<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 19:10:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 15 Jul 2026 19:10:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگ دوبارہ بھڑک اٹھی، امریکا کا ایران پر نئے حملوں کی لہر کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288756/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے بدھ کے روز ایران پر نئے حملوں کی ایک لہر شروع کر دی، جبکہ بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری میں شروع ہونے والی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے تقریباً ایک ماہ قبل دستخط کیے گئے یادداشتِ مفاہمت کے باوجود دونوں فریق دوبارہ برسرِپیکار ہو گئے اور خطے بھر میں مختلف اہداف پر حملوں کا تبادلہ شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2077338021733478617'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2077338021733478617"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں تعینات امریکی پانچویں بحری بیڑے کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ بحرینی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شہری اہداف پر کیے گئے حملوں کو ناکام بنا دیا۔ دوسری جانب اردن کی مسلح افواج نے بتایا ہے کہ اس نے ایران سے داغے گئے تین میزائل مار گرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو آئندہ ہفتے حملوں کا دائرہ کار بڑھا کر بجلی گھروں اور پلوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا، ”اگلا ہفتہ ان کے لیے بہت برا ثابت ہوگا۔“ تاہم جنگ دوبارہ شروع ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے ذریعے جاری مذاکرات باضابطہ طور پر ختم نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="آبنائے-ہرمز-تنازع-کا-مرکز" href="#آبنائے-ہرمز-تنازع-کا-مرکز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آبنائے ہرمز تنازع کا مرکز&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ لڑائی کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز پر تنازع ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="معاہدہ-عملاً-ختم" href="#معاہدہ-عملاً-ختم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;معاہدہ ”عملاً ختم“&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور اسرائیل کے 28 فروری کو بڑے حملے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی تھی اور کئی ماہ تک اسے اپنے مخالفین پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتا رہا۔ بعد ازاں اس نے مختصر عرصے کے لیے راستہ کھولا، لیکن پھر اعلان کیا کہ ”جب تک امریکا اپنی جارحیت ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جواب میں امریکا نے بھی ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی، تاہم صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں پر مجوزہ 20 فیصد فیس عائد کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا کی نئی ناکہ بندی نے ”اسلام آباد یادداشتِ مفاہمت کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا ہے،“ جس کے تحت گزشتہ ماہ جنگ بندی اور امن مذاکرات پر اتفاق ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ دوبارہ شروع ہونے کے چند روز بعد امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے کہا کہ اس نے ”حملوں کی ایک نئی لہر“ شروع کی ہے، جس کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بندر عباس، جزیرہ قشم اور بندر امام خمینی کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ بعد میں اطلاع دی گئی کہ امریکا نے جنوبی بندرگاہی شہر بوشہر پر بھی تازہ حملے کیے، جہاں ایران کا واحد شہری جوہری بجلی گھر واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دارالحکومت تہران میں تاہم جنگ کے دوبارہ آغاز کے کوئی نمایاں آثار دکھائی نہیں دیے۔ اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق شہری بڑی تعداد میں کیفوں میں جمع ہو کر فرانس اور اسپین کے درمیان ورلڈ کپ سیمی فائنل دیکھتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جنگ کے دوران بارہا نشانہ بننے والے کویت میں شہری شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت میں مقیم 39 سالہ سوڈانی اکاؤنٹنٹ مصطفیٰ محمد نے کہا، ”میں ہر روز یہ سوچ کر اٹھتا ہوں کہ حالات کشیدہ ہوں گے یا بہتر۔ اس غیر یقینی صورت حال میں سکون سے جینا یا مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 38 سالہ مصری سرکاری ملازم جارج عاطف نے کہا، ”سب سے زیادہ تھکا دینے والی بات یہ ہے کہ معلوم ہی نہیں کب یہ صورت حال ختم ہوگی، مسلسل انتظار ہی ذہنی بوجھ بن چکا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-نے-مجوزہ-فیس-واپس-لے-لی" href="#ٹرمپ-نے-مجوزہ-فیس-واپس-لے-لی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹرمپ نے مجوزہ فیس واپس لے لی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے آغاز سے ایران مسلسل آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت کا اظہار کرتا رہا ہے اور ان بحری جہازوں پر فائرنگ بھی کرتا رہا ہے جو اس کے بقول غیر مجاز راستے استعمال کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسدارانِ انقلاب نے کہا، ”جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی اور جب تک امریکا اپنی جارحیت ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحری سلامتی کی کمپنی ایم ٹی آئی نیٹ ورک کے مطابق منگل کی صبح عمان کے ساحل کے قریب ایک ناروے کے آئل ٹینکر کو نامعلوم دھماکا خیز آلے سے نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت نے بھی بتایا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران اس کا ایک بحری جہاز نشانہ بنا، جس میں عملے کے چار افراد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر صدر ٹرمپ نے پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر عائد کرنے کے لیے اعلان کردہ 20 فیصد فیس واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بجائے خلیجی اتحادی ممالک کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا، ”میں نے فیصلہ کیا ہے کہ 20 فیصد امریکی ری ایمبرسمنٹ فیس کی جگہ خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جائیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق گزشتہ ہفتے سے جاری امریکی حملوں میں کم از کم 30 افراد  شہید ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ بدھ کے حملوں میں ملک کے جنوب مشرق میں اس کے سات اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے، اگرچہ ان کا ملک اب تک دوبارہ جنگ میں شامل نہیں ہوا، منگل کو ایرانی قیادت کو خبردار کیا کہ اگر اسرائیل پر حملہ کیا گیا تو سخت جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی شہر دیمونا سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہونے کا وسیع پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے، انہوں نے کہا: ”اگر تم نے ہم پر حملہ کیا تو یہ نہ سمجھنا کہ حالات خاموش رہیں گے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے بدھ کے روز ایران پر نئے حملوں کی ایک لہر شروع کر دی، جبکہ بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی۔</strong></p>
<p>فروری میں شروع ہونے والی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے تقریباً ایک ماہ قبل دستخط کیے گئے یادداشتِ مفاہمت کے باوجود دونوں فریق دوبارہ برسرِپیکار ہو گئے اور خطے بھر میں مختلف اہداف پر حملوں کا تبادلہ شروع کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2077338021733478617'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2077338021733478617"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں تعینات امریکی پانچویں بحری بیڑے کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ بحرینی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شہری اہداف پر کیے گئے حملوں کو ناکام بنا دیا۔ دوسری جانب اردن کی مسلح افواج نے بتایا ہے کہ اس نے ایران سے داغے گئے تین میزائل مار گرائے۔</p>
<p>ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو آئندہ ہفتے حملوں کا دائرہ کار بڑھا کر بجلی گھروں اور پلوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا، ”اگلا ہفتہ ان کے لیے بہت برا ثابت ہوگا۔“ تاہم جنگ دوبارہ شروع ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے ذریعے جاری مذاکرات باضابطہ طور پر ختم نہیں ہوئے۔</p>
<h3><a id="آبنائے-ہرمز-تنازع-کا-مرکز" href="#آبنائے-ہرمز-تنازع-کا-مرکز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آبنائے ہرمز تنازع کا مرکز</h3>
<p>دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ لڑائی کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز پر تنازع ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔</p>
<h3><a id="معاہدہ-عملاً-ختم" href="#معاہدہ-عملاً-ختم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>معاہدہ ”عملاً ختم“</h3>
<p>امریکا اور اسرائیل کے 28 فروری کو بڑے حملے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی تھی اور کئی ماہ تک اسے اپنے مخالفین پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتا رہا۔ بعد ازاں اس نے مختصر عرصے کے لیے راستہ کھولا، لیکن پھر اعلان کیا کہ ”جب تک امریکا اپنی جارحیت ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔“</p>
