<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 21:11:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 13 Jul 2026 21:11:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تمام موبائل آریٹرز کی سروس کوالٹی میں خامیاں برقرار، پی ٹی اے کا سروے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288665/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریگولیٹر کی جانب سے کیے گئے ایک آزاد سروے کے مطابق سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے سروس کوالٹی (کیو او ایس) کے معیار پر صرف جزوی عمل درآمد کیا اور کوئی بھی آپریٹر تمام اہم کارکردگی کے اشاریوں پر مکمل پورا اترنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری اور مارچ 2026 کے درمیان 18 شہروں میں کیے گئے اس سروے میں جیز، یوفون، ٹیلینار اور زونگ  کی کارکردگی کا جائزہ سیلولر موبائل نیٹ ورک ریگولیشنز 2021 کے تحت موبائل نیٹ ورک کوریج، براڈ بینڈ کارکردگی، وائس کوالٹی اور ایس ایم ایس سروسز پر مشتمل 216 اشاریوں (کے پی آئیز) کے مطابق لیا گیا۔ پی ٹی اے نے اس 75 روزہ مشق کے دوران موبائل ڈیٹا کی کثیر تعداد میں پیمائش کے ساتھ ساتھ تقریباً 43,222 وائس کال اور ایس ایم ایس ٹیسٹ کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ تمام آپریٹرز نے ریگولیٹری بینچ مارکس کی اکثریت کو پورا کیا، لیکن کسی نے بھی 100 فیصد تعمیل حاصل نہیں کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نیٹ ورک کی مسلسل توسیع کے باوجود سروس کوالٹی میں خامیاں برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے کے دوران ٹیکنالوجی آٹو ڈیٹیکٹ موڈ میں ڈیٹا ٹیسٹ کرتے ہوئے سروے کے راستوں پرایل ٹی ای / فورجی سگنل کی طاقت کے نمونے ریکارڈ کیے گئے۔ تاہم تمام آپریٹرز اس معیار  پر پورا اترے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیٹنسی، اگرچہ ایک روایتی معیار نہیں ہے  لیکن موبائل براڈ بینڈ کی کارکردگی کے لیے ایک اہم میٹرک ہے، کیونکہ یہ براہ راست صارف کے تجربے کو متاثر کرتا ہے۔ سروے کے دوران مختلف ویب سائٹس اور تھرڈ پارٹی ٹیسٹ سرورز کے درمیان پنگ کا حساب لگا کر نیٹ ورک لیٹنسی کی پیمائش کی گئی۔ تاہم آپریٹرز اس معیار پر جزوی طور پر پورا اترے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیز 216 میں سے 205 اشاریوں  یعنی 95 فیصد پر پورا اتر کر بہترین کارکردگی دکھانے والا آپریٹر بن کر ابھرا۔ زونگ 200 درست اشاریوں (93 فیصد) کے ساتھ دوسرے، یوفون 193 اشاریوں (89 فیصد) پر پورا اترا، جبکہ ٹیلینار نے سب سے کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جو صرف 169 اشاریوں یعنی 78 فیصد پر پورا اتر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کی مجموعی درجہ بندی میں جیز ایس ایم ایس سروسز اور ڈاؤن لوڈ اسپیڈ (تھرو پٹ) میں پہلے نمبر پر رہا، جبکہ زونگ وائس سروسز، موبائل نیٹ ورک کوریج اور اپ لوڈ اسپیڈ میں سرفہرست رہا۔ یوفون نے زیادہ تر سروس کیٹیگریز میں تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ ٹیلینار موبائل براڈ بینڈ کی کارکردگی میں مستقل طور پر چوتھے اور وائس و ایس ایم ایس سروسز میں تیسرے نمبر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہروں کے لحاظ سے نتائج سے معلوم ہوا کہ جیز نے سروے کیے گئے زیادہ تر مقامات بشمول راولپنڈی، کراچی ویسٹ، حیدرآباد، صوابی اور کئی دوسرے شہروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ زونگ لورالائی، ملکوال، سیالکوٹ اور ژوب جیسے شہروں میں آگے رہا، جبکہ یوفون صرف اسلام آباد میں پہلی پوزیشن حاصل کر سکا۔ ٹیلینار سروے کیے گئے 18 شہروں میں سے کسی میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں ناکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر نے پایا کہ جیز ڈاؤن لوڈ اسپیڈ میں غالب رہا، جس نے آٹو موڈ ٹیسٹنگ کے تحت 13 شہروں میں اور تھرڈ پارٹی ایپلیکیشن ٹیسٹنگ میں 11 شہروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ تاہم زونگ نے اپ لوڈنگ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس نے آٹو موڈ ٹیسٹنگ میں 12 شہروں میں اور تھرڈ پارٹی ایپلیکیشن کی پیمائش میں 11 شہروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائس کوالٹی کے نتائج زونگ کے حق میں رہے، جس نے وائس کوالٹی کے 90 میں سے 88 اشاریوں میں کامیابی ریکارڈ کی، جو جیز، ٹیلینار اور یوفون سے آگے ہے۔ ایس ایم ایس کارکردگی کے لیے جیز نے سب سے زیادہ تعمیل حاصل کی، جس کے بعد زونگ، یوفون اور ٹیلینار کا نمبر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پانچ شہروں صوابی، راولپنڈی، حب، حیدرآباد اور پیر محل میں ٹیلینار کی ڈیٹا کارکردگی کا جائزہ نہیں لیا جا سکا کیونکہ اس کے ٹیسٹنگ آلات میں ریگولیٹر کے طریقہ کار کے تحت مطلوبہ لازمی پیمائشی صلاحیتوں کی کمی تھی۔ نتیجے کے طور پر ان مقامات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے نتائج کو تشخیص سے خارج کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ اس سہ ماہی سروے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگ معیاروں کی تعمیل کو یقینی بنانا اور سروس کی ان خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے جن کے لیے اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج بتاتے ہیں کہ اگرچہ آپریٹرز عام طور پر زیادہ تر ریگولیٹری بینچ مارکس کو پورا کرتے ہیں، لیکن پاکستان کے موبائل نیٹ ورکس پی ٹی اے کے سروس کوالٹی کے معیاروں پر مکمل پورا اترنے سے پہلے مزید بہتری کے محتاج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں 2025 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے کسٹمر سروس پرفارمنس کے تازہ ترین سروے سے ٹیلی کام آپریٹرز کی کسٹمر سروس میں وسیع پیمانے پر خامیاں سامنے آئی ہیں، جہاں کوئی بھی موبائل آپریٹر شکایات کے جواب دینے کے مقررہ وقت (ریسپانس ٹائم) کے معیار پر پورا نہیں اتر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سروے، جو ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن (امینڈمنٹ) ریگولیشنز، 2017 کے تحت کیا گیا، اس میں کال سینٹر کی کارکردگی، شکایات سے نمٹنے، بلنگ کی درستگی، سروس کی ایکٹیویشن/ڈی ایکٹیویشن، دوبارہ کنکشن کا وقت اور ہنگامی سروس تک رسائی سمیت اہم کارکردگی کے اشاریوں کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق تمام آپریٹرز صارفین کی شکایات کے ازالے کے مقررہ وقت کو حاصل کرنے میں ناکام رہے، جبکہ صرف یوفون آپریٹر کی مدد کے جواب اور کیو (انتظار کے) ٹائم کے بینچ مارک پر پورا اترا۔ جیز واحد آپریٹر تھا جس نے مسائل کے حل کی مجموعی کامیابی کی شرح کو مطمئن کیا، جبکہ ٹیلینار، زونگ، یوفون اور ایس کام  مطلوبہ معیار سے پیچھے رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے ہنگامی ہیلپ لائن تک رسائی میں بھی خامیاں پائیں، جہاں کوئٹہ، پشاور، ملتان، فیصل آباد اور گلگت بلتستان سمیت مختلف شہروں میں مختلف نیٹ ورکس پر کئی ہنگامی نمبر یا تو دستیاب نہیں تھے یا ان کی میپنگ غلط کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خامیوں کے باوجود تمام آپریٹرز نے نئی سروس کی ایکٹیویشن اور سروس ڈی ایکٹیویشن کے بینچ مارکس کو کامیابی سے پورا کیا، جبکہ جیز اور زونگ نے مقررہ 15 منٹ کی حد کے اندر 100 فیصد دوبارہ کنکشن (ری کنکشن) کی کامیابی کی شرح حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سروے تعمیل اور عدم تعمیل کے ملے جلے رجحان کی عکاسی کرتا ہے اور کہا کہ ان نتائج کو ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ اصلاحی اقدامات اور سروس میں بہتری کے لیے شیئر کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ریگولیٹر کی جانب سے کیے گئے ایک آزاد سروے کے مطابق سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے سروس کوالٹی (کیو او ایس) کے معیار پر صرف جزوی عمل درآمد کیا اور کوئی بھی آپریٹر تمام اہم کارکردگی کے اشاریوں پر مکمل پورا اترنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔</strong></p>
