<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 17:12:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 14 Jul 2026 17:12:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی سعودی عرب پربیلسٹک میزائل حملوں کی مذمت، یمن میں قیامِ امن پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288694/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی  اور مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب یمن کی حوثی تحریک نے سعودی عرب پر میزائل حملے کیے۔ حوثیوں نے الزام عائد کیا کہ سعودی عرب نے پیر کو ان کے زیرِ کنٹرول ایک ہوائی اڈے پر بمباری کی جس کے بعد سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے درمیان چار سال سے قائم جنگ بندی ٹوٹ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے تباہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کے دارالحکومت ابہا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ یہ علاقہ یمن کی سرحد سے متصل پہاڑی خطہ ہے جہاں بہت سے سعودی شہری موسمِ گرما کی شدید گرمی سے بچنے کے لیے آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق یمن کی خودمختاری، آزادی، وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے اسلام آباد کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور باہم جڑے ہوئے بحرانوں کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی کم کرنے کی مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب نے کہا کہ یمن میں جامع اور پائیدار امن صرف اقوام متحدہ کی معاونت سے یمنی قیادت میں اور یمنیوں کی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال کے اوائل میں طے پانے والے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے، سفیر جدون نے کہا کہ یہ پیش رفت ثابت کرتی ہے کہ مشکل حالات میں بھی مذاکرات ٹھوس نتائج دے سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس پیش رفت کو برقرار رکھیں اور ملک گیر پائیدار جنگ بندی اور ایک جامع سیاسی تصفیے کی جانب کام کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن میں انسانی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ برسوں کے تنازع نے یمنی عوام کو نقل مکانی، معاشی مشکلات، غذائی عدم تحفظ اور بنیادی خدمات کی تباہی کا شکار کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشیدگی میں مزید کوئی بھی اضافہ شہریوں کے مصائب کو مزید بڑھا دے گا اور قیامِ امن کی امیدوں کو کمزور کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اقوام متحدہ کے عملے، انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور سفارتی اسٹاف کی مسلسل غیر قانونی حراست کے ساتھ ساتھ حوثیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کی عمارتوں اور اثاثوں پر قبضے کی بھی شدید مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سفیر جدون نے تمام زیر حراست اہلکاروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور اقوام متحدہ کے عملے، تنصیبات اور اثاثوں کے استحقاق اور استثنیٰ کے مکمل احترام پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے میں امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پورے خطے میں مذاکرات، سفارت کاری، استحکام اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی  اور مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔</strong></p>
<p>یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب یمن کی حوثی تحریک نے سعودی عرب پر میزائل حملے کیے۔ حوثیوں نے الزام عائد کیا کہ سعودی عرب نے پیر کو ان کے زیرِ کنٹرول ایک ہوائی اڈے پر بمباری کی جس کے بعد سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے درمیان چار سال سے قائم جنگ بندی ٹوٹ گئی۔</p>
<p>یمن میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے تباہ کردیا۔</p>
<p>حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کے دارالحکومت ابہا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ یہ علاقہ یمن کی سرحد سے متصل پہاڑی خطہ ہے جہاں بہت سے سعودی شہری موسمِ گرما کی شدید گرمی سے بچنے کے لیے آتے ہیں۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق یمن کی خودمختاری، آزادی، وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے اسلام آباد کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور باہم جڑے ہوئے بحرانوں کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی کم کرنے کی مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔</p>
<p>پاکستانی مندوب نے کہا کہ یمن میں جامع اور پائیدار امن صرف اقوام متحدہ کی معاونت سے یمنی قیادت میں اور یمنیوں کی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اس سال کے اوائل میں طے پانے والے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے، سفیر جدون نے کہا کہ یہ پیش رفت ثابت کرتی ہے کہ مشکل حالات میں بھی مذاکرات ٹھوس نتائج دے سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس پیش رفت کو برقرار رکھیں اور ملک گیر پائیدار جنگ بندی اور ایک جامع سیاسی تصفیے کی جانب کام کریں۔</p>
<p>یمن میں انسانی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ برسوں کے تنازع نے یمنی عوام کو نقل مکانی، معاشی مشکلات، غذائی عدم تحفظ اور بنیادی خدمات کی تباہی کا شکار کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشیدگی میں مزید کوئی بھی اضافہ شہریوں کے مصائب کو مزید بڑھا دے گا اور قیامِ امن کی امیدوں کو کمزور کر دے گا۔</p>
<p>پاکستان نے اقوام متحدہ کے عملے، انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور سفارتی اسٹاف کی مسلسل غیر قانونی حراست کے ساتھ ساتھ حوثیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کی عمارتوں اور اثاثوں پر قبضے کی بھی شدید مذمت کی۔</p>
<p>ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سفیر جدون نے تمام زیر حراست اہلکاروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور اقوام متحدہ کے عملے، تنصیبات اور اثاثوں کے استحقاق اور استثنیٰ کے مکمل احترام پر زور دیا۔</p>
<p>خطے میں امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پورے خطے میں مذاکرات، سفارت کاری، استحکام اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔</p>
<p>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288694</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 13:34:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/141310317838bf6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/141310317838bf6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
