<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 15:12:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 14 Jul 2026 15:12:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>74 ہزار ڈیوائسز متاثر، فورٹی نیٹ صارفین کو فوری احتیاط کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288690/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے ایک اہم سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے سرکاری اداروں، بینکوں، ٹیلی کام آپریٹرز، توانائی کمپنیوں اور دیگر حساس انفرااسٹرکچر کے آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فورٹی نیٹ  فائر وال اور ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) سسٹمز کو فوری محفوظ بنائیں۔ یہ انتباہ ایک بڑے عالمی سائبر حملے کے پیش نظر جاری کیا گیا جس کے نتیجے میں 194 ممالک میں انٹرنیٹ سے منسلک تقریباً 74 ہزار ڈیوائسز متاثر ہوئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی ایڈوائزری میں نیشنل سرٹ نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی محققین نے ایسے شواہد کی نشاندہی کی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فورٹی نیٹ فورٹی گیٹ فائر وال کے تقریباً 73,932 انسٹینسز بڑے پیمانے پر سائبر حملے کا شکار ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں ایڈمنسٹریٹو اسناد افشا ہو گئی ہیں اور دنیا بھر میں اداروں اور حساس انفرااسٹرکچر کے نیٹ ورکس تک غیر مجاز رسائی ممکن ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ سائبر مہم پاکستان کے سرکاری اور نجی شعبوں کیلئے بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ان اداروں کیلئے جو انٹرنیٹ سے منسلک فورٹی نیٹ فورٹی گیٹ فائر والز اور ایس ایس ایل وی پی این  گیٹ ویز استعمال کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل سرٹ کے مطابق جاری سائبر مہم کے پیچھے منظم سائبر جرائم پیشہ گروہوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے جو وسیع پیمانے پر کریڈنشلز چوری کرنے، بروٹ فورس اٹیکس ، وی پی این اسناد کریک کرنے اور نیٹ ورک میں کامیابی سے داخل ہونے کے بعد اندرونی نیٹ ورکس میں رسائی حاصل کرنے  جیسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری کے مطابق حملہ آوروں نے عوامی سطح پر قابلِ رسائی فورٹی گیٹ مینجمنٹ انٹرفیسز اور پرانے طرز کے کریڈینشل اسٹوریج نظام میں موجود کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتظامی (ایڈمنسٹریٹو) رسائی حاصل کی اور متاثرہ اداروں کے نیٹ ورکس میں مستقل موجودگی  قائم کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں کہا گیا کہ اس سائبر مہم کے وسیع پیمانے، پیچیدگی اور مسلسل فعال استحصال کے پیش نظر فورٹی نیٹ فورٹی گیٹ  انفرااسٹرکچر استعمال کرنے والے تمام اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے سسٹمز کے خطرات کا جائزہ لیں، ضروری حفاظتی اقدامات نافذ کریں اور ممکنہ سائبر خطرات کی نشاندہی کے لیے تھریٹ ہنٹنگ سرگرمیاں انجام دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل سرٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ادارے متاثرہ سسٹمز کی بروقت جانچ اور ضروری اصلاحی اقدامات نہیں کرتے تو انہیں غیر مجاز ایڈمنسٹریٹو رسائی، وی پی این گیٹ ویز کے متاثر ہونے، حساس لاگ اِن اسناد کی چوری، ایکٹو ڈائریکٹری میں دراندازی، مستقل بیک ڈور کی تنصیب، ڈیٹا کے غیر قانونی اخراج  اور فائر وال کی سیکیورٹی پالیسیوں میں غیر مجاز تبدیلی جیسے سنگین سائبر خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ متاثرہ نیٹ ورکس کے باعث سرکاری اور نجی اداروں کی حساس معلومات افشا