<p>جنوری اور مارچ 2026 کے درمیان 18 شہروں میں کیے گئے اس سروے میں جیز، یوفون، ٹیلینار اور زونگ  کی کارکردگی کا جائزہ سیلولر موبائل نیٹ ورک ریگولیشنز 2021 کے تحت موبائل نیٹ ورک کوریج، براڈ بینڈ کارکردگی، وائس کوالٹی اور ایس ایم ایس سروسز پر مشتمل 216 اشاریوں (کے پی آئیز) کے مطابق لیا گیا۔ پی ٹی اے نے اس 75 روزہ مشق کے دوران موبائل ڈیٹا کی کثیر تعداد میں پیمائش کے ساتھ ساتھ تقریباً 43,222 وائس کال اور ایس ایم ایس ٹیسٹ کیے۔</p>
<p>نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ تمام آپریٹرز نے ریگولیٹری بینچ مارکس کی اکثریت کو پورا کیا، لیکن کسی نے بھی 100 فیصد تعمیل حاصل نہیں کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نیٹ ورک کی مسلسل توسیع کے باوجود سروس کوالٹی میں خامیاں برقرار ہیں۔</p>
<p>سروے کے دوران ٹیکنالوجی آٹو ڈیٹیکٹ موڈ میں ڈیٹا ٹیسٹ کرتے ہوئے سروے کے راستوں پرایل ٹی ای / فورجی سگنل کی طاقت کے نمونے ریکارڈ کیے گئے۔ تاہم تمام آپریٹرز اس معیار  پر پورا اترے۔</p>
<p>لیٹنسی، اگرچہ ایک روایتی معیار نہیں ہے  لیکن موبائل براڈ بینڈ کی کارکردگی کے لیے ایک اہم میٹرک ہے، کیونکہ یہ براہ راست صارف کے تجربے کو متاثر کرتا ہے۔ سروے کے دوران مختلف ویب سائٹس اور تھرڈ پارٹی ٹیسٹ سرورز کے درمیان پنگ کا حساب لگا کر نیٹ ورک لیٹنسی کی پیمائش کی گئی۔ تاہم آپریٹرز اس معیار پر جزوی طور پر پورا اترے۔</p>
<p>جیز 216 میں سے 205 اشاریوں  یعنی 95 فیصد پر پورا اتر کر بہترین کارکردگی دکھانے والا آپریٹر بن کر ابھرا۔ زونگ 200 درست اشاریوں (93 فیصد) کے ساتھ دوسرے، یوفون 193 اشاریوں (89 فیصد) پر پورا اترا، جبکہ ٹیلینار نے سب سے کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جو صرف 169 اشاریوں یعنی 78 فیصد پر پورا اتر سکا۔</p>
<p>پی ٹی اے کی مجموعی درجہ بندی میں جیز ایس ایم ایس سروسز اور ڈاؤن لوڈ اسپیڈ (تھرو پٹ) میں پہلے نمبر پر رہا، جبکہ زونگ وائس سروسز، موبائل نیٹ ورک کوریج اور اپ لوڈ اسپیڈ میں سرفہرست رہا۔ یوفون نے زیادہ تر سروس کیٹیگریز میں تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ ٹیلینار موبائل براڈ بینڈ کی کارکردگی میں مستقل طور پر چوتھے اور وائس و ایس ایم ایس سروسز میں تیسرے نمبر پر رہا۔</p>
<p>شہروں کے لحاظ سے نتائج سے معلوم ہوا کہ جیز نے سروے کیے گئے زیادہ تر مقامات بشمول راولپنڈی، کراچی ویسٹ، حیدرآباد، صوابی اور کئی دوسرے شہروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ زونگ لورالائی، ملکوال، سیالکوٹ اور ژوب جیسے شہروں میں آگے رہا، جبکہ یوفون صرف اسلام آباد میں پہلی پوزیشن حاصل کر سکا۔ ٹیلینار سروے کیے گئے 18 شہروں میں سے کسی میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں ناکام رہا۔</p>
<p>ریگولیٹر نے پایا کہ جیز ڈاؤن لوڈ اسپیڈ میں غالب رہا، جس نے آٹو موڈ ٹیسٹنگ کے تحت 13 شہروں میں اور تھرڈ پارٹی ایپلیکیشن ٹیسٹنگ میں 11 شہروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ تاہم زونگ نے اپ لوڈنگ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس نے آٹو موڈ ٹیسٹنگ میں 12 شہروں میں اور تھرڈ پارٹی ایپلیکیشن کی پیمائش میں 11 شہروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔</p>
