<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 02:51:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 12 Jul 2026 02:51:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی وفد اسرائیل کے'پائلٹ زون' سے انخلا پر بات چیت کے لیے لبنان پہنچ گیا، اہلکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288595/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک لبنانی فوجی اہلکار نے اے ایف پی کو ہفتے کے روز بتایا ہے کہ امریکی فوجی وفد نے بیروت میں لبنانی فوج سے ملاقات کی، جس میں مقبوضہ علاقے میں قائم ایک ”پائلٹ زون“ سے اسرائیلی انخلا پر عمل درآمد کے طریقۂ کار پر بات چیت کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 جون کو طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے تحت اسرائیل جنوبی لبنان کے اُن علاقوں سے، جہاں اس نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے لیے فوج تعینات کر رکھی ہے، مرحلہ وار انخلا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کے مطابق طویل عرصے سے محدود اختیارات رکھنے والی لبنانی فوج دو چھوٹے علاقوں، جنہیں ”پائلٹ زونز“ قرار دیا گیا ہے، کا مکمل کنٹرول سنبھالے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لبنانی فوجی اہلکار نے کہا، ”امریکی فوجی وفد لبنان پہنچ چکا ہے اور اس نے لبنانی فوجی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کا آغاز کر دیا ہے تاکہ پہلے پائلٹ زون سے اسرائیلی انخلا کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دی جا سکے، جس کے بعد لبنانی فوج وہاں تعینات ہوگی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”امریکی فوجی وفد کے دورے کا بنیادی مقصد فریم ورک معاہدے کو عملی جامہ پہنانا اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں لبنان کے سفیر مائیکل عیسیٰ نے جمعرات کے روز صدر جوزف عون کو بتایا تھا کہ امریکی وفد معاہدے پر عمل درآمد کا طریقۂ کار طے کرنے کے لیے لبنان آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ”پہلا پائلٹ زون چند روز میں فعال ہو جائے گا، جبکہ مزید پائلٹ زونز کی منصوبہ بندی اور نقشہ سازی بھی جاری ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) ان پائلٹ زونز سے متعلق دونوں ممالک کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حزب اللہ نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔ معاہدے میں اسرائیلی انخلا کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی، جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک حزب اللہ مسلح رہے گی، اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں تقریباً 10 کلومیٹر گہرے ”سکیورٹی زون“ میں موجود رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے اوائل میں حزب اللہ کی جانب سے اپنے اتحادی ایران کی حمایت میں وسیع تر مشرقِ وسطیٰ تنازع میں شامل ہونے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے باعث لبنان میں 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امدادی ادارے اوچا کے مطابق ہفتے تک 7 لاکھ 32 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ تعداد تقریباً 6 لاکھ 40 ہزار تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق اب بھی 4 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے وقفے وقفے سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز بھی جنوبی لبنان میں کئی حملے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان اور اسرائیل کے درمیان تازہ مذاکرات، جن کے سفارتی تعلقات موجود نہیں لیکن جنگ کے آغاز کے بعد اب تک پانچ ادوار کی بات چیت ہو چکی ہے، آئندہ بدھ اور جمعرات کو روم میں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان نے ان مذاکرات میں شرکت کو اس شرط سے مشروط کر رکھا ہے کہ اسرائیل پہلے دو پائلٹ زونز سے انخلا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مذاکرات صدر جوزف عون کے اس ماہ کے اواخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر متوقع دورۂ واشنگٹن سے قبل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک لبنانی فوجی اہلکار نے اے ایف پی کو ہفتے کے روز بتایا ہے کہ امریکی فوجی وفد نے بیروت میں لبنانی فوج سے ملاقات کی، جس میں مقبوضہ علاقے میں قائم ایک ”پائلٹ زون“ سے اسرائیلی انخلا پر عمل درآمد کے طریقۂ کار پر بات چیت کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>26 جون کو طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے تحت اسرائیل جنوبی لبنان کے اُن علاقوں سے، جہاں اس نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے لیے فوج تعینات کر رکھی ہے، مرحلہ وار انخلا کرے گا۔</p>
<p>اس معاہدے کے مطابق طویل عرصے سے محدود اختیارات رکھنے والی لبنانی فوج دو چھوٹے علاقوں، جنہیں ”پائلٹ زونز“ قرار دیا گیا ہے، کا مکمل کنٹرول سنبھالے گی۔</p>
<p>نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لبنانی فوجی اہلکار نے کہا، ”امریکی فوجی وفد لبنان پہنچ چکا ہے اور اس نے لبنانی فوجی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کا آغاز کر دیا ہے تاکہ پہلے پائلٹ زون سے اسرائیلی انخلا کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دی جا سکے، جس کے بعد لبنانی فوج وہاں تعینات ہوگی۔“</p>
<p>انہوں نے کہا، ”امریکی فوجی وفد کے دورے کا بنیادی مقصد فریم ورک معاہدے کو عملی جامہ پہنانا اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔“</p>
<p>امریکا میں لبنان کے سفیر مائیکل عیسیٰ نے جمعرات کے روز صدر جوزف عون کو بتایا تھا کہ امریکی وفد معاہدے پر عمل درآمد کا طریقۂ کار طے کرنے کے لیے لبنان آ رہا ہے۔</p>
<p>واشنگٹن میں ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ”پہلا پائلٹ زون چند روز میں فعال ہو جائے گا، جبکہ مزید پائلٹ زونز کی منصوبہ بندی اور نقشہ سازی بھی جاری ہے۔“</p>
<p>ان کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) ان پائلٹ زونز سے متعلق دونوں ممالک کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کرے گی۔</p>
<p>حزب اللہ نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔ معاہدے میں اسرائیلی انخلا کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی، جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک حزب اللہ مسلح رہے گی، اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں تقریباً 10 کلومیٹر گہرے ”سکیورٹی زون“ میں موجود رہے گی۔</p>
<p>مارچ کے اوائل میں حزب اللہ کی جانب سے اپنے اتحادی ایران کی حمایت میں وسیع تر مشرقِ وسطیٰ تنازع میں شامل ہونے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے باعث لبنان میں 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امدادی ادارے اوچا کے مطابق ہفتے تک 7 لاکھ 32 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ تعداد تقریباً 6 لاکھ 40 ہزار تھی۔</p>
<p>ادارے کے مطابق اب بھی 4 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہیں۔</p>
<p>حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے وقفے وقفے سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز بھی جنوبی لبنان میں کئی حملے کیے گئے۔</p>
<p>لبنان اور اسرائیل کے درمیان تازہ مذاکرات، جن کے سفارتی تعلقات موجود نہیں لیکن جنگ کے آغاز کے بعد اب تک پانچ ادوار کی بات چیت ہو چکی ہے، آئندہ بدھ اور جمعرات کو روم میں ہوں گے۔</p>
<p>لبنان نے ان مذاکرات میں شرکت کو اس شرط سے مشروط کر رکھا ہے کہ اسرائیل پہلے دو پائلٹ زونز سے انخلا کرے۔</p>
<p>یہ مذاکرات صدر جوزف عون کے اس ماہ کے اواخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر متوقع دورۂ واشنگٹن سے قبل ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288595</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 21:56:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/112149565fad1b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/112149565fad1b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
