<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 17:11:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 12 Jul 2026 17:11:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرین کا بحیرہ آزوف میں روسی آئل ٹینکر پر حملہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288617/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روس کے علاقے روستوف کے گورنر یوری سلیوسار نے اتوار کو بتایا کہ یوکرین کے ایک ڈرون نے آزوف بحیرہ اسود نہر میں داخل ہونے والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ حملے کے نتیجے میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور چونکہ ٹینکر خالی تھا، اس لیے تیل کے اخراج کا کوئی خطرہ نہیں۔ ان کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کی فوج حالیہ عرصے میں بحیرہ آزوف میں 40 سے زائد روسی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا چکی ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں روسی افواج کو ایندھن کی فراہمی متاثر کرنے اور روس کے زیر قبضہ کریمیا کو تنہا کرنے کی مہم کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ ہفتوں کے دوران یوکرین نے کریمیا میں لاجسٹک اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں بھی اضافہ کیا ہے، جس کے باعث ایندھن کی قلت پیدا ہوئی اور مقامی حکام کو جزیرہ نما کریمیا میں ہنگامی حالت نافذ کرنا پڑی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روس کے علاقے روستوف کے گورنر یوری سلیوسار نے اتوار کو بتایا کہ یوکرین کے ایک ڈرون نے آزوف بحیرہ اسود نہر میں داخل ہونے والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔</strong></p>
<p>انہوں نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ حملے کے نتیجے میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور چونکہ ٹینکر خالی تھا، اس لیے تیل کے اخراج کا کوئی خطرہ نہیں۔ ان کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا۔</p>
<p>یوکرین کی فوج حالیہ عرصے میں بحیرہ آزوف میں 40 سے زائد روسی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا چکی ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں روسی افواج کو ایندھن کی فراہمی متاثر کرنے اور روس کے زیر قبضہ کریمیا کو تنہا کرنے کی مہم کا حصہ ہیں۔</p>
<p>حالیہ ہفتوں کے دوران یوکرین نے کریمیا میں لاجسٹک اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں بھی اضافہ کیا ہے، جس کے باعث ایندھن کی قلت پیدا ہوئی اور مقامی حکام کو جزیرہ نما کریمیا میں ہنگامی حالت نافذ کرنا پڑی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288617</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 14:48:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/121445508d8d167.gif" type="image/gif" medium="image" height="563" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/121445508d8d167.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