<p>اس کے جواب میں امریکا نے بھی ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی، تاہم صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں پر مجوزہ 20 فیصد فیس عائد کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے۔</p>
<p>ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا کی نئی ناکہ بندی نے ”اسلام آباد یادداشتِ مفاہمت کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا ہے،“ جس کے تحت گزشتہ ماہ جنگ بندی اور امن مذاکرات پر اتفاق ہوا تھا۔</p>
<p>جنگ دوبارہ شروع ہونے کے چند روز بعد امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے کہا کہ اس نے ”حملوں کی ایک نئی لہر“ شروع کی ہے، جس کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔</p>
<p>ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بندر عباس، جزیرہ قشم اور بندر امام خمینی کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ بعد میں اطلاع دی گئی کہ امریکا نے جنوبی بندرگاہی شہر بوشہر پر بھی تازہ حملے کیے، جہاں ایران کا واحد شہری جوہری بجلی گھر واقع ہے۔</p>
<p>دارالحکومت تہران میں تاہم جنگ کے دوبارہ آغاز کے کوئی نمایاں آثار دکھائی نہیں دیے۔ اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق شہری بڑی تعداد میں کیفوں میں جمع ہو کر فرانس اور اسپین کے درمیان ورلڈ کپ سیمی فائنل دیکھتے رہے۔</p>
<p>دوسری جانب جنگ کے دوران بارہا نشانہ بننے والے کویت میں شہری شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔</p>
<p>کویت میں مقیم 39 سالہ سوڈانی اکاؤنٹنٹ مصطفیٰ محمد نے کہا، ”میں ہر روز یہ سوچ کر اٹھتا ہوں کہ حالات کشیدہ ہوں گے یا بہتر۔ اس غیر یقینی صورت حال میں سکون سے جینا یا مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔“</p>
<p>اسی طرح 38 سالہ مصری سرکاری ملازم جارج عاطف نے کہا، ”سب سے زیادہ تھکا دینے والی بات یہ ہے کہ معلوم ہی نہیں کب یہ صورت حال ختم ہوگی، مسلسل انتظار ہی ذہنی بوجھ بن چکا ہے۔“</p>
<h3><a id="ٹرمپ-نے-مجوزہ-فیس-واپس-لے-لی" href="#ٹرمپ-نے-مجوزہ-فیس-واپس-لے-لی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹرمپ نے مجوزہ فیس واپس لے لی</h3>
<p>جنگ کے آغاز سے ایران مسلسل آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت کا اظہار کرتا رہا ہے اور ان بحری جہازوں پر فائرنگ بھی کرتا رہا ہے جو اس کے بقول غیر مجاز راستے استعمال کر رہے تھے۔</p>
<p>پاسدارانِ انقلاب نے کہا، ”جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی اور جب تک امریکا اپنی جارحیت ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔“</p>
<p>بحری سلامتی کی کمپنی ایم ٹی آئی نیٹ ورک کے مطابق منگل کی صبح عمان کے ساحل کے قریب ایک ناروے کے آئل ٹینکر کو نامعلوم دھماکا خیز آلے سے نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>کویت نے بھی بتایا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران اس کا ایک بحری جہاز نشانہ بنا، جس میں عملے کے چار افراد زخمی ہوئے۔</p>
<p>ادھر صدر ٹرمپ نے پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر عائد کرنے کے لیے اعلان کردہ 20 فیصد فیس واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بجائے خلیجی اتحادی ممالک کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا، ”میں نے فیصلہ کیا ہے کہ 20 فیصد امریکی ری ایمبرسمنٹ فیس کی جگہ خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جائیں گے۔“</p>
<p>ایران کی حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق گزشتہ ہفتے سے جاری امریکی حملوں میں کم از کم 30 افراد  شہید ہو چکے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ بدھ کے حملوں میں ملک کے جنوب مشرق میں اس کے سات اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔</p>
<p>ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے، اگرچہ ان کا ملک اب تک دوبارہ جنگ میں شامل نہیں ہوا، منگل کو ایرانی قیادت کو خبردار کیا کہ اگر اسرائیل پر حملہ کیا گیا تو سخت جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>جنوبی شہر دیمونا سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہونے کا وسیع پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے، انہوں نے کہا: ”اگر تم نے ہم پر حملہ کیا تو یہ نہ سمجھنا کہ حالات خاموش رہیں گے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288756</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 19:06:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/15163652c438ca8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/15163652c438ca8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
