<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 13:18:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 12 Jul 2026 13:18:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نجکاری کمیشن نے اسٹیٹ لائف کی نجکاری کا باقاعدہ آغاز کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288600/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نجکاری کمیشن نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان (ایس ایل آئی سی) کی نجکاری کے عمل کا پہلا بڑا مرحلہ شروع کرتے ہوئے مالیاتی مشاورتی خدمات کے لیے تکنیکی اور مالیاتی تجاویز طلب کر لی ہیں۔ اس سلسلے میں مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں اشتہار شائع کر دیا گیا ہے، جبکہ دلچسپی رکھنے والے ادارے یا کنسورشیم 13 اگست 2026 کو سہ پہر 3 بجے تک اپنی تجاویز جمع کرا سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن کے مطابق منتخب مالیاتی مشیر کو فروخت کنندہ کی جانب سے ڈیو ڈیلیجنس، مارکیٹ ساؤنڈنگ، ممکنہ سرمایہ کاروں سے رابطے، لین دین کا ڈھانچہ تیار کرنے، نجکاری کے موزوں طریقہ کار کی سفارش، اثاثے کی مارکیٹنگ اور شفاف انداز میں پورے عمل کی تکمیل میں معاونت کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے تفصیلی ریکویسٹ فار پروپوزل (آر ایف پی)، شرائطِ کار، جانچ کے معیار اور مالیاتی مشاورتی خدمات کے معاہدے کا مسودہ نجکاری کمیشن کی ویب سائٹ پر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اس سے قبل پالیسی سطح پر اسٹیٹ لائف کی کارپوریٹائزیشن کا فیصلہ بھی کر چکی ہے۔ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور وفاقی کابینہ اسٹیٹ لائف میں حکومت کے 20 فیصد تک حصص فروخت کرنے کی منظوری دے چکی ہیں، تاہم مجوزہ نجکاری سے قبل ادارے کی کارپوریٹائزیشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے وزارت تجارت کو قانون سازی اور دیگر ضروری اقدامات مکمل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے انشورنس بل 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد انشورنس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانا، ریگولیٹری خامیوں کو دور کرنا، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے اختیارات مضبوط بنانا اور پالیسی ہولڈرز کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ بل میں وفاقی انشورنس محتسب کے ذریعے تنازعات کے حل، تھرڈ پارٹی جائزے اور انشورنس کمپنیوں کے اثاثوں اور واجبات کے انتظام سے متعلق جامع ریگولیٹری فریم ورک بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم یہ بل ابھی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت میں زیر غور آنا باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ لائف نے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ ادارے کی کارپوریٹائزیشن یا نجکاری سے متعلق کسی بھی فیصلے سے قبل قانونی، مالیاتی اور اسٹرٹیجک ڈیو ڈیلیجنس ناگزیر ہوگی۔ یاد رہے کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی ایپکس کمیٹی نے بھی انشورنس شعبے میں اصلاحات، مسابقت کے فروغ، بین الاقوامی انشورنس کمپنیوں کی حوصلہ افزائی اور عالمی معیار سے ہم آہنگ قانون سازی کی توثیق کر رکھی ہے، جس کے بعد وزارت تجارت نے متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد نئے انشورنس ایکٹ 2026 کا مسودہ تیار کیا، جسے وفاقی کابینہ رواں سال منظوری دے چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نجکاری کمیشن نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان (ایس ایل آئی سی) کی نجکاری کے عمل کا پہلا بڑا مرحلہ شروع کرتے ہوئے مالیاتی مشاورتی خدمات کے لیے تکنیکی اور مالیاتی تجاویز طلب کر لی ہیں۔ اس سلسلے میں مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں اشتہار شائع کر دیا گیا ہے، جبکہ دلچسپی رکھنے والے ادارے یا کنسورشیم 13 اگست 2026 کو سہ پہر 3 بجے تک اپنی تجاویز جمع کرا سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>نجکاری کمیشن کے مطابق منتخب مالیاتی مشیر کو فروخت کنندہ کی جانب سے ڈیو ڈیلیجنس، مارکیٹ ساؤنڈنگ، ممکنہ سرمایہ کاروں سے رابطے، لین دین کا ڈھانچہ تیار کرنے، نجکاری کے موزوں طریقہ کار کی سفارش، اثاثے کی مارکیٹنگ اور شفاف انداز میں پورے عمل کی تکمیل میں معاونت کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے تفصیلی ریکویسٹ فار پروپوزل (آر ایف پی)، شرائطِ کار، جانچ کے معیار اور مالیاتی مشاورتی خدمات کے معاہدے کا مسودہ نجکاری کمیشن کی ویب سائٹ پر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>حکومت اس سے قبل پالیسی سطح پر اسٹیٹ لائف کی کارپوریٹائزیشن کا فیصلہ بھی کر چکی ہے۔ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور وفاقی کابینہ اسٹیٹ لائف میں حکومت کے 20 فیصد تک حصص فروخت کرنے کی منظوری دے چکی ہیں، تاہم مجوزہ نجکاری سے قبل ادارے کی کارپوریٹائزیشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے وزارت تجارت کو قانون سازی اور دیگر ضروری اقدامات مکمل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے انشورنس بل 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد انشورنس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانا، ریگولیٹری خامیوں کو دور کرنا، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے اختیارات مضبوط بنانا اور پالیسی ہولڈرز کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ بل میں وفاقی انشورنس محتسب کے ذریعے تنازعات کے حل، تھرڈ پارٹی جائزے اور انشورنس کمپنیوں کے اثاثوں اور واجبات کے انتظام سے متعلق جامع ریگولیٹری فریم ورک بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم یہ بل ابھی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت میں زیر غور آنا باقی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ لائف نے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ ادارے کی کارپوریٹائزیشن یا نجکاری سے متعلق کسی بھی فیصلے سے قبل قانونی، مالیاتی اور اسٹرٹیجک ڈیو ڈیلیجنس ناگزیر ہوگی۔ یاد رہے کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی ایپکس کمیٹی نے بھی انشورنس شعبے میں اصلاحات، مسابقت کے فروغ، بین الاقوامی انشورنس کمپنیوں کی حوصلہ افزائی اور عالمی معیار سے ہم آہنگ قانون سازی کی توثیق کر رکھی ہے، جس کے بعد وزارت تجارت نے متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد نئے انشورنس ایکٹ 2026 کا مسودہ تیار کیا، جسے وفاقی کابینہ رواں سال منظوری دے چکی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288600</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 10:36:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/121033174663718.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/121033174663718.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
