<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 14:12:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 13 Jul 2026 14:12:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومتی مالیاتی نظم و ضبط سے پاکستان کے قرضوں کی صورتحال بہتر ہوئی، ترجمان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288627/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط اور مؤثر قرضہ جاتی انتظام کے باعث پاکستان کے قرضوں کی مجموعی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں قرضوں کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں تناسب مالی سال 2022-23 کے 75.2 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2025-26 میں تخمینہً 68.5 فیصد رہ گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو وفاقی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ حکومت نے مالی سال 2024 سے مالی سال 2026 تک مسلسل تین برس پرائمری مالیاتی سرپلس حاصل کیا، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران سرکاری قرضوں میں اضافے کی شرح گزشتہ 15 برس کی کم ترین سطح 5 فیصد رہی۔ اس کے مقابلے میں مالی سال 2011 سے 2025 کے دوران قرضوں میں اضافے کی اوسط شرح 13.7 فیصد تھی۔ انہوں نے بتایا کہ قرضوں میں سب سے زیادہ 23 فیصد اضافہ مالی سال 2023 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق عوامی قرضوں میں اضافہ بنیادی طور پر حکومتی مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے کیا گیا، نہ کہ قرضہ جاتی پالیسی میں کسی تبدیلی کے باعث۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی ذرائع سے زیادہ قرض لینے کی حکمت عملی نے زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ اور بیرونی قرضوں کی ری فنانسنگ سے متعلق خطرات کو کم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ میڈیم ٹرم ڈیبٹ مینجمنٹ اسٹریٹجی (ایم ٹی ڈی ایس) کے تحت بیرونی قرضوں کو مجموعی عوامی قرضوں کے 40 فیصد سے کم رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس وقت مجموعی قرضوں میں تقریباً 69 فیصد اندرونی جبکہ 31 فیصد بیرونی قرضے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ حکومت نے سرمایہ کاروں کی تعداد اور تنوع بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں جاز کیش ٹریژری بلز، انویسٹ پاک، سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز (سی ڈی این ایس) کے تحت نیشنل سیونگز اسکیمیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ  پروگرام، طویل المدتی پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) اور زیرو کوپن پی آئی بیز کا اجرا شامل ہے، تاکہ انفرادی اور ادارہ جاتی دونوں طرح کے سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ طویل المدتی پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) اور گورنمنٹ اجارہ سکوک (جی آئی ایس) کے اجرا سے انشورنس کمپنیوں اور پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مالیاتی استحکام اور سرمایہ کاروں کے تنوع کی بدولت مستقبل میں کمرشل بینکوں پر انحصار بتدریج کم ہوگا اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کے لیے زیادہ گنجائش پیدا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے مزید کہا کہ مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں کمی سمیت بہتر معاشی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے درمیانی اور طویل المدتی پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) اور سکوک کے ذریعے زیادہ قرض لینے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس کے نتیجے میں اندرونی قرضوں کی اوسط مدتِ تکمیل  جون 2024 کے 2.8 سال سے بڑھ کر تقریباً 3.9 سال ہو گئی ہے، جس سے قرضوں کی تجدید  سے متعلق خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے واضح کیا کہ مارکیٹ ٹریژری بلز (ایم ٹی بیز) کے اجرا میں حالیہ اضافہ عارضی نوعیت کا ہے، جو جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور شرح سود سے متعلق توقعات میں تبدیلی کے باعث مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کے مطابق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ قرضہ جاتی انتظام کی حکمت عملی میں مالیاتی ذرائع کا تنوع ایک اہم جزو ہے۔ سکوک روایتی حکومتی سیکیورٹیز کی تکمیل کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کی بنیاد کو وسعت دیتے ہیں اور شریعہ سے ہم آہنگ بچتوں کو متحرک کرنے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ حکومت 3 ماہ اور 6 ماہ مدت کے قلیل المدتی سکوک متعارف کرانے پر بھی کام کر رہی ہے، جن کا بنیادی ہدف انفرادی سرمایہ کار ہوں گے، تاکہ حکومتی سیکیورٹیز میں عوامی شرکت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مالیاتی استحکام اور سرمایہ کاروں کی بنیاد کو مزید متنوع بنانے کی کوششوں کے نتیجے میں بینکوں سے قرض لینے پر انحصار مزید کم ہوگا، نجی شعبے کو زیادہ قرضے دستیاب ہوں گے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط اور مؤثر قرضہ جاتی انتظام کے باعث پاکستان کے قرضوں کی مجموعی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں قرضوں کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں تناسب مالی سال 2022-23 کے 75.2 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2025-26 میں تخمینہً 68.5 فیصد رہ گیا ہے۔</strong></p>
