<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 14:16:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 13 Jul 2026 14:16:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترسیلات زر، وقتی ریلیف یا دیرپا حل؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288634/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی ترسیلات زر کی کہانی نے مالی سال 2025-26 کا اختتام ایک مضبوط انداز میں کیا۔ کارکنوں کی ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے 38.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.6 فیصد زیادہ ہیں۔ جون میں موصول ہونے والی ترسیلات 3.475 ارب ڈالر رہیں، جو عید کے باعث مئی میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح سے کم تھیں، لیکن تاریخی معیار کے مطابق اب بھی خاصی مضبوط سمجھی جاتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کیونکہ ترسیلات زر نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے بیرونی کھاتوں  کا سب سے بڑا سہارا فراہم کیا۔ مالی سال 2025-26 میں ترسیلات زر کی مالیت ملک کے اشیا اور خدمات کے خالص تجارتی خسارے  سے واضح طور پر زیادہ رہی۔ یہ صورتحال مالی سال 2021-22 سے بالکل مختلف ہے، جب تجارتی خسارہ ترسیلات زر کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل المدتی رجحان اس سے بھی زیادہ متاثر کن ہے۔ ترسیلاتِ زر مالی سال 2016-17 کے 19.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، یعنی ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں ان کا حجم دوگنا سے زیادہ ہو گیا۔ اگرچہ مالی سال 2022-23 میں یہ کم ہو کر 27.3 ارب ڈالر رہ گئی تھیں، تاہم بعد ازاں ان میں دوبارہ اضافہ ہوا اور مالی سال 2025-26 میں ایک نئی بلند ترین سطح قائم ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203e46cf04.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203e46cf04.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ممالک بدستور ترسیلات زر کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ سعودی عرب سے سب سے زیادہ 9.78 ارب ڈالر موصول ہوئے، اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 8.81 ارب ڈالر آئے۔ برطانیہ سے 6.33 ارب ڈالر، یورپی یونین کے ممالک سے 5.23 ارب ڈالر، دیگر خلیجی تعاون کونسل  کے ممالک سے 3.93 ارب ڈالر جبکہ امریکا سے 3.62 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سب سے نمایاں اضافہ متحدہ عرب امارات سے دیکھنے میں آیا، جہاں سے گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 978 ملین ڈالر زیادہ موصول ہوئے۔ اس کے بعد یورپی یونین کے ممالک، سعودی عرب اور برطانیہ کا نمبر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اصل تصویر کو سمجھنے کے لیے باریک نکات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ مئی میں ریکارڈ 4.25 ارب ڈالر کی ترسیلات بڑی حد تک عید کی وجہ سے بروقت بھیجی گئی رقوم کا نتیجہ تھیں، اس لیے اسے مستقبل کے لیے ہر ماہ آنے والی معمول کی سطح نہیں سمجھنا چاہیے۔ جون میں ترسیلات میں آنے والی کمی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ایک حد تک معمول کی سطح پر واپسی متوقع تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203c43d1a3.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203c43d1a3.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ امکان بھی موجود ہے کہ حالیہ اضافے کا ایک حصہ، خاص طور پر متحدہ عرب امارات سے آنے والی رقوم، صرف ماہانہ آمدنی کی ترسیل نہیں بلکہ بیرونِ ملک جمع شدہ بچتوں یا اثاثوں کو پاکستان منتقل کرنے کا نتیجہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم جولائی سے ترسیلات بھیجنے والوں اور انہیں وصول کرنے والے خاندانوں کے لیے ترسیلات بدستور مفت رہیں گی، تاہم اب حکومت اس سہولت کی لاگت برداشت نہیں کرے گی۔ اس کے بجائے بینکوں کو یہ اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے، جو ایک مناسب فیصلہ ہے کیونکہ ترسیلاتِ زر کے بہاؤ سے انہیں پہلے ہی مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/130542020ae0e35.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/130542020ae0e35.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا بینک ترسیلات کے نظام کو تیز، آسان اور مسابقتی برقرار رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر انہوں نے اس عمل کو مہنگا یا پیچیدہ بنا دیا تو ترسیلات کا ایک حصہ تیزی سے دوبارہ ہنڈی اور حوالہ جیسے غیر رسمی ذرائع کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی حقیقت اب بھی تبدیل نہیں ہوئی۔ ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی شعبے کے لیے سب سے مضبوط سہارا ضرور ہیں، لیکن وہ ترقی کا مستقل ماڈل نہیں بن سکتیں۔ یہ زرمبادلہ کے ذخائر، گھریلو آمدنی اور روپے کو سہارا دیتی ہیں، مگر یہ کمزور برآمدات، کم سرمایہ کاری اور محدود گھریلو بچتوں کی کمی کو ہمیشہ پورا نہیں کر سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی قوت کا اظہار کیا۔ مالی سال 2026-27 پاکستان کے ترسیلات زر کے نظام کی مضبوطی کا امتحان ہوگا۔ ریکارڈ ترسیلات نے ملک کو وقتی ریلیف ضرور فراہم کیا ہے، مگر اصل چیلنج یہ ہے کہ ان ترسیلات کو رسمی ذرائع سے برقرار رکھا جائے، ان کے نظام کو قابلِ اعتماد بنایا جائے اور انہیں صرف کھپت کے بجائے پیداواری سرمایہ  میں تبدیل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی ترسیلات زر کی کہانی نے مالی سال 2025-26 کا اختتام ایک مضبوط انداز میں کیا۔ کارکنوں کی ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے 38.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.6 فیصد زیادہ ہیں۔ جون میں موصول ہونے والی ترسیلات 3.475 ارب ڈالر رہیں، جو عید کے باعث مئی میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح سے کم تھیں، لیکن تاریخی معیار کے مطابق اب بھی خاصی مضبوط سمجھی جاتی ہیں۔</strong></p>
