<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 14:49:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 13 Jul 2026 14:49:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ویمبلڈن بوائز فائنل میں شکست کے بعد کروز ہیوٹ کی نظریں آسٹریلین اوپن کھیلنے پر ٹک گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288641/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ویمبلڈن بوائز فائنل میں امریکی کھلاڑی جارڈن لی سے شکست کے بعد سابق ٹینس اسٹار لیٹن ہیوٹ کے بیٹے کروز ہیوٹ نے کہا ہے کہ ان کا اگلا ہدف آسٹریلین اوپن کے اہم مقابلوں میں جگہ بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سن 2002 میں اپنے والد کی ویمبلڈن جیت کے تقریباً پچیس سال بعد 17 سالہ کروز کو آل انگلینڈ کلب میں جارڈن لی کے ہاتھوں 4-6، 6-4 اور 7-5 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کروز 2011 میں لیوک سیول کے بعد ویمبلڈن بوائز چیمپیئن بننے والے پہلے آسٹریلوی کھلاڑی بننے کی امید لگا رہے تھے۔شکست کے بعد کروز نے کہا کہ میں نے بہترین ٹینس کھیلی اور یہ ایک شاندار مقابلہ تھا۔ جارڈن نے مجھ سے بہتر کھیلا اور وہ جیت کا حقدار تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں مایوس ضرور ہوں لیکن فائنل تک پہنچنے کی کوشش پر فخر ہے۔ میں اسی ٹورنامنٹ کے ماحول میں بڑا ہوا ہوں اور اپنے والد کو یہاں کھیلتے دیکھا ہے۔ یہاں کھیلنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور مستقبل میں یہاں مینز الیون میں واپسی کا منتظر ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ویمبلڈن بوائز فائنل میں امریکی کھلاڑی جارڈن لی سے شکست کے بعد سابق ٹینس اسٹار لیٹن ہیوٹ کے بیٹے کروز ہیوٹ نے کہا ہے کہ ان کا اگلا ہدف آسٹریلین اوپن کے اہم مقابلوں میں جگہ بنانا ہے۔</strong></p>
<p>سن 2002 میں اپنے والد کی ویمبلڈن جیت کے تقریباً پچیس سال بعد 17 سالہ کروز کو آل انگلینڈ کلب میں جارڈن لی کے ہاتھوں 4-6، 6-4 اور 7-5 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کروز 2011 میں لیوک سیول کے بعد ویمبلڈن بوائز چیمپیئن بننے والے پہلے آسٹریلوی کھلاڑی بننے کی امید لگا رہے تھے۔شکست کے بعد کروز نے کہا کہ میں نے بہترین ٹینس کھیلی اور یہ ایک شاندار مقابلہ تھا۔ جارڈن نے مجھ سے بہتر کھیلا اور وہ جیت کا حقدار تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں مایوس ضرور ہوں لیکن فائنل تک پہنچنے کی کوشش پر فخر ہے۔ میں اسی ٹورنامنٹ کے ماحول میں بڑا ہوا ہوں اور اپنے والد کو یہاں کھیلتے دیکھا ہے۔ یہاں کھیلنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور مستقبل میں یہاں مینز الیون میں واپسی کا منتظر ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288641</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 12:14:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/131206297a0acf6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/131206297a0acf6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
