<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 16:32:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Jul 2026 16:32:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ کپ کے تمام 104 میچ دیکھنے پر دو شائقین کو 50 ہزار ڈالر فی کس مل گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288789/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹ بال کے دو دیوانے کیون اکوٹو اور آسٹن فرینکلن اس سال ہر فٹ بال عاشق کا خواب جی رہے ہیں، یعنی ہر میچ شروع سے آخر تک دیکھنا اور اس کے پیسے بھی حاصل کرنا۔ امریکی براڈکاسٹر فاکس ون کے ان  چیف ورلڈ کپ واچرز نے اسپین اور ارجنٹائن کے فائنل سمیت تمام 104 میچز دیکھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کام کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کو 50,000 ڈالر ادا کیے گئے۔ میچز کے دوران وہ ٹائمز اسکوائر کے ایک شیشے کے کیبن میں بیٹھتے ہیں جہاں سے گزرنے والے لوگ انہیں دیکھتے ہیں۔ دونوں سوشل میڈیا پر بھی مواد شیئر کرتے ہیں۔ فلوریڈا میں کک کی نوکری چھوڑنے والے کیون کا کہنا ہے کہ لوگ اب سوشل میڈیا پر کھیل دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ فیفا کی جانب سے ٹیمیں 48 سے بڑھا کر 64 کرنے کی صورت میں بھی وہ یہ کام دوبارہ کرنے کو تیار ہیں کیونکہ وہ فٹ بال دیکھنے سے اب تک نہیں تھکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فٹ بال کے دو دیوانے کیون اکوٹو اور آسٹن فرینکلن اس سال ہر فٹ بال عاشق کا خواب جی رہے ہیں، یعنی ہر میچ شروع سے آخر تک دیکھنا اور اس کے پیسے بھی حاصل کرنا۔ امریکی براڈکاسٹر فاکس ون کے ان  چیف ورلڈ کپ واچرز نے اسپین اور ارجنٹائن کے فائنل سمیت تمام 104 میچز دیکھے۔</strong></p>
<p>اس کام کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کو 50,000 ڈالر ادا کیے گئے۔ میچز کے دوران وہ ٹائمز اسکوائر کے ایک شیشے کے کیبن میں بیٹھتے ہیں جہاں سے گزرنے والے لوگ انہیں دیکھتے ہیں۔ دونوں سوشل میڈیا پر بھی مواد شیئر کرتے ہیں۔ فلوریڈا میں کک کی نوکری چھوڑنے والے کیون کا کہنا ہے کہ لوگ اب سوشل میڈیا پر کھیل دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ فیفا کی جانب سے ٹیمیں 48 سے بڑھا کر 64 کرنے کی صورت میں بھی وہ یہ کام دوبارہ کرنے کو تیار ہیں کیونکہ وہ فٹ بال دیکھنے سے اب تک نہیں تھکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288789</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 12:51:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/16124124d49aef1.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/16124124d49aef1.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
