<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 13:03:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Jul 2026 13:03:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کی ایف بی آر کو ماہانہ بنیاد پر کراچی میں کاروباری برادری سے ملاقاتوں کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288778/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے کاروباری برادری کی جانب سے ایف بی آر کے طرزِ عمل پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد مداخلت کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت کی ہے کہ ٹیکس دہندگان سے رابطہ مزید مضبوط بنایا جائے اور ان کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر فوری حل کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کاروباری طبقے کے تحفظات کا نوٹس لیا۔ کاروباری تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ایف بی آر نئے ٹیکس دہندگان کو نیٹ میں لانے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان کے خلاف اپنے اختیارات کا زیادہ استعمال کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کی یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چیمبرز آف کامرس اور تجارتی تنظیمیں ان قانونی شقوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں، جن کے تحت ایف بی آر حکام کو کاروباری شخصیات کی گرفتاری، اچانک چھاپے مارنے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے جیسے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا ہے اور سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ایف بی آر کے سینئر حکام کو ہدایت کی کہ وہ ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی کا دورہ کریں، کاروباری نمائندوں سے براہِ راست ملاقات کریں اور ان کے مسائل و شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایف بی آر کو یہ بھی ہدایت دی کہ ٹیکس قوانین پر مکمل عمل کرنے والی کمپنیوں کو سرکاری سطح پر سراہا اور اعزاز دیا جائے تاکہ رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کے رجحان کو فروغ ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور ٹیکس نظام کو سادہ، شفاف اور کاروبار دوست بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار میں آسانیاں، سرمایہ کاری کا فروغ اور برآمدات میں اضافہ حکومت کی معاشی حکمت عملی کے بنیادی ستون ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ شوگر، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کی صنعتوں میں جدید پیداواری نگرانی کے نظام نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ ٹیکسٹائل اور مشروبات کے شعبوں میں بھی یہ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ بریفنگ کے مطابق شوگر سیکٹر میں اس نظام سے گزشتہ دو برس کے دوران 42 ارب روپے، سیمنٹ سیکٹر سے 38 ارب روپے اور مشروبات کی صنعت سے 15 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے کاروباری برادری کی جانب سے ایف بی آر کے طرزِ عمل پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد مداخلت کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت کی ہے کہ ٹیکس دہندگان سے رابطہ مزید مضبوط بنایا جائے اور ان کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر فوری حل کیا جائے۔</strong></p>
<p>ایف بی آر اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کاروباری طبقے کے تحفظات کا نوٹس لیا۔ کاروباری تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ایف بی آر نئے ٹیکس دہندگان کو نیٹ میں لانے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان کے خلاف اپنے اختیارات کا زیادہ استعمال کر رہا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم کی یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چیمبرز آف کامرس اور تجارتی تنظیمیں ان قانونی شقوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں، جن کے تحت ایف بی آر حکام کو کاروباری شخصیات کی گرفتاری، اچانک چھاپے مارنے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے جیسے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا ہے اور سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے ایف بی آر کے سینئر حکام کو ہدایت کی کہ وہ ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی کا دورہ کریں، کاروباری نمائندوں سے براہِ راست ملاقات کریں اور ان کے مسائل و شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنائیں۔</p>
<p>انہوں نے ایف بی آر کو یہ بھی ہدایت دی کہ ٹیکس قوانین پر مکمل عمل کرنے والی کمپنیوں کو سرکاری سطح پر سراہا اور اعزاز دیا جائے تاکہ رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کے رجحان کو فروغ ملے۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور ٹیکس نظام کو سادہ، شفاف اور کاروبار دوست بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار میں آسانیاں، سرمایہ کاری کا فروغ اور برآمدات میں اضافہ حکومت کی معاشی حکمت عملی کے بنیادی ستون ہیں۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ شوگر، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کی صنعتوں میں جدید پیداواری نگرانی کے نظام نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ ٹیکسٹائل اور مشروبات کے شعبوں میں بھی یہ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ بریفنگ کے مطابق شوگر سیکٹر میں اس نظام سے گزشتہ دو برس کے دوران 42 ارب روپے، سیمنٹ سیکٹر سے 38 ارب روپے اور مشروبات کی صنعت سے 15 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288778</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 10:08:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/16100645e5f442d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/16100645e5f442d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
