<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 22:51:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 14 Jul 2026 22:51:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے مقررہ مدت سے قبل 4.7 کھرب روپے سے زائد کا قرضہ واپس دیا، خرم شہزاد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288710/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے قرضوں کی قبل از وقت واپسی (بائے بیک) کے مختلف مراحل کے ذریعے وقت سے پہلے 4.7 کھرب روپے سے زائد کا سرکاری قرضہ واپس کر دیا ہے۔ یہ ملکی تاریخ میں اپنے واجبات کو فعال طریقے سے نمٹانے کی اب تک کی سب سے بڑی کوشش ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک پوسٹ میں خرم شہزاد نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں 279 ارب روپے (تقریباً 1 ارب ڈالر) مالیت کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) کی قبل از وقت واپسی (بائے بیک) سے اب تک مقررہ وقت سے پہلے ادا کیے گئے مجموعی قرضے کا حجم 4.722 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو پاکستان کی تاریخ میں واجبات کی قبل از وقت ادائیگی کا سب سے بڑا اور طویل ترین آپریشن قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/kschehzad/status/2077015626087026824?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2077012502203015307%7Ctwgr%5E7df98f3eea8d1f1ee61e44b6cb50faa6ecef53e1%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40429998'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/kschehzad/status/2077015626087026824?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2077012502203015307%7Ctwgr%5E7df98f3eea8d1f1ee61e44b6cb50faa6ecef53e1%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40429998"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2026ء کے دوران مقررہ وقت سے پہلے 2.9 ٹریلین روپے کا قرضہ واپس کیا، جو مالی سال 2025ء میں ادا کیے گئے 1.8 ٹریلین روپے کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2026ء میں واپس کیے گئے مجموعی قرضے کا 51 فیصد مرکزی بینک (اسٹیٹ بینک) کا قرضہ تھا جبکہ بقیہ 49 فیصد مارکیٹ کا قرضہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیرِ وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ قرضوں کی یہ قبل از وقت ادائیگی کسی روایتی ادائیگی کا حصہ نہیں، بلکہ واجبات کے فعال انتظام (ایکٹو لائبلٹی مینجمنٹ) کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ری فنانسنگ (قرض کی نئی شرائط پر منتقلی) اور رول اوور کے خطرات کو کم کرنا، سود اور قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات (ڈیٹ سروسنگ) میں کمی لانا، کیش فلو اور لیکویڈیٹی کے نظام کو بہتر بنانا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتے ہوئے ملکی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد نے بتایا کہ ان اقدامات سے حکومت کے قرضوں کے پروفائل میں نمایاں بہتری آئی ہے اور قرض کی واپسی کی اوسط مدت مالی سال 2024ء کے 2.7 سال سے بڑھ کر مالی سال 2026ء میں 3.8 سال سے زائد ہو چکی ہے۔ مزید برآں پاکستان میں قرضوں کی جی ڈی پی سے شرح جو مالی سال 2023ء میں 75 فیصد تھی وہ مالی سال 2026ء میں کم ہو کر تقریباً 68.5 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ مرکزی بینک سے قرض لینے پر انحصار بھی نمایاں حد تک کم کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کی واپسی کا یہ عمل متعدد مراحل میں انجام دیا گیا جس کی شروعات اکتوبر 2024ء میں 826 ارب روپے کے ساتھ ہوئی، جس کے بعد نومبر 2024ء، مارچ 2025ء، جون 2025ء، اگست 2025ء، نومبر 2025ء، دسمبر 2025ء، جنوری 2026ء اور اپریل 2026ء میں کامیاب ٹرانزیکشنز کی گئیں، جبکہ حالیہ ترین آپریشن مئی 2026ء میں 279 ارب روپے کی واپسی کے ساتھ مکمل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیرِ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ قرضوں کے انتظام کی یہ حکمتِ عملی ان وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہے جن کا مقصد ملک کے عمومی مالیات کو مضبوط بنانا، افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی لانا، مالیاتی و بیرونی کھاتوں کے توازن کو بہتر بنانا اور مجموعی ملکی معیشت کو استحکام دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اب قلیل مدتی قرضے لینے کے بجائے فعال طور پر بیلنس شیٹ کو منظم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کی توجہ مالیاتی خطرات کو کم کرنے، قرضوں کی لاگت گھٹانے اور طویل مدتی معاشی استحکام کو سہارا دینے پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے قرضوں کی قبل از وقت واپسی (بائے بیک) کے مختلف مراحل کے ذریعے وقت سے پہلے 4.7 کھرب روپے سے زائد کا سرکاری قرضہ واپس کر دیا ہے۔ یہ ملکی تاریخ میں اپنے واجبات کو فعال طریقے سے نمٹانے کی اب تک کی سب سے بڑی کوشش ہے۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک پوسٹ میں خرم شہزاد نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں 279 ارب روپے (تقریباً 1 ارب ڈالر) مالیت کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) کی قبل از وقت واپسی (بائے بیک) سے اب تک مقررہ وقت سے پہلے ادا کیے گئے مجموعی قرضے کا حجم 4.722 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو پاکستان کی تاریخ میں واجبات کی قبل از وقت ادائیگی کا سب سے بڑا اور طویل ترین آپریشن قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/kschehzad/status/2077015626087026824?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2077012502203015307%7Ctwgr%5E7df98f3eea8d1f1ee61e44b6cb50faa6ecef53e1%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40429998'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/kschehzad/status/2077015626087026824?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2077012502203015307%7Ctwgr%5E7df98f3eea8d1f1ee61e44b6cb50faa6ecef53e1%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40429998"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2026ء کے دوران مقررہ وقت سے پہلے 2.9 ٹریلین روپے کا قرضہ واپس کیا، جو مالی سال 2025ء میں ادا کیے گئے 1.8 ٹریلین روپے کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2026ء میں واپس کیے گئے مجموعی قرضے کا 51 فیصد مرکزی بینک (اسٹیٹ بینک) کا قرضہ تھا جبکہ بقیہ 49 فیصد مارکیٹ کا قرضہ تھا۔</p>
<p>مشیرِ وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ قرضوں کی یہ قبل از وقت ادائیگی کسی روایتی ادائیگی کا حصہ نہیں، بلکہ واجبات کے فعال انتظام (ایکٹو لائبلٹی مینجمنٹ) کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ری فنانسنگ (قرض کی نئی شرائط پر منتقلی) اور رول اوور کے خطرات کو کم کرنا، سود اور قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات (ڈیٹ سروسنگ) میں کمی لانا، کیش فلو اور لیکویڈیٹی کے نظام کو بہتر بنانا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتے ہوئے ملکی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p>خرم شہزاد نے بتایا کہ ان اقدامات سے حکومت کے قرضوں کے پروفائل میں نمایاں بہتری آئی ہے اور قرض کی واپسی کی اوسط مدت مالی سال 2024ء کے 2.7 سال سے بڑھ کر مالی سال 2026ء میں 3.8 سال سے زائد ہو چکی ہے۔ مزید برآں پاکستان میں قرضوں کی جی ڈی پی سے شرح جو مالی سال 2023ء میں 75 فیصد تھی وہ مالی سال 2026ء میں کم ہو کر تقریباً 68.5 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ مرکزی بینک سے قرض لینے پر انحصار بھی نمایاں حد تک کم کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>قرضوں کی واپسی کا یہ عمل متعدد مراحل میں انجام دیا گیا جس کی شروعات اکتوبر 2024ء میں 826 ارب روپے کے ساتھ ہوئی، جس کے بعد نومبر 2024ء، مارچ 2025ء، جون 2025ء، اگست 2025ء، نومبر 2025ء، دسمبر 2025ء، جنوری 2026ء اور اپریل 2026ء میں کامیاب ٹرانزیکشنز کی گئیں، جبکہ حالیہ ترین آپریشن مئی 2026ء میں 279 ارب روپے کی واپسی کے ساتھ مکمل ہوا۔</p>
<p>مشیرِ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ قرضوں کے انتظام کی یہ حکمتِ عملی ان وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہے جن کا مقصد ملک کے عمومی مالیات کو مضبوط بنانا، افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی لانا، مالیاتی و بیرونی کھاتوں کے توازن کو بہتر بنانا اور مجموعی ملکی معیشت کو استحکام دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اب قلیل مدتی قرضے لینے کے بجائے فعال طور پر بیلنس شیٹ کو منظم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کی توجہ مالیاتی خطرات کو کم کرنے، قرضوں کی لاگت گھٹانے اور طویل مدتی معاشی استحکام کو سہارا دینے پر مرکوز ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288710</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 19:49:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14193212453dc2c.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14193212453dc2c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
