے ہی شفافیت اور صارفین کے تحفظ کے لیے واضح قوانین کی ضرورت ہوگی۔ مقصد جدت کو روکنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ترقی کی دوڑ میں عام صارفین کے حقوق متاثر نہ ہوں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>پاکستان جیسے ممالک کے لیے اے آئی محض موجودہ نظام کو بہتر نہیں بنائے گی بلکہ یہ اس نظام کو ہر فرد کی پہنچ میں لے آئے گی۔</p>
</blockquote>
<p>حال ہی میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں انشورنس کے شعبے کی اصلاحات کے لیے 70 کروڑ ڈالر کے قرضے کی منظوری دی ہے۔ یہ سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ انشورنس کو اب محض ایک ثانوی صنعت نہیں، بلکہ معاشی مضبوطی کا ایک اہم ستون تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اگر اس فنڈنگ کا ایک حصہ مصنوعی ذہانت پر مبنی فروخت، ڈیجیٹل پالیسی سازی اور عوامی شعور کے لیے مختص کیا جائے تو پاکستان روایتی طریقوں کی کئی دہائیوں کی مسافت کو چند سالوں میں طے کرکے دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔</p>
<p>سب سے کامیاب ماڈل وہ نہیں ہوگا جہاں انسانوں کو بالکل ہٹا دیا جائے بلکہ وہ ہوگا جہاں انسانی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے جلا بخشی جائے۔ ایک ماہر انسانی ایجنٹ دن میں مشکل سے 20 لوگوں سے تفصیلی گفتگو کر سکتا ہے، جبکہ ایک اے آئی سسٹم بیک وقت ہزاروں لوگوں سے بات چیت کرکے صرف انتہائی پیچیدہ کیسز کو انسانی ماہرین کی طرف بھیج سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی رسائی کو ممکن بناتی ہے، جبکہ انسانی مہارت وہاں کام آتی ہے جہاں حتمی فیصلے کی ضرورت ہو۔انشورنس پاکستان میں معاشی تحفظ کا وہ ستون ہے جسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ صحت کی انشورنس رکھنے والے خاندان کسی طبی ہنگامی صورتحال کے بعد قرضوں کے دلدل میں پھنسنے سے بچ جاتے ہیں۔ چھوٹے کاروبار ناگہانی آفت کے بعد دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کسان موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے بے فکر ہو کر فصلوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور جب انشورنس نقصانات کا بوجھ خود اٹھاتی ہے تو حکومتوں پر مالی دباؤ کم  اور خاندان تباہی سے بچ جاتے ہیں۔</p>
<p>تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ غیر بیمہ شدہ آبادی تک پہنچنے کے لیے اب انسانوں کے نیٹ ورک کو پھیلانے کی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ وہ ماڈل بہت مہنگا تھا۔ مصنوعی ذہانت نے ایک حقیقت واضح کر دی ہے کہ شاید پاکستان جیسے ممالک میں انشورنس کی کم شرح کی وجہ غربت یا ثقافت نہیں تھی بلکہ یہ صرف ٹیکنالوجی کی ایک حد تھی جو اب ختم ہو چکی ہے۔ ماضی میں دنیا کے پاس اربوں لوگوں سے ان کے مالی تحفظ کے بارے میں سستے داموں گفتگو کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اے آئی اب صرف ایک سہولت نہیں  بلکہ وہ چابی ہے جو اس نظام کو ہر خاص و عام کے لیے ممکن بنا دے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288792</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 13:35:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فیضان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/161304132a80eeb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/161304132a80eeb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