<p>اتوار کو وفاقی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ حکومت نے مالی سال 2024 سے مالی سال 2026 تک مسلسل تین برس پرائمری مالیاتی سرپلس حاصل کیا، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران سرکاری قرضوں میں اضافے کی شرح گزشتہ 15 برس کی کم ترین سطح 5 فیصد رہی۔ اس کے مقابلے میں مالی سال 2011 سے 2025 کے دوران قرضوں میں اضافے کی اوسط شرح 13.7 فیصد تھی۔ انہوں نے بتایا کہ قرضوں میں سب سے زیادہ 23 فیصد اضافہ مالی سال 2023 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق عوامی قرضوں میں اضافہ بنیادی طور پر حکومتی مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے کیا گیا، نہ کہ قرضہ جاتی پالیسی میں کسی تبدیلی کے باعث۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی ذرائع سے زیادہ قرض لینے کی حکمت عملی نے زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ اور بیرونی قرضوں کی ری فنانسنگ سے متعلق خطرات کو کم کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ میڈیم ٹرم ڈیبٹ مینجمنٹ اسٹریٹجی (ایم ٹی ڈی ایس) کے تحت بیرونی قرضوں کو مجموعی عوامی قرضوں کے 40 فیصد سے کم رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس وقت مجموعی قرضوں میں تقریباً 69 فیصد اندرونی جبکہ 31 فیصد بیرونی قرضے شامل ہیں۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ حکومت نے سرمایہ کاروں کی تعداد اور تنوع بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں جاز کیش ٹریژری بلز، انویسٹ پاک، سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز (سی ڈی این ایس) کے تحت نیشنل سیونگز اسکیمیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ  پروگرام، طویل المدتی پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) اور زیرو کوپن پی آئی بیز کا اجرا شامل ہے، تاکہ انفرادی اور ادارہ جاتی دونوں طرح کے سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ طویل المدتی پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) اور گورنمنٹ اجارہ سکوک (جی آئی ایس) کے اجرا سے انشورنس کمپنیوں اور پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مالیاتی استحکام اور سرمایہ کاروں کے تنوع کی بدولت مستقبل میں کمرشل بینکوں پر انحصار بتدریج کم ہوگا اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کے لیے زیادہ گنجائش پیدا ہوگی۔</p>
<p>ترجمان نے مزید کہا کہ مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں کمی سمیت بہتر معاشی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے درمیانی اور طویل المدتی پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) اور سکوک کے ذریعے زیادہ قرض لینے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس کے نتیجے میں اندرونی قرضوں کی اوسط مدتِ تکمیل  جون 2024 کے 2.8 سال سے بڑھ کر تقریباً 3.9 سال ہو گئی ہے، جس سے قرضوں کی تجدید  سے متعلق خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے۔</p>
<p>حکومت نے واضح کیا کہ مارکیٹ ٹریژری بلز (ایم ٹی بیز) کے اجرا میں حالیہ اضافہ عارضی نوعیت کا ہے، جو جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور شرح سود سے متعلق توقعات میں تبدیلی کے باعث مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کے مطابق کیا گیا۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ قرضہ جاتی انتظام کی حکمت عملی میں مالیاتی ذرائع کا تنوع ایک اہم جزو ہے۔ سکوک روایتی حکومتی سیکیورٹیز کی تکمیل کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کی بنیاد کو وسعت دیتے ہیں اور شریعہ سے ہم آہنگ بچتوں کو متحرک کرنے میں مدد دیتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ حکومت 3 ماہ اور 6 ماہ مدت کے قلیل المدتی سکوک متعارف کرانے پر بھی کام کر رہی ہے، جن کا بنیادی ہدف انفرادی سرمایہ کار ہوں گے، تاکہ حکومتی سیکیورٹیز میں عوامی شرکت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>ترجمان نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مالیاتی استحکام اور سرمایہ کاروں کی بنیاد کو مزید متنوع بنانے کی کوششوں کے نتیجے میں بینکوں سے قرض لینے پر انحصار مزید کم ہوگا، نجی شعبے کو زیادہ قرضے دستیاب ہوں گے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288627</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 09:06:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13090503a6d4fb3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13090503a6d4fb3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