ہونے، اہم خدمات میں خلل پڑنے اور تیسرے فریق کے سسٹمز تک غیر مجاز رسائی کے ذریعے سپلائی چین سے متعلق سائبر خطرات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ادارے، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں، مالیاتی ادارے، آئی ٹی کمپنیاں، صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے، تعلیمی ادارے، صنعتی و پیداواری یونٹس، صنعتی آٹومیشن آپریٹرز، لاجسٹکس کمپنیاں اور دیگر حساس قومی انفرااسٹرکچر سے وابستہ ادارے اس سائبر مہم سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار شعبوں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکنہ سائبر دراندازی کا سراغ لگانے کے لیے نیشنل سرٹ نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر معمولی جغرافیائی مقامات سے ہونے والے ایڈمنسٹریٹر لاگ اِن، دفتری اوقات کے بعد رسائی، نئے ایڈمنسٹریٹر اکاؤنٹس کی تخلیق، مشتبہ وی پی این لاگ اِن، فائر وال رولز میں غیر متوقع تبدیلیاں، بلاجواز اختیارات میں اضافہ، غیر معمولی آؤٹ باؤنڈ نیٹ ورک ٹریفک اور ایکٹو ڈائریکٹری ماحول میں اندرونی نقل و حرکت کی علامات کا فوری جائزہ لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل سرٹ نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فورٹی گیٹ  مینجمنٹ انٹرفیسز کو فوری طور پر عوامی انٹرنیٹ رسائی سے ہٹا دیں، فورٹی او ایس  کے تازہ ترین معاونت یافتہ ورژن پر اپ گریڈ کریں، تمام ایڈمنسٹریٹر پاس ورڈز دوبارہ ترتیب دیں اور انتظامی و وی پی این اکاؤنٹس کے لیے ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن  لازمی نافذ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں مینجمنٹ تک رسائی کو صرف قابل اعتماد نیٹ ورکس تک محدود کرنے، فائر وال پالیسیوں اور ایڈمنسٹریٹر اکاؤنٹس کا جائزہ لینے، بہتر لاگنگ  کو فعال کرنے اور مشکوک سرگرمیوں کے لیے سسٹمز کی مسلسل نگرانی کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے ایک اہم سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے سرکاری اداروں، بینکوں، ٹیلی کام آپریٹرز، توانائی کمپنیوں اور دیگر حساس انفرااسٹرکچر کے آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فورٹی نیٹ  فائر وال اور ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) سسٹمز کو فوری محفوظ بنائیں۔ یہ انتباہ ایک بڑے عالمی سائبر حملے کے پیش نظر جاری کیا گیا جس کے نتیجے میں 194 ممالک میں انٹرنیٹ سے منسلک تقریباً 74 ہزار ڈیوائسز متاثر ہوئی ہیں۔</strong></p>
<p>اپنی ایڈوائزری میں نیشنل سرٹ نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی محققین نے ایسے شواہد کی نشاندہی کی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فورٹی نیٹ فورٹی گیٹ فائر وال کے تقریباً 73,932 انسٹینسز بڑے پیمانے پر سائبر حملے کا شکار ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں ایڈمنسٹریٹو اسناد افشا ہو گئی ہیں اور دنیا بھر میں اداروں اور حساس انفرااسٹرکچر کے نیٹ ورکس تک غیر مجاز رسائی ممکن ہو گئی ہے۔</p>
<p>ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ سائبر مہم پاکستان کے سرکاری اور نجی شعبوں کیلئے بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ان اداروں کیلئے جو انٹرنیٹ سے منسلک فورٹی نیٹ فورٹی گیٹ فائر والز اور ایس ایس ایل وی پی این  گیٹ ویز استعمال کررہے ہیں۔</p>