<p>یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کیونکہ ترسیلات زر نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے بیرونی کھاتوں  کا سب سے بڑا سہارا فراہم کیا۔ مالی سال 2025-26 میں ترسیلات زر کی مالیت ملک کے اشیا اور خدمات کے خالص تجارتی خسارے  سے واضح طور پر زیادہ رہی۔ یہ صورتحال مالی سال 2021-22 سے بالکل مختلف ہے، جب تجارتی خسارہ ترسیلات زر کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔</p>
<p>طویل المدتی رجحان اس سے بھی زیادہ متاثر کن ہے۔ ترسیلاتِ زر مالی سال 2016-17 کے 19.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، یعنی ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں ان کا حجم دوگنا سے زیادہ ہو گیا۔ اگرچہ مالی سال 2022-23 میں یہ کم ہو کر 27.3 ارب ڈالر رہ گئی تھیں، تاہم بعد ازاں ان میں دوبارہ اضافہ ہوا اور مالی سال 2025-26 میں ایک نئی بلند ترین سطح قائم ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203e46cf04.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203e46cf04.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>خلیجی ممالک بدستور ترسیلات زر کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ سعودی عرب سے سب سے زیادہ 9.78 ارب ڈالر موصول ہوئے، اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 8.81 ارب ڈالر آئے۔ برطانیہ سے 6.33 ارب ڈالر، یورپی یونین کے ممالک سے 5.23 ارب ڈالر، دیگر خلیجی تعاون کونسل  کے ممالک سے 3.93 ارب ڈالر جبکہ امریکا سے 3.62 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔</p>
<p>ان میں سب سے نمایاں اضافہ متحدہ عرب امارات سے دیکھنے میں آیا، جہاں سے گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 978 ملین ڈالر زیادہ موصول ہوئے۔ اس کے بعد یورپی یونین کے ممالک، سعودی عرب اور برطانیہ کا نمبر رہا۔</p>
<p>تاہم، اصل تصویر کو سمجھنے کے لیے باریک نکات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ مئی میں ریکارڈ 4.25 ارب ڈالر کی ترسیلات بڑی حد تک عید کی وجہ سے بروقت بھیجی گئی رقوم کا نتیجہ تھیں، اس لیے اسے مستقبل کے لیے ہر ماہ آنے والی معمول کی سطح نہیں سمجھنا چاہیے۔ جون میں ترسیلات میں آنے والی کمی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ایک حد تک معمول کی سطح پر واپسی متوقع تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203c43d1a3.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/13054203c43d1a3.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ امکان بھی موجود ہے کہ حالیہ اضافے کا ایک حصہ، خاص طور پر متحدہ عرب امارات سے آنے والی رقوم، صرف ماہانہ آمدنی کی ترسیل نہیں بلکہ بیرونِ ملک جمع شدہ بچتوں یا اثاثوں کو پاکستان منتقل کرنے کا نتیجہ ہو۔</p>
<p>یکم جولائی سے ترسیلات بھیجنے والوں اور انہیں وصول کرنے والے خاندانوں کے لیے ترسیلات بدستور مفت رہیں گی، تاہم اب حکومت اس سہولت کی لاگت برداشت نہیں کرے گی۔ اس کے بجائے بینکوں کو یہ اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے، جو ایک مناسب فیصلہ ہے کیونکہ ترسیلاتِ زر کے بہاؤ سے انہیں پہلے ہی مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/130542020ae0e35.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/130542020ae0e35.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا بینک ترسیلات کے نظام کو تیز، آسان اور مسابقتی برقرار رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر انہوں نے اس عمل کو مہنگا یا پیچیدہ بنا دیا تو ترسیلات کا ایک حصہ تیزی سے دوبارہ ہنڈی اور حوالہ جیسے غیر رسمی ذرائع کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>بڑی حقیقت اب بھی تبدیل نہیں ہوئی۔ ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی شعبے کے لیے سب سے مضبوط سہارا ضرور ہیں، لیکن وہ ترقی کا مستقل ماڈل نہیں بن سکتیں۔ یہ زرمبادلہ کے ذخائر، گھریلو آمدنی اور روپے کو سہارا دیتی ہیں، مگر یہ کمزور برآمدات، کم سرمایہ کاری اور محدود گھریلو بچتوں کی کمی کو ہمیشہ پورا نہیں کر سکتیں۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی قوت کا اظہار کیا۔ مالی سال 2026-27 پاکستان کے ترسیلات زر کے نظام کی مضبوطی کا امتحان ہوگا۔ ریکارڈ ترسیلات نے ملک کو وقتی ریلیف ضرور فراہم کیا ہے، مگر اصل چیلنج یہ ہے کہ ان ترسیلات کو رسمی ذرائع سے برقرار رکھا جائے، ان کے نظام کو قابلِ اعتماد بنایا جائے اور انہیں صرف کھپت کے بجائے پیداواری سرمایہ  میں تبدیل کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288634</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 10:25:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13101952ee9b3f2.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13101952ee9b3f2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
