<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 13:27:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 14 Jul 2026 13:27:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایس ایم او نے بجلی کی نیلامی کے فریم ورک میں ترامیم نیپرا کو بھجوا دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288684/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے انڈیپنڈنٹ سسٹم مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) نے بجلی کی موجودہ نیلامی (آکشن) کے طریقہ کار میں ترامیم تجویز کرتے ہوئے ضروری منظوری کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے رجوع کر لیا ہے۔ ان مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد بجلی کے شعبے میں شفافیت، کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس ایم او نے تجویز دی ہے کہ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجیز کے ذریعے نیلامی میں حصہ لینے والے سرمایہ کاروں کے لیے لازم ہو کہ وہ اپنی پیداواری تنصیبات کے ساتھ کم از کم 10 فیصد فرْم صلاحیت کے مساوی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم  بھی نصب کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس ایم او کے مطابق اس تجویز کا مقصد صرف گرڈ کو درپیش مسائل، جیسے کرٹیلمنٹ اور ڈک کرو سے نمٹنا ہی نہیں بلکہ نیلامی میں حصہ لینے والوں کے مالی منافع میں بھی اضافہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منظور شدہ موجودہ طریقہ کار کے تحت تجاویز جمع کرانے کی مدت ایک ماہ مقرر ہے اور اس میں توسیع کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاہم آئی ایس ایم او نے ایک اور ترمیم تجویز کی ہے جس کے تحت ممکنہ شرکاء کی درخواست پر تجاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ تک توسیع دی جا سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، آئی ایس ایم او نے نیلامی کے شرکاء کی شکایات کے ازالے کے لیے شکایات ازالہ کمیٹی  قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جس میں آئی ایس ایم او بورڈ کے دو آزاد ارکان اور ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری مراسلے کے مطابق یہ مجوزہ ترامیم بجلی کی مارکیٹ میں مسابقتی خریداری کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نیلامی کے طریقہ کار کے بعض انتظامی اور ساختی پہلوؤں کو موجودہ مارکیٹ کی ضروریات اور ریگولیٹری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم سے مختلف اسٹیک ہولڈرز کی مؤثر شرکت ممکن ہوگی اور نیلامی کا عمل مزید مسابقتی اور شفاف بن سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس ایم او نے نیپرا سے درخواست کی ہے کہ ان ترامیم کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لے کر بروقت ریگولیٹری رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ نظرثانی شدہ نیلامی فریم ورک کو جلد نافذ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب نیپرا نے 13 جولائی 2026 سے ایک ہفتے کے اندر تمام اسٹیک ہولڈرز، دلچسپی رکھنے والے فریقین اور عوام سے تحریری تجاویز اور آرا طلب کر لی ہیں۔ ریگولیٹر متعلقہ تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد عوامی سماعت منعقد کرے گا، جس کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے انڈیپنڈنٹ سسٹم مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) نے بجلی کی موجودہ نیلامی (آکشن) کے طریقہ کار میں ترامیم تجویز کرتے ہوئے ضروری منظوری کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے رجوع کر لیا ہے۔ ان مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد بجلی کے شعبے میں شفافیت، کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر بنانا ہے۔</strong></p>
<p>آئی ایس ایم او نے تجویز دی ہے کہ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجیز کے ذریعے نیلامی میں حصہ لینے والے سرمایہ کاروں کے لیے لازم ہو کہ وہ اپنی پیداواری تنصیبات کے ساتھ کم از کم 10 فیصد فرْم صلاحیت کے مساوی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم  بھی نصب کریں۔</p>
<p>آئی ایس ایم او کے مطابق اس تجویز کا مقصد صرف گرڈ کو درپیش مسائل، جیسے کرٹیلمنٹ اور ڈک کرو سے نمٹنا ہی نہیں بلکہ نیلامی میں حصہ لینے والوں کے مالی منافع میں بھی اضافہ کرنا ہے۔</p>
<p>منظور شدہ موجودہ طریقہ کار کے تحت تجاویز جمع کرانے کی مدت ایک ماہ مقرر ہے اور اس میں توسیع کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاہم آئی ایس ایم او نے ایک اور ترمیم تجویز کی ہے جس کے تحت ممکنہ شرکاء کی درخواست پر تجاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ تک توسیع دی جا سکے گی۔</p>
<p>مزید برآں، آئی ایس ایم او نے نیلامی کے شرکاء کی شکایات کے ازالے کے لیے شکایات ازالہ کمیٹی  قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جس میں آئی ایس ایم او بورڈ کے دو آزاد ارکان اور ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شامل ہوں گے۔</p>
<p>سرکاری مراسلے کے مطابق یہ مجوزہ ترامیم بجلی کی مارکیٹ میں مسابقتی خریداری کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نیلامی کے طریقہ کار کے بعض انتظامی اور ساختی پہلوؤں کو موجودہ مارکیٹ کی ضروریات اور ریگولیٹری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم سے مختلف اسٹیک ہولڈرز کی مؤثر شرکت ممکن ہوگی اور نیلامی کا عمل مزید مسابقتی اور شفاف بن سکے گا۔</p>
<p>آئی ایس ایم او نے نیپرا سے درخواست کی ہے کہ ان ترامیم کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لے کر بروقت ریگولیٹری رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ نظرثانی شدہ نیلامی فریم ورک کو جلد نافذ کیا جا سکے۔</p>
<p>دوسری جانب نیپرا نے 13 جولائی 2026 سے ایک ہفتے کے اندر تمام اسٹیک ہولڈرز، دلچسپی رکھنے والے فریقین اور عوام سے تحریری تجاویز اور آرا طلب کر لی ہیں۔ ریگولیٹر متعلقہ تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد عوامی سماعت منعقد کرے گا، جس کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288684</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 10:12:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14101015c886413.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14101015c886413.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