<p>نیشنل سرٹ کے مطابق جاری سائبر مہم کے پیچھے منظم سائبر جرائم پیشہ گروہوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے جو وسیع پیمانے پر کریڈنشلز چوری کرنے، بروٹ فورس اٹیکس ، وی پی این اسناد کریک کرنے اور نیٹ ورک میں کامیابی سے داخل ہونے کے بعد اندرونی نیٹ ورکس میں رسائی حاصل کرنے  جیسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایڈوائزری کے مطابق حملہ آوروں نے عوامی سطح پر قابلِ رسائی فورٹی گیٹ مینجمنٹ انٹرفیسز اور پرانے طرز کے کریڈینشل اسٹوریج نظام میں موجود کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتظامی (ایڈمنسٹریٹو) رسائی حاصل کی اور متاثرہ اداروں کے نیٹ ورکس میں مستقل موجودگی  قائم کرلی۔</p>
<p>ایڈوائزری میں کہا گیا کہ اس سائبر مہم کے وسیع پیمانے، پیچیدگی اور مسلسل فعال استحصال کے پیش نظر فورٹی نیٹ فورٹی گیٹ  انفرااسٹرکچر استعمال کرنے والے تمام اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے سسٹمز کے خطرات کا جائزہ لیں، ضروری حفاظتی اقدامات نافذ کریں اور ممکنہ سائبر خطرات کی نشاندہی کے لیے تھریٹ ہنٹنگ سرگرمیاں انجام دیں۔</p>
<p>نیشنل سرٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ادارے متاثرہ سسٹمز کی بروقت جانچ اور ضروری اصلاحی اقدامات نہیں کرتے تو انہیں غیر مجاز ایڈمنسٹریٹو رسائی، وی پی این گیٹ ویز کے متاثر ہونے، حساس لاگ اِن اسناد کی چوری، ایکٹو ڈائریکٹری میں دراندازی، مستقل بیک ڈور کی تنصیب، ڈیٹا کے غیر قانونی اخراج  اور فائر وال کی سیکیورٹی پالیسیوں میں غیر مجاز تبدیلی جیسے سنگین سائبر خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>ایڈوائزری میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ متاثرہ نیٹ ورکس کے باعث سرکاری اور نجی اداروں کی حساس معلومات افشا ہونے، اہم خدمات میں خلل پڑنے اور تیسرے فریق کے سسٹمز تک غیر مجاز رسائی کے ذریعے سپلائی چین سے متعلق سائبر خطرات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ادارے، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں، مالیاتی ادارے، آئی ٹی کمپنیاں، صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے، تعلیمی ادارے، صنعتی و پیداواری یونٹس، صنعتی آٹومیشن آپریٹرز، لاجسٹکس کمپنیاں اور دیگر حساس قومی انفرااسٹرکچر سے وابستہ ادارے اس سائبر مہم سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار شعبوں میں شامل ہیں۔</p>
<p>ممکنہ سائبر دراندازی کا سراغ لگانے کے لیے نیشنل سرٹ نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر معمولی جغرافیائی مقامات سے ہونے والے ایڈمنسٹریٹر لاگ اِن، دفتری اوقات کے بعد رسائی، نئے ایڈمنسٹریٹر اکاؤنٹس کی تخلیق، مشتبہ وی پی این لاگ اِن، فائر وال رولز میں غیر متوقع تبدیلیاں، بلاجواز اختیارات میں اضافہ، غیر معمولی آؤٹ باؤنڈ نیٹ ورک ٹریفک اور ایکٹو ڈائریکٹری ماحول میں اندرونی نقل و حرکت کی علامات کا فوری جائزہ لیں۔</p>
<p>نیشنل سرٹ نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فورٹی گیٹ  مینجمنٹ انٹرفیسز کو فوری طور پر عوامی انٹرنیٹ رسائی سے ہٹا دیں، فورٹی او ایس  کے تازہ ترین معاونت یافتہ ورژن پر اپ گریڈ کریں، تمام ایڈمنسٹریٹر پاس ورڈز دوبارہ ترتیب دیں اور انتظامی و وی پی این اکاؤنٹس کے لیے ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن  لازمی نافذ کریں۔</p>
<p>ایڈوائزری میں مینجمنٹ تک رسائی کو صرف قابل اعتماد نیٹ ورکس تک محدود کرنے، فائر وال پالیسیوں اور ایڈمنسٹریٹر اکاؤنٹس کا جائزہ لینے، بہتر لاگنگ  کو فعال کرنے اور مشکوک سرگرمیوں کے لیے سسٹمز کی مسلسل نگرانی کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288690</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 12:58:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/141216059ff3203.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/141216059ff3203.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
