<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 18:21:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 15 Jul 2026 18:21:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں الیکٹرک بائیکس کی مانگ میں اضافہ، خستہ حال سڑکیں چیلنج</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288743/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کا خستہ حال روڈ انفرااسٹرکچر شہر میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ کیلئے ایک رکاوٹ بنتا جارہا ہے۔ صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور دیکھ بھال کے کم اخراجات مسافروں کو ای وی بائیکس کی طرف راغب کررہے ہیں لیکن جگہ جگہ گڑھوں سے بھری سڑکیں ان کے وسیع پیمانے پر استعمال کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں الیکٹرک موٹرسائیکلوں کے ڈیلرشپس کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، خصوصاً شہر کی مرکزی موٹرسائیکل مارکیٹ اکبر روڈ پر جہاں بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں سے نجات کے لیے شہری الیکٹرک بائیکس کا رخ کررہے ہیں۔ تاہم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ طلب کے مقابلے میں فراہمی اب بھی ناکافی ہے جبکہ مینوفیکچررز نسبتاً زیادہ طلب اور بہتر سڑکوں کے باعث اپنی ترسیلات کو پنجاب کو ترجیح دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے آٹو اور موٹرسائیکل صنعت کے تجزیہ کار اور اکبر روڈ کے ڈیلر محمد صابر شیخ نے کہا ہے کہ الیکٹرک موٹرسائیکلوں کی طلب رسد سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اسمبلرز لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ساہیوال، گجرات اور پنجاب کے دیگر شہروں کوترجیح دے رہے ہیں جہاں الیکٹرک بائیکس کی طلب کراچی کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے ڈیلرشپس کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے۔ صرف اکبر روڈ پر ہی اب 25 سے زائد شوروم قائم ہو چکے ہیں جبکہ پورے شہر میں ان کی تعداد تقریباً 200 تک پہنچ گئی ہے۔ بیشتر معروف ای وی برانڈز کے کراچی میں تین سے چھ ڈیلرشپس موجود ہیں، تاہم شورومز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود الیکٹرک موٹرسائیکلوں کو اپنانے کے لحاظ سے کراچی ملک میں پانچویں یا چھٹے نمبر پر ہے۔ ان کے مطابق اس کی بڑی وجہ پنجاب میں نسبتاً بہتر سڑکوں کا انفرااسٹرکچر ہے جس نے وہاں الیکٹرک موٹرسائیکلوں کی جانب منتقلی کے عمل کو تیز کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صابر شیخ نے بتایا کہ 75 اسمبلرز نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) سے پیداواری سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائیں جن میں سے 60 سے زائد کو سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی کی درخواستیں زیرِ عمل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں الیکٹرک موٹرسائیکلوں کے شورومز کی بڑھتی ہوئی تعداد پر بات کرتے ہوئے وی لیکٹرا (VLEKTRA) کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سید رضا محسن نے کہا کہ جی ہاں اعداد و شمار بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اکبر روڈ اس رجحان کا ایک اچھا پیمانہ ہے جہاں ڈیلرز فعال طور پر الیکٹرک موٹرسائیکلوں کے لیے جگہ مختص کررہے ہیں۔ پٹرول موٹرسائیکل استعمال کرنے والا شخص اپنی ماہانہ آمدنی کا ایک بڑا حصہ ایندھن پر خرچ کرتا ہے اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث الیکٹرک موٹرسائیکل پر منتقل ہونے سے سفری اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک موٹرسائیکل کی دیکھ بھال کا خرچ بھی روایتی پٹرول انجن کے مقابلے میں بہت کم ہے، کیونکہ اس میں انجن آئل کی تبدیلی، کلچ یا ایگزاسٹ سسٹم کی دیکھ بھال جیسے اخراجات نہیں ہوتے۔ تاہم اس کے باوجود لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں الیکٹرک موٹرسائیکلوں کو اپنانے کی رفتار اب بھی کراچی سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کراچی کا بگڑتا ہوا سڑکوں کا انفراسٹرکچر بدستور ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ شہر کی سڑکیں موجودہ ٹریفک کے غیر معمولی دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید رضا محسن نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو سڑکوں کی دوبارہ تعمیر اور نکاسی آب کے بہتر نظام میں مسلسل سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر مون سون میں سڑکیں بہہ نہ جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ برسوں پر محیط انفرااسٹرکچر کا عزم ہے، یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو محض کسی اعلان سے ٹھیک ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای وی کو اپنانے کے حوالے سے سندھ حکومت نے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے ذریعے پنک بائیک ڈسٹری بیوشن پروگرام کے ساتھ ایک قدم اٹھایا جس کے تحت خواتین کو سبسڈی پر الیکٹرک اسکوٹرز فراہم کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں چاہوں گا کہ اس (پروگرام) کو کئی طریقوں سے وسعت دی جائے، جیسے کہ خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں کے لیے رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کو معاف یا کم کیا جائے۔ ہم اس بارے میں مسلسل سوچتے رہتے ہیں۔ متوسط طبقے کے مسافر ہمارے لیے کوئی مخصوص طبقہ نہیں بلکہ ہماری بنیادی مارکیٹ ہیں۔ صنعت کا زیادہ تر انحصار اب بھی درآمد شدہ بیٹریوں اور موٹرز پر ہے، اس لیے کرنسی کی ہر اتار چڑھاؤ کا اثر براہِ راست گاہک پر پڑتا ہے۔ ہم پہلے ہی پرزہ جات کو مقامی سطح پر تیار کر رہے ہیں اور 2027 تک ہم اپنی بیٹریاں اور موٹرز مقامی طور پر تیار کرنا شروع کر دیں گے جس سے قیمتیں درآمدی جھٹکوں سے مستقل طور پر محفوظ ہوجائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای وی بائیکس کی ری سیل ویلیو پر تبصرہ کرتے ہوئے سید رضا محسن نے اسے ایک جائز تشویش قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ رینج اور رفتار کے علاوہ ممکنہ خریداروں کا سب سے عام سوال یہ ہوتا ہے کہ تین سال بعد اس موٹرسائیکل کی قیمت کیا ہوگی؟ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اپنا بائیک بائیک پروگرام متعارف کرایا ہے۔ گاہک اپنی موٹرسائیکل ہمیں واپس بیچ سکتے ہیں اور عام ٹوٹ پھوٹ کے مطابق اس کی قیمت وصول کرسکتے ہیں۔ اس سے ایسی مارکیٹ میں جہاں استعمال شدہ الیکٹرک موٹرسائیکلوں پر اعتماد ابھی بتدریج قائم ہو رہا ہے، نجی خریدار تلاش کرنے کی غیر یقینی صورتحال ختم ہو جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صارفین کو اب استعمال کے باعث قیمت میں کمی کا اندازہ لگانے یا آن لائن قیمت پر سودے بازی کرنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ انہیں پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کتنی رقم ملنے کی توقع رکھنی چاہیے۔ اس سے سواروں کے لیے وقت گزرنے کے ساتھ نئے ماڈلز پر منتقل ہونا بھی زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کا خستہ حال روڈ انفرااسٹرکچر شہر میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ کیلئے ایک رکاوٹ بنتا جارہا ہے۔ صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور دیکھ بھال کے کم اخراجات مسافروں کو ای وی بائیکس کی طرف راغب کررہے ہیں لیکن جگہ جگہ گڑھوں سے بھری سڑکیں ان کے وسیع پیمانے پر استعمال کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔</strong></p>
<p>کراچی میں الیکٹرک موٹرسائیکلوں کے ڈیلرشپس کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، خصوصاً شہر کی مرکزی موٹرسائیکل مارکیٹ اکبر روڈ پر جہاں بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں سے نجات کے لیے شہری الیکٹرک بائیکس کا رخ کررہے ہیں۔ تاہم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ طلب کے مقابلے میں فراہمی اب بھی ناکافی ہے جبکہ مینوفیکچررز نسبتاً زیادہ طلب اور بہتر سڑکوں کے باعث اپنی ترسیلات کو پنجاب کو ترجیح دے رہے ہیں۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے آٹو اور موٹرسائیکل صنعت کے تجزیہ کار اور اکبر روڈ کے ڈیلر محمد صابر شیخ نے کہا ہے کہ الیکٹرک موٹرسائیکلوں کی طلب رسد سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اسمبلرز لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ساہیوال، گجرات اور پنجاب کے دیگر شہروں کوترجیح دے رہے ہیں جہاں الیکٹرک بائیکس کی طلب کراچی کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے ڈیلرشپس کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے۔ صرف اکبر روڈ پر ہی اب 25 سے زائد شوروم قائم ہو چکے ہیں جبکہ پورے شہر میں ان کی تعداد تقریباً 200 تک پہنچ گئی ہے۔ بیشتر معروف ای وی برانڈز کے کراچی میں تین سے چھ ڈیلرشپس موجود ہیں، تاہم شورومز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود الیکٹرک موٹرسائیکلوں کو اپنانے کے لحاظ سے کراچی ملک میں پانچویں یا چھٹے نمبر پر ہے۔ ان کے مطابق اس کی بڑی وجہ پنجاب میں نسبتاً بہتر سڑکوں کا انفرااسٹرکچر ہے جس نے وہاں الیکٹرک موٹرسائیکلوں کی جانب منتقلی کے عمل کو تیز کردیا ہے۔</p>
