<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 18:03:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 12 Jul 2026 18:03:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت سے اندرونی آبی گزرگاہوں کے ٹرانسپورٹ کی اتھارٹی کے قیام کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288614/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئل فورم کے صدر میاں زاہد حسین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مستقل انلینڈ واٹر وے ٹرانسپورٹ اتھارٹی قائم کرے، ریگولیٹری فریم ورک کو حتمی شکل دے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبے شروع کرے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اندرونی آبی ٹرانسپورٹ پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس پر مقررہ وقت کے اندر مؤثر عملدرآمد کیا جائے۔پاکستان کا مال برداری کا نظام مکمل طور پر مہنگے سڑکوں کے نیٹ ورک پر منحصر ہے، جسے اب مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آبی ٹرانسپورٹ ایک عملی معاشی ضرورت ہے جو لاجسٹکس کے اخراجات، ایندھن کی بچت اور برآمدات کو بہتر بنا سکتی ہے۔ 2023 میں 90 فیصد سے زائد مال برداری سڑکوں کے ذریعے ہوئی، جس سے سڑکوں کی حالت خراب اور کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اٹک سے کراچی تک اسٹریٹجک آبی راستے کی ترقی سستا راہداری فراہم کر سکتی ہے۔ حکومت نے پالیسیوں میں اس کی اہمیت تسلیم کی ہے مگر عملدرآمد تاحال انتہائی سست ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئل فورم کے صدر میاں زاہد حسین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مستقل انلینڈ واٹر وے ٹرانسپورٹ اتھارٹی قائم کرے، ریگولیٹری فریم ورک کو حتمی شکل دے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبے شروع کرے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ اندرونی آبی ٹرانسپورٹ پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس پر مقررہ وقت کے اندر مؤثر عملدرآمد کیا جائے۔پاکستان کا مال برداری کا نظام مکمل طور پر مہنگے سڑکوں کے نیٹ ورک پر منحصر ہے، جسے اب مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آبی ٹرانسپورٹ ایک عملی معاشی ضرورت ہے جو لاجسٹکس کے اخراجات، ایندھن کی بچت اور برآمدات کو بہتر بنا سکتی ہے۔ 2023 میں 90 فیصد سے زائد مال برداری سڑکوں کے ذریعے ہوئی، جس سے سڑکوں کی حالت خراب اور کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اٹک سے کراچی تک اسٹریٹجک آبی راستے کی ترقی سستا راہداری فراہم کر سکتی ہے۔ حکومت نے پالیسیوں میں اس کی اہمیت تسلیم کی ہے مگر عملدرآمد تاحال انتہائی سست ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288614</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 13:58:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/121353234e58b03.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/121353234e58b03.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
