<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 14:18:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 15 Jul 2026 14:18:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلامی جمہوریہ میں مراعات کا کلچر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288727/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے زیرِ کفالت بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کے لیے پیش کیے گئے بل کی سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی سے منظوری نے بجا طور پر شدید تنقید کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان سنگین معاشی چیلنجز سے دوچار ہے اور ریاستی اداروں کی ساکھ دباؤ کا شکار ہے، یہ تجویز بالکل غلط پیغام دیتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورننس کے فوری اور اہم مسائل پر توجہ دینے کے بجائے، قانون ساز بظاہر اپنے اور اپنے خاندانوں کے لیے مزید مراعات بڑھانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ بلیو پاسپورٹ کا مقصد سرکاری امور کی انجام دہی میں سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ انہیں عمر بھر کے لیے رتبے کی علامت یا موروثی استحقاق کا نشان بنا دیا جائے۔ اس کا مقصد عملی اور انتظامی ہے، علامتی نہیں۔ اس سہولت کو موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے زیرِ کفالت بچوں تک توسیع دینا سرکاری پاسپورٹ کے بنیادی جواز کو ہی کھینچ کر اس حد تک لے جاتا ہے کہ اس کی اصل منطق کمزور پڑ جاتی ہے، اور یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ عوامی عہدے کو عوامی خدمت کے موقع کے بجائے مراعات تک رسائی کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع کو حکومت کے مؤقف سے متعلق متضاد بیانات نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ وزیرِ مملکت طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بل کی مخالفت کی تھی اور کسی بھی فیصلے سے قبل وسیع تر مشاورت کا مطالبہ کیا تھا، تاہم سینیٹ سیکریٹریٹ کے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ انہوں نے بل کی منظوری سے اتفاق کیا تھا۔ اس نوعیت کے تضادات پارلیمانی فیصلوں میں شفافیت اور جوابدہی کے حوالے سے عوامی شکوک و شبہات کو مزید گہرا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس تجویز پر تنقید صرف اپوزیشن یا سول سوسائٹی تک محدود نہیں رہی۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے بھی کھل کر اس تجویز پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے اس کا موازنہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے حالیہ اقدام سے کیا، جہاں ارکانِ اسمبلی کے لیے اسی نوعیت کی مراعات میں توسیع کی گئی، اور خبردار کیا کہ منتخب عوامی عہدے کو خصوصی استحقاق کا ذریعہ بنانے کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ صرف پاسپورٹ کا نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ پاکستان ایک طویل عرصے سے ایسی طرزِ حکمرانی کا شکار ہے جو خصوصی مراعات، امتیازی فوائد اور ترجیحی سلوک کے ذریعے شہریوں کے الگ الگ طبقات پیدا کرتی ہے۔ خواہ یہ مراعات سیاست دان حاصل کریں، اعلیٰ بیوروکریٹس، اعلیٰ عدلیہ کے جج یا فوجی افسران، اس سے یہی تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ ریاستی طاقت تک رسائی رکھنے والوں کے لیے حقوق اور مراعات کا ایک الگ نظام موجود ہے، جو عام شہریوں کو حاصل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قسم کی ثقافت عوامی اداروں پر اعتماد کو کھوکھلا کرتی ہے، جمہوری نظام کی ساکھ کو کمزور بناتی ہے اور شہریوں اور ان کے منتخب نمائندوں کے درمیان فاصلے کو مزید وسیع کرتی ہے۔ ایک حقیقی جمہوریت میں عوامی عہدہ ذمہ داری کی علامت ہوتا ہے، موروثی استحقاق کی نہیں۔ موجودہ یا سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے بچے نہ تو کوئی سرکاری ذمہ داری ادا کرتے ہیں اور نہ ہی کسی باضابطہ حیثیت میں ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لہٰذا انہیں سرکاری پاسپورٹ جاری کرنا نہ انتظامی اعتبار سے قابلِ جواز ہے اور نہ ہی اخلاقی اعتبار سے قابلِ دفاع۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے ضروری ہے کہ اس مجوزہ قانون سازی کو مزید آگے بڑھنے سے پہلے ہی واپس لے لیا جائے۔ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ قانون کے سامنے مساوات کے اصول سے اپنی وابستگی اور ضبطِ نفس کا عملی مظاہرہ کرے، نہ کہ ان افراد کے لیے نئی مراعات وضع کرے جو پہلے ہی عوامی عہدوں کے باعث متعدد فوائد سے مستفید ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتخب عوامی عہدہ ایک عوامی امانت ہے، ذاتی یا خاندانی استحقاق، مفاد یا خودنمائی کا ذریعہ نہیں۔ وفاقی اور صوبائی اسمبلیاں اسی وقت اپنی حقیقی ساکھ قائم کر سکیں گی جب وہ یہ ثابت کریں گی کہ قانون بنانے والے خود بھی انہی اصولوں اور معیارات کے پابند ہیں جن کی وہ ملک کے دوسرے شہریوں سے توقع رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے زیرِ کفالت بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کے لیے پیش کیے گئے بل کی سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی سے منظوری نے بجا طور پر شدید تنقید کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان سنگین معاشی چیلنجز سے دوچار ہے اور ریاستی اداروں کی ساکھ دباؤ کا شکار ہے، یہ تجویز بالکل غلط پیغام دیتی ہے۔</strong></p>