<p>صابر شیخ نے بتایا کہ 75 اسمبلرز نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) سے پیداواری سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائیں جن میں سے 60 سے زائد کو سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی کی درخواستیں زیرِ عمل ہیں۔</p>
<p>کراچی میں الیکٹرک موٹرسائیکلوں کے شورومز کی بڑھتی ہوئی تعداد پر بات کرتے ہوئے وی لیکٹرا (VLEKTRA) کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سید رضا محسن نے کہا کہ جی ہاں اعداد و شمار بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اکبر روڈ اس رجحان کا ایک اچھا پیمانہ ہے جہاں ڈیلرز فعال طور پر الیکٹرک موٹرسائیکلوں کے لیے جگہ مختص کررہے ہیں۔ پٹرول موٹرسائیکل استعمال کرنے والا شخص اپنی ماہانہ آمدنی کا ایک بڑا حصہ ایندھن پر خرچ کرتا ہے اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث الیکٹرک موٹرسائیکل پر منتقل ہونے سے سفری اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک موٹرسائیکل کی دیکھ بھال کا خرچ بھی روایتی پٹرول انجن کے مقابلے میں بہت کم ہے، کیونکہ اس میں انجن آئل کی تبدیلی، کلچ یا ایگزاسٹ سسٹم کی دیکھ بھال جیسے اخراجات نہیں ہوتے۔ تاہم اس کے باوجود لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں الیکٹرک موٹرسائیکلوں کو اپنانے کی رفتار اب بھی کراچی سے زیادہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کراچی کا بگڑتا ہوا سڑکوں کا انفراسٹرکچر بدستور ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ شہر کی سڑکیں موجودہ ٹریفک کے غیر معمولی دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کی گئی تھیں۔</p>
<p>سید رضا محسن نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو سڑکوں کی دوبارہ تعمیر اور نکاسی آب کے بہتر نظام میں مسلسل سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر مون سون میں سڑکیں بہہ نہ جائیں۔</p>
<p>یہ برسوں پر محیط انفرااسٹرکچر کا عزم ہے، یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو محض کسی اعلان سے ٹھیک ہو جائے۔</p>
<p>ای وی کو اپنانے کے حوالے سے سندھ حکومت نے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے ذریعے پنک بائیک ڈسٹری بیوشن پروگرام کے ساتھ ایک قدم اٹھایا جس کے تحت خواتین کو سبسڈی پر الیکٹرک اسکوٹرز فراہم کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں چاہوں گا کہ اس (پروگرام) کو کئی طریقوں سے وسعت دی جائے، جیسے کہ خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں کے لیے رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کو معاف یا کم کیا جائے۔ ہم اس بارے میں مسلسل سوچتے رہتے ہیں۔ متوسط طبقے کے مسافر ہمارے لیے کوئی مخصوص طبقہ نہیں بلکہ ہماری بنیادی مارکیٹ ہیں۔ صنعت کا زیادہ تر انحصار اب بھی درآمد شدہ بیٹریوں اور موٹرز پر ہے، اس لیے کرنسی کی ہر اتار چڑھاؤ کا اثر براہِ راست گاہک پر پڑتا ہے۔ ہم پہلے ہی پرزہ جات کو مقامی سطح پر تیار کر رہے ہیں اور 2027 تک ہم اپنی بیٹریاں اور موٹرز مقامی طور پر تیار کرنا شروع کر دیں گے جس سے قیمتیں درآمدی جھٹکوں سے مستقل طور پر محفوظ ہوجائیں گی۔</p>
<p>ای وی بائیکس کی ری سیل ویلیو پر تبصرہ کرتے ہوئے سید رضا محسن نے اسے ایک جائز تشویش قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ رینج اور رفتار کے علاوہ ممکنہ خریداروں کا سب سے عام سوال یہ ہوتا ہے کہ تین سال بعد اس موٹرسائیکل کی قیمت کیا ہوگی؟ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اپنا بائیک بائیک پروگرام متعارف کرایا ہے۔ گاہک اپنی موٹرسائیکل ہمیں واپس بیچ سکتے ہیں اور عام ٹوٹ پھوٹ کے مطابق اس کی قیمت وصول کرسکتے ہیں۔ اس سے ایسی مارکیٹ میں جہاں استعمال شدہ الیکٹرک موٹرسائیکلوں پر اعتماد ابھی بتدریج قائم ہو رہا ہے، نجی خریدار تلاش کرنے کی غیر یقینی صورتحال ختم ہو جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صارفین کو اب استعمال کے باعث قیمت میں کمی کا اندازہ لگانے یا آن لائن قیمت پر سودے بازی کرنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ انہیں پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کتنی رقم ملنے کی توقع رکھنی چاہیے۔ اس سے سواروں کے لیے وقت گزرنے کے ساتھ نئے ماڈلز پر منتقل ہونا بھی زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288743</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 13:18:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/151248260544c07.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/151248260544c07.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
