<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 14:16:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 13 Jul 2026 14:16:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا رجحان، 20 سے زائد ممالک کا قوانین متعارف کرانے پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288636/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپی یونین کی جانب سے بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کے مجوزہ منصوبے کے ساتھ دنیا بھر میں اس حوالے سے قوانین اور پابندیوں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق 20 سے زائد ممالک ایسے اقدامات متعارف کرا چکے ہیں یا ان پر غور کر رہے ہیں، جبکہ پانچ ممالک میں پابندیاں پہلے ہی نافذ ہو چکی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا میں دسمبر 2025 سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد ہے۔ برازیل نے مارچ میں قانون منظور کیا جس کے تحت 16 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کو والدین کے اکاؤنٹس سے منسلک کرنا اور عمر کی تصدیق لازمی قرار دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں 2019 سے نابالغوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مرحلہ وار پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، جبکہ انڈونیشیا اور ملائیشیا نے بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کر دی ہے۔ ترکیہ اور متحدہ عرب امارات بھی ایسے قوانین نافذ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین میں یونان نے 2027 سے 15 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا اعلان کیا ہے، جبکہ آسٹریا، سلووینیا، جرمنی، سویڈن، آئرلینڈ اور ڈنمارک بھی اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین  سے باہر ناروے، برطانیہ اور کینیڈا بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی یا عمر کی حد 16 سال مقرر کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ بھارت میں بھی مختلف ریاستیں بچوں کے لیے پابندیوں پر غور کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس، پرتگال، اسپین اور اٹلی میں بھی مجوزہ قوانین زیر غور ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی ذہنی صحت، آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل لت کے بڑھتے خدشات کے باعث دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے عمر کی سخت حدود مقرر کرنے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپی یونین کی جانب سے بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کے مجوزہ منصوبے کے ساتھ دنیا بھر میں اس حوالے سے قوانین اور پابندیوں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق 20 سے زائد ممالک ایسے اقدامات متعارف کرا چکے ہیں یا ان پر غور کر رہے ہیں، جبکہ پانچ ممالک میں پابندیاں پہلے ہی نافذ ہو چکی ہیں۔</strong></p>
<p>آسٹریلیا میں دسمبر 2025 سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد ہے۔ برازیل نے مارچ میں قانون منظور کیا جس کے تحت 16 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کو والدین کے اکاؤنٹس سے منسلک کرنا اور عمر کی تصدیق لازمی قرار دی گئی۔</p>
<p>چین میں 2019 سے نابالغوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مرحلہ وار پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، جبکہ انڈونیشیا اور ملائیشیا نے بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کر دی ہے۔ ترکیہ اور متحدہ عرب امارات بھی ایسے قوانین نافذ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین میں یونان نے 2027 سے 15 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا اعلان کیا ہے، جبکہ آسٹریا، سلووینیا، جرمنی، سویڈن، آئرلینڈ اور ڈنمارک بھی اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین  سے باہر ناروے، برطانیہ اور کینیڈا بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی یا عمر کی حد 16 سال مقرر کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ بھارت میں بھی مختلف ریاستیں بچوں کے لیے پابندیوں پر غور کر رہی ہیں۔</p>
<p>فرانس، پرتگال، اسپین اور اٹلی میں بھی مجوزہ قوانین زیر غور ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی ذہنی صحت، آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل لت کے بڑھتے خدشات کے باعث دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے عمر کی سخت حدود مقرر کرنے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288636</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 10:41:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/131037090b1f187.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/131037090b1f187.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