<p>وائس کوالٹی کے نتائج زونگ کے حق میں رہے، جس نے وائس کوالٹی کے 90 میں سے 88 اشاریوں میں کامیابی ریکارڈ کی، جو جیز، ٹیلینار اور یوفون سے آگے ہے۔ ایس ایم ایس کارکردگی کے لیے جیز نے سب سے زیادہ تعمیل حاصل کی، جس کے بعد زونگ، یوفون اور ٹیلینار کا نمبر رہا۔</p>
<p>پی ٹی اے نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پانچ شہروں صوابی، راولپنڈی، حب، حیدرآباد اور پیر محل میں ٹیلینار کی ڈیٹا کارکردگی کا جائزہ نہیں لیا جا سکا کیونکہ اس کے ٹیسٹنگ آلات میں ریگولیٹر کے طریقہ کار کے تحت مطلوبہ لازمی پیمائشی صلاحیتوں کی کمی تھی۔ نتیجے کے طور پر ان مقامات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے نتائج کو تشخیص سے خارج کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ اس سہ ماہی سروے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگ معیاروں کی تعمیل کو یقینی بنانا اور سروس کی ان خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے جن کے لیے اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔</p>
<p>نتائج بتاتے ہیں کہ اگرچہ آپریٹرز عام طور پر زیادہ تر ریگولیٹری بینچ مارکس کو پورا کرتے ہیں، لیکن پاکستان کے موبائل نیٹ ورکس پی ٹی اے کے سروس کوالٹی کے معیاروں پر مکمل پورا اترنے سے پہلے مزید بہتری کے محتاج ہیں۔</p>
<p>مزید برآں 2025 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے کسٹمر سروس پرفارمنس کے تازہ ترین سروے سے ٹیلی کام آپریٹرز کی کسٹمر سروس میں وسیع پیمانے پر خامیاں سامنے آئی ہیں، جہاں کوئی بھی موبائل آپریٹر شکایات کے جواب دینے کے مقررہ وقت (ریسپانس ٹائم) کے معیار پر پورا نہیں اتر سکا۔</p>
<p>یہ سروے، جو ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن (امینڈمنٹ) ریگولیشنز، 2017 کے تحت کیا گیا، اس میں کال سینٹر کی کارکردگی، شکایات سے نمٹنے، بلنگ کی درستگی، سروس کی ایکٹیویشن/ڈی ایکٹیویشن، دوبارہ کنکشن کا وقت اور ہنگامی سروس تک رسائی سمیت اہم کارکردگی کے اشاریوں کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق تمام آپریٹرز صارفین کی شکایات کے ازالے کے مقررہ وقت کو حاصل کرنے میں ناکام رہے، جبکہ صرف یوفون آپریٹر کی مدد کے جواب اور کیو (انتظار کے) ٹائم کے بینچ مارک پر پورا اترا۔ جیز واحد آپریٹر تھا جس نے مسائل کے حل کی مجموعی کامیابی کی شرح کو مطمئن کیا، جبکہ ٹیلینار، زونگ، یوفون اور ایس کام  مطلوبہ معیار سے پیچھے رہ گئے۔</p>
<p>پی ٹی اے نے ہنگامی ہیلپ لائن تک رسائی میں بھی خامیاں پائیں، جہاں کوئٹہ، پشاور، ملتان، فیصل آباد اور گلگت بلتستان سمیت مختلف شہروں میں مختلف نیٹ ورکس پر کئی ہنگامی نمبر یا تو دستیاب نہیں تھے یا ان کی میپنگ غلط کی گئی تھی۔</p>
<p>ان خامیوں کے باوجود تمام آپریٹرز نے نئی سروس کی ایکٹیویشن اور سروس ڈی ایکٹیویشن کے بینچ مارکس کو کامیابی سے پورا کیا، جبکہ جیز اور زونگ نے مقررہ 15 منٹ کی حد کے اندر 100 فیصد دوبارہ کنکشن (ری کنکشن) کی کامیابی کی شرح حاصل کی۔</p>
<p>پی ٹی اے نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سروے تعمیل اور عدم تعمیل کے ملے جلے رجحان کی عکاسی کرتا ہے اور کہا کہ ان نتائج کو ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ اصلاحی اقدامات اور سروس میں بہتری کے لیے شیئر کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288665</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 18:44:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/131825002358ba2.webp" type="image/webp" medium="image" height="441" width="588">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/131825002358ba2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
