<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 00:16:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Jul 2026 00:16:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش نے معزول وزیراعظم حسینہ واجد کے 6.2 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے ضبط کر لیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288766/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیشی حکام نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد، ان کے اہلِ خانہ اور 10 کاروباری گروپوں سے وابستہ 760 ارب ٹکا (تقریباً 6.2 ارب ڈالر) مالیت کے اثاثے ضبط کر لیے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخل ہونے اور بھارت فرار ہونے کے بعد سے حکام شیخ حسینہ کی دولت، ان کے رشتہ داروں اور ان بڑے کاروباری گروپوں کی تحقیقات کر رہے ہیں جن پر ان کے 15 سالہ سخت گیر دورِ حکومت میں فائدہ اٹھانے کے الزامات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش فنانشل انٹیلی جنس یونٹ نے بتایا کہ 570 ارب ٹکا مالیت کے اثاثے بنگلہ دیش کے اندر جبکہ 190 ارب ٹکا مالیت کے اثاثے بیرونِ ملک ضبط کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے سربراہ اختیار محمد مامون نے سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ شیخ حسینہ اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں 98 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہم بیرونِ ملک منتقل کی گئی رقوم کی واپسی کے لیے ابھی بھی کام کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ رواں سال کے اختتام تک اس حوالے سے مثبت پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتدار سے بے دخلی کے بعد شیخ حسینہ کو متعدد مقدمات میں غیر حاضری میں سزا سنائی جا چکی ہے، جن میں ڈھاکہ کے پوش علاقے میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے متعلق بدعنوانی کے مقدمات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عدالت انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت بھی سنا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ حسینہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش سے فرار ہونے کے بعد سے بھارت میں مقیم ہیں اور حال ہی میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ رواں سال کے اختتام تک وطن واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا کہ حکومت، جس نے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر رکھا ہے، اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ وہ واپس آ کر عدالت کا سامنا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”عدالتی فیصلہ نافذ کیا جائے گا، جبکہ یہ عدالت ہی طے کرے گی کہ اپیل کی کوئی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیشی حکام نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد، ان کے اہلِ خانہ اور 10 کاروباری گروپوں سے وابستہ 760 ارب ٹکا (تقریباً 6.2 ارب ڈالر) مالیت کے اثاثے ضبط کر لیے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخل ہونے اور بھارت فرار ہونے کے بعد سے حکام شیخ حسینہ کی دولت، ان کے رشتہ داروں اور ان بڑے کاروباری گروپوں کی تحقیقات کر رہے ہیں جن پر ان کے 15 سالہ سخت گیر دورِ حکومت میں فائدہ اٹھانے کے الزامات ہیں۔</p>
<p>بنگلہ دیش فنانشل انٹیلی جنس یونٹ نے بتایا کہ 570 ارب ٹکا مالیت کے اثاثے بنگلہ دیش کے اندر جبکہ 190 ارب ٹکا مالیت کے اثاثے بیرونِ ملک ضبط کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ادارے کے سربراہ اختیار محمد مامون نے سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ شیخ حسینہ اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں 98 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہم بیرونِ ملک منتقل کی گئی رقوم کی واپسی کے لیے ابھی بھی کام کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ رواں سال کے اختتام تک اس حوالے سے مثبت پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔“</p>
<p>اقتدار سے بے دخلی کے بعد شیخ حسینہ کو متعدد مقدمات میں غیر حاضری میں سزا سنائی جا چکی ہے، جن میں ڈھاکہ کے پوش علاقے میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے متعلق بدعنوانی کے مقدمات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>ایک عدالت انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت بھی سنا چکی ہے۔</p>
<p>شیخ حسینہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش سے فرار ہونے کے بعد سے بھارت میں مقیم ہیں اور حال ہی میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ رواں سال کے اختتام تک وطن واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔</p>
<p>وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا کہ حکومت، جس نے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر رکھا ہے، اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ وہ واپس آ کر عدالت کا سامنا کریں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”عدالتی فیصلہ نافذ کیا جائے گا، جبکہ یہ عدالت ہی طے کرے گی کہ اپیل کی کوئی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288766</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 21:09:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/15210434a3f2025.webp" type="image/webp" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/15210434a3f2025.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
