<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 23:46:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Jul 2026 23:46:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر مستحکم امن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288594/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جوابی حملوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت قائم ہونے والی جنگ بندی کی پائیداری پر نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ عبوری انتظام خلیج میں خطرناک محاذ آرائی کے تسلسل کو روکنے کا ایک نادر موقع فراہم کرتا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں، لیکن تازہ جھڑپیں ایک تلخ حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ فوجی جوابی کارروائیاں وقتی سیاسی مقاصد تو حاصل کر سکتی ہیں، مگر وہ خطے میں دیرپا استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کو جواز بنا کر ایرانی اہداف پر نئے حملوں کا حکم دینے سے ایک بار پھر وسیع پیمانے پر جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر فوری جوابی حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق فوجی کارروائی کا جواب دیے بغیر اسے برداشت کرنے پر آمادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم واشنگٹن اور تہران دونوں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مکمل جنگ نہایت مہنگی ثابت ہوگی اور اس کے نتائج بھی غالباً ماضی کی محاذ آرائیوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے اگرچہ ایک دوسرے کے خلاف جوابی حملوں نے جنگ بندی پر دباؤ بڑھا دیا ہے، تاہم مکمل جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان اب بھی کم دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے روایتی متضاد اندازِ بیان کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا، ”میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ میں ان سے مزید نہیں نمٹنا چاہتا۔“ تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اصرار کیا کہ کشیدگی مزید نہیں بڑھے گی، اور کہا، ”انہوں نے چند جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ہم نے کہیں زیادہ شدید حملہ کیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری دونوں فریقوں پر عائد ہوتی ہے۔ واشنگٹن یہ توقع نہیں کر سکتا کہ اگر معاہدے کی بنیادی شقوں پر عمل درآمد نہ ہو تو ایران اس کی پابندی کرتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسرائیل نے غزہ، لبنان اور بالواسطہ طور پر ایران کے حوالے سے بھی جنگ بندی کے انتظامات کو مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مذاکرات کے بجائے مسلسل فوجی دباؤ کی اس کی حکمت عملی نے بارہا سفارتی کوششوں کو پیچیدہ بنایا اور امریکا کو خطے کی محاذ آرائیوں میں مزید گہرائی تک کھینچ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی تیل کی برآمدات پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے سے تہران کا یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ واشنگٹن مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران آبنائے ہرمز سے ایران کی اجازت کے بغیر گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر اس آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول جتانے کی تہران کی کوشش اگرچہ امریکا کے ساتھ اس کی کشمکش میں اسے ایک تزویراتی برتری فراہم کرتی ہے، لیکن یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ آزادانہ بحری آمدورفت کے اصول کی خلاف ورزی بھی ہے اور اس سے عالمی برادری کا بڑا حصہ ایران سے دور ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے میں پاکستان اور قطر نے جو تعمیری ثالثی کا کردار ادا کیا، اسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے بجا طور پر تحمل، مذاکرات اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور خطے کے دیگر اہم فریقوں کی حمایت سے پاکستان اور قطر کی مسلسل سفارتی کوششیں ہی اس بات کی بہترین امید فراہم کرتی ہیں کہ محدود فوجی واقعات ایک وسیع علاقائی بحران میں تبدیل نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور باہمی اعتماد بحال کرنے کے لیے واحد قابلِ اعتماد فریم ورک ہے۔ دونوں فریقوں کو چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں پر لفظ اور روح، دونوں اعتبار سے عمل کریں اور اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ محاذ آرائی نہیں بلکہ مفاہمت ہی خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جوابی حملوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت قائم ہونے والی جنگ بندی کی پائیداری پر نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ عبوری انتظام خلیج میں خطرناک محاذ آرائی کے تسلسل کو روکنے کا ایک نادر موقع فراہم کرتا تھا۔</strong></p>
<p>اگرچہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں، لیکن تازہ جھڑپیں ایک تلخ حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ فوجی جوابی کارروائیاں وقتی سیاسی مقاصد تو حاصل کر سکتی ہیں، مگر وہ خطے میں دیرپا استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کو جواز بنا کر ایرانی اہداف پر نئے حملوں کا حکم دینے سے ایک بار پھر وسیع پیمانے پر جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر فوری جوابی حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق فوجی کارروائی کا جواب دیے بغیر اسے برداشت کرنے پر آمادہ نہیں۔</p>
<p>تاہم واشنگٹن اور تہران دونوں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مکمل جنگ نہایت مہنگی ثابت ہوگی اور اس کے نتائج بھی غالباً ماضی کی محاذ آرائیوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوں گے۔</p>
<p>اسی لیے اگرچہ ایک دوسرے کے خلاف جوابی حملوں نے جنگ بندی پر دباؤ بڑھا دیا ہے، تاہم مکمل جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان اب بھی کم دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>اپنے روایتی متضاد اندازِ بیان کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا، ”میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ میں ان سے مزید نہیں نمٹنا چاہتا۔“ تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اصرار کیا کہ کشیدگی مزید نہیں بڑھے گی، اور کہا، ”انہوں نے چند جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ہم نے کہیں زیادہ شدید حملہ کیا۔“</p>
<p>اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری دونوں فریقوں پر عائد ہوتی ہے۔ واشنگٹن یہ توقع نہیں کر سکتا کہ اگر معاہدے کی بنیادی شقوں پر عمل درآمد نہ ہو تو ایران اس کی پابندی کرتا رہے گا۔</p>
<p>اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم اسرائیل نے غزہ، لبنان اور بالواسطہ طور پر ایران کے حوالے سے بھی جنگ بندی کے انتظامات کو مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مذاکرات کے بجائے مسلسل فوجی دباؤ کی اس کی حکمت عملی نے بارہا سفارتی کوششوں کو پیچیدہ بنایا اور امریکا کو خطے کی محاذ آرائیوں میں مزید گہرائی تک کھینچ لیا۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی تیل کی برآمدات پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے سے تہران کا یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ واشنگٹن مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں۔</p>
<p>اسی دوران آبنائے ہرمز سے ایران کی اجازت کے بغیر گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر اس آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول جتانے کی تہران کی کوشش اگرچہ امریکا کے ساتھ اس کی کشمکش میں اسے ایک تزویراتی برتری فراہم کرتی ہے، لیکن یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ آزادانہ بحری آمدورفت کے اصول کی خلاف ورزی بھی ہے اور اس سے عالمی برادری کا بڑا حصہ ایران سے دور ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اس معاہدے میں پاکستان اور قطر نے جو تعمیری ثالثی کا کردار ادا کیا، اسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔</p>
<p>دونوں ممالک نے بجا طور پر تحمل، مذاکرات اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور خطے کے دیگر اہم فریقوں کی حمایت سے پاکستان اور قطر کی مسلسل سفارتی کوششیں ہی اس بات کی بہترین امید فراہم کرتی ہیں کہ محدود فوجی واقعات ایک وسیع علاقائی بحران میں تبدیل نہ ہوں۔</p>
<p>اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور باہمی اعتماد بحال کرنے کے لیے واحد قابلِ اعتماد فریم ورک ہے۔ دونوں فریقوں کو چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں پر لفظ اور روح، دونوں اعتبار سے عمل کریں اور اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ محاذ آرائی نہیں بلکہ مفاہمت ہی خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288594</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 21:04:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/11205659909314c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/11205659909314c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