<p>گورننس کے فوری اور اہم مسائل پر توجہ دینے کے بجائے، قانون ساز بظاہر اپنے اور اپنے خاندانوں کے لیے مزید مراعات بڑھانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ بلیو پاسپورٹ کا مقصد سرکاری امور کی انجام دہی میں سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ انہیں عمر بھر کے لیے رتبے کی علامت یا موروثی استحقاق کا نشان بنا دیا جائے۔ اس کا مقصد عملی اور انتظامی ہے، علامتی نہیں۔ اس سہولت کو موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے زیرِ کفالت بچوں تک توسیع دینا سرکاری پاسپورٹ کے بنیادی جواز کو ہی کھینچ کر اس حد تک لے جاتا ہے کہ اس کی اصل منطق کمزور پڑ جاتی ہے، اور یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ عوامی عہدے کو عوامی خدمت کے موقع کے بجائے مراعات تک رسائی کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس تنازع کو حکومت کے مؤقف سے متعلق متضاد بیانات نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ وزیرِ مملکت طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بل کی مخالفت کی تھی اور کسی بھی فیصلے سے قبل وسیع تر مشاورت کا مطالبہ کیا تھا، تاہم سینیٹ سیکریٹریٹ کے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ انہوں نے بل کی منظوری سے اتفاق کیا تھا۔ اس نوعیت کے تضادات پارلیمانی فیصلوں میں شفافیت اور جوابدہی کے حوالے سے عوامی شکوک و شبہات کو مزید گہرا کرتے ہیں۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس تجویز پر تنقید صرف اپوزیشن یا سول سوسائٹی تک محدود نہیں رہی۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے بھی کھل کر اس تجویز پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے اس کا موازنہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے حالیہ اقدام سے کیا، جہاں ارکانِ اسمبلی کے لیے اسی نوعیت کی مراعات میں توسیع کی گئی، اور خبردار کیا کہ منتخب عوامی عہدے کو خصوصی استحقاق کا ذریعہ بنانے کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناک ہے۔</p>
<p>اصل مسئلہ صرف پاسپورٹ کا نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ پاکستان ایک طویل عرصے سے ایسی طرزِ حکمرانی کا شکار ہے جو خصوصی مراعات، امتیازی فوائد اور ترجیحی سلوک کے ذریعے شہریوں کے الگ الگ طبقات پیدا کرتی ہے۔ خواہ یہ مراعات سیاست دان حاصل کریں، اعلیٰ بیوروکریٹس، اعلیٰ عدلیہ کے جج یا فوجی افسران، اس سے یہی تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ ریاستی طاقت تک رسائی رکھنے والوں کے لیے حقوق اور مراعات کا ایک الگ نظام موجود ہے، جو عام شہریوں کو حاصل نہیں۔</p>
<p>اس قسم کی ثقافت عوامی اداروں پر اعتماد کو کھوکھلا کرتی ہے، جمہوری نظام کی ساکھ کو کمزور بناتی ہے اور شہریوں اور ان کے منتخب نمائندوں کے درمیان فاصلے کو مزید وسیع کرتی ہے۔ ایک حقیقی جمہوریت میں عوامی عہدہ ذمہ داری کی علامت ہوتا ہے، موروثی استحقاق کی نہیں۔ موجودہ یا سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے بچے نہ تو کوئی سرکاری ذمہ داری ادا کرتے ہیں اور نہ ہی کسی باضابطہ حیثیت میں ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لہٰذا انہیں سرکاری پاسپورٹ جاری کرنا نہ انتظامی اعتبار سے قابلِ جواز ہے اور نہ ہی اخلاقی اعتبار سے قابلِ دفاع۔</p>
<p>اسی لیے ضروری ہے کہ اس مجوزہ قانون سازی کو مزید آگے بڑھنے سے پہلے ہی واپس لے لیا جائے۔ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ قانون کے سامنے مساوات کے اصول سے اپنی وابستگی اور ضبطِ نفس کا عملی مظاہرہ کرے، نہ کہ ان افراد کے لیے نئی مراعات وضع کرے جو پہلے ہی عوامی عہدوں کے باعث متعدد فوائد سے مستفید ہو رہے ہیں۔</p>
<p>منتخب عوامی عہدہ ایک عوامی امانت ہے، ذاتی یا خاندانی استحقاق، مفاد یا خودنمائی کا ذریعہ نہیں۔ وفاقی اور صوبائی اسمبلیاں اسی وقت اپنی حقیقی ساکھ قائم کر سکیں گی جب وہ یہ ثابت کریں گی کہ قانون بنانے والے خود بھی انہی اصولوں اور معیارات کے پابند ہیں جن کی وہ ملک کے دوسرے شہریوں سے توقع رکھتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288727</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 10:16:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/1510134493ed053.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/1510134493ed053.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
