<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 01:48:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 12 Jul 2026 01:48:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے ایران سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی یقین دہانی طلب کر لی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288593/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز عمان پہنچ گئے، جہاں وہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے انتظامات پر بات چیت کریں گے۔ دوسری جانب واشنگٹن ایران سے اس اہم بحری گزرگاہ میں آزاد اور محفوظ نقل و حرکت کی عوامی یقین دہانی کا خواہاں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ اس ہفتے کشیدگی میں اضافے کے باوجود امریکا اور ایران نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود جمعہ اور ہفتے کی صبح تک کسی نئے حملے کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز عمان پہنچے۔ عمان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کر رہا ہے۔ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے خلیجی خطے میں عدم استحکام پیدا کیا اور عالمی سطح پر قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی بی ایس نیوز اور اس کے برطانوی شراکت دار بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ہفتے کے روز عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رائٹرز ان رپورٹس کی فوری طور پر تصدیق نہ کر سکا۔ رپورٹس میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ مذاکرات عمان میں بالمشافہ ہوں گے یا ورچوئل ذریعے سے۔ بعد ازاں ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے ایک ذریعے کے حوالے سے کہا کہ جب تک امریکا اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹتا، اس وقت تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایران-کا-امریکا-پر-عبوری-معاہدے-کی-خلاف-ورزی-کا-الزام" href="#ایران-کا-امریکا-پر-عبوری-معاہدے-کی-خلاف-ورزی-کا-الزام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایران کا امریکا پر عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی نے امریکا پر عبوری جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق امریکی حکام نے منگل کے روز ایرانی خام تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا لائسنس اس وقت منسوخ کر دیا جب چند بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”تعمیل صرف اسی صورت ممکن ہے جب دونوں فریق یکساں طور پر معاہدے کی پابندی کریں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے کے آغاز میں قطر اور سعودی عرب کے تین تجارتی آئل ٹینکرز پر حملے ہوئے تھے، جس کے بعد امریکا نے ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جواباً خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/araghchi/status/2075764983594438663'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/araghchi/status/2075764983594438663"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ایران نے بحری جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران اس نوعیت کی کارروائیوں کو مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے جمعہ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ایران نے واشنگٹن کو آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر حالیہ حملے ”ان کے نظام کے ایک بے قابو حصے“ کی کارروائی تھے۔ ان تبصروں کو کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تازہ کشیدگی نے تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے عبوری معاہدے کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر ایک حساس معاملہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران نے ہم سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ ہم نے اس پر اتفاق کیا ہے، لیکن امریکا نے انہیں دوٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکا سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی، بلکہ صرف قطری ثالث کی میزبانی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق قطری ثالثوں نے جمعہ کے روز ایرانی حکام سے ملاقات کر کے کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر بات چیت کی۔ اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے &lt;strong&gt;رائٹرز&lt;/strong&gt; کو بھی اس کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ اگر ایران نے ان کے قتل کی کوشش کی یا ایسا کوئی اقدام کیا تو فوری جوابی حملے کے لیے تیار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا، ”ایک ہزار میزائل پہلے ہی تیار حالت میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب نشانہ بنائے جا چکے ہیں، جبکہ ہزاروں مزید بھی فوری طور پر داغے جا سکتے ہیں، اگر ایرانی حکومت دنیا کے مختلف حصوں میں دی جانے والی اپنی دھمکی کے مطابق امریکا کے موجودہ صدر، یعنی مجھے، قتل کرنے یا قتل کی کوشش کرنے کی کارروائی کرتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر امریکی ذرائع ابلاغ نے اس ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل نے واشنگٹن کے ساتھ ایسی انٹیلی جنس معلومات شیئر کی ہیں جن کے مطابق ایران نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے تازہ بیان پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر جمعرات کو ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں بڑی تعداد میں سوگوار شریک ہوئے، جن میں سے بعض کے ہاتھوں میں ایسے بینرز تھے جن پر لکھا تھا: ”ہم ٹرمپ کو قتل کریں گے۔“ علی خامنہ ای جنگ کے پہلے روز ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="امریکی-حکام-ایران-کے-ساتھ-بات-چیت-تعمیری-رہی" href="#امریکی-حکام-ایران-کے-ساتھ-بات-چیت-تعمیری-رہی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امریکی حکام: ایران کے ساتھ بات چیت تعمیری رہی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ ایران عوامی طور پر یہ اعلان کرے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے بند کرے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ کی تمام بحری راہداریاں بلا رکاوٹ اور کسی قسم کے محصول کے بغیر آمدورفت کے لیے کھلی رہیں گی۔ جنگ سے قبل دنیا بھر میں سمندر کے راستے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر امریکی حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ جنگ کے دوران تہران نے بڑی حد تک آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا، جس کے باعث دنیا کی طاقتور ترین فوج کے ساتھ اس کی محاذ آرائی تعطل کا شکار ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی وزارتِ صحت کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ و اطلاعات کے سربراہ کے مطابق بدھ اور جمعرات کو ایران کے چھ شہروں پر امریکی حملوں میں کم از کم 17 افراد ہلاک اور 115 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت مثبت اور تعمیری رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی تو ایران بھی ”اسی نوعیت کا جواب“ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ ہونے والا عبوری معاہدہ اس جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیا گیا تھا، جو اب اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، عالمی توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے اور دنیا بھر میں معاشی سست روی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی نے امریکی صارفین پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ کئی ہفتوں تک مسلسل کمی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے آٹھ ہفتوں کی سب سے بڑی ہفتہ وار بڑھوتری ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز عمان پہنچ گئے، جہاں وہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے انتظامات پر بات چیت کریں گے۔ دوسری جانب واشنگٹن ایران سے اس اہم بحری گزرگاہ میں آزاد اور محفوظ نقل و حرکت کی عوامی یقین دہانی کا خواہاں ہے۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ اس ہفتے کشیدگی میں اضافے کے باوجود امریکا اور ایران نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود جمعہ اور ہفتے کی صبح تک کسی نئے حملے کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
<p>ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز عمان پہنچے۔ عمان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کر رہا ہے۔ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے خلیجی خطے میں عدم استحکام پیدا کیا اور عالمی سطح پر قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔</p>
<p>سی بی ایس نیوز اور اس کے برطانوی شراکت دار بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ہفتے کے روز عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کریں گے۔</p>
<p>تاہم رائٹرز ان رپورٹس کی فوری طور پر تصدیق نہ کر سکا۔ رپورٹس میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ مذاکرات عمان میں بالمشافہ ہوں گے یا ورچوئل ذریعے سے۔ بعد ازاں ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے ایک ذریعے کے حوالے سے کہا کہ جب تک امریکا اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹتا، اس وقت تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔</p>
<h3><a id="ایران-کا-امریکا-پر-عبوری-معاہدے-کی-خلاف-ورزی-کا-الزام" href="#ایران-کا-امریکا-پر-عبوری-معاہدے-کی-خلاف-ورزی-کا-الزام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایران کا امریکا پر عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام</h3>
<p>عباس عراقچی نے امریکا پر عبوری جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق امریکی حکام نے منگل کے روز ایرانی خام تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا لائسنس اس وقت منسوخ کر دیا جب چند بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”تعمیل صرف اسی صورت ممکن ہے جب دونوں فریق یکساں طور پر معاہدے کی پابندی کریں۔“</p>
<p>اس ہفتے کے آغاز میں قطر اور سعودی عرب کے تین تجارتی آئل ٹینکرز پر حملے ہوئے تھے، جس کے بعد امریکا نے ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جواباً خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/araghchi/status/2075764983594438663'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/araghchi/status/2075764983594438663"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ ایران نے بحری جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران اس نوعیت کی کارروائیوں کو مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔</p>
<p>امریکی حکام نے جمعہ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ایران نے واشنگٹن کو آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر حالیہ حملے ”ان کے نظام کے ایک بے قابو حصے“ کی کارروائی تھے۔ ان تبصروں کو کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس تازہ کشیدگی نے تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے عبوری معاہدے کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر ایک حساس معاملہ ہے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران نے ہم سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ ہم نے اس پر اتفاق کیا ہے، لیکن امریکا نے انہیں دوٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔“</p>
<p>ایران نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکا سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی، بلکہ صرف قطری ثالث کی میزبانی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق قطری ثالثوں نے جمعہ کے روز ایرانی حکام سے ملاقات کر کے کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر بات چیت کی۔ اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے <strong>رائٹرز</strong> کو بھی اس کی تصدیق کی۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ اگر ایران نے ان کے قتل کی کوشش کی یا ایسا کوئی اقدام کیا تو فوری جوابی حملے کے لیے تیار رہے۔</p>
<p>انہوں نے لکھا، ”ایک ہزار میزائل پہلے ہی تیار حالت میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب نشانہ بنائے جا چکے ہیں، جبکہ ہزاروں مزید بھی فوری طور پر داغے جا سکتے ہیں، اگر ایرانی حکومت دنیا کے مختلف حصوں میں دی جانے والی اپنی دھمکی کے مطابق امریکا کے موجودہ صدر، یعنی مجھے، قتل کرنے یا قتل کی کوشش کرنے کی کارروائی کرتی ہے۔“</p>
<p>وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر امریکی ذرائع ابلاغ نے اس ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل نے واشنگٹن کے ساتھ ایسی انٹیلی جنس معلومات شیئر کی ہیں جن کے مطابق ایران نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔</p>
<p>ٹرمپ کے تازہ بیان پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>ادھر جمعرات کو ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں بڑی تعداد میں سوگوار شریک ہوئے، جن میں سے بعض کے ہاتھوں میں ایسے بینرز تھے جن پر لکھا تھا: ”ہم ٹرمپ کو قتل کریں گے۔“ علی خامنہ ای جنگ کے پہلے روز ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔</p>
<h3><a id="امریکی-حکام-ایران-کے-ساتھ-بات-چیت-تعمیری-رہی" href="#امریکی-حکام-ایران-کے-ساتھ-بات-چیت-تعمیری-رہی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امریکی حکام: ایران کے ساتھ بات چیت تعمیری رہی</h3>
<p>امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ ایران عوامی طور پر یہ اعلان کرے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے بند کرے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ کی تمام بحری راہداریاں بلا رکاوٹ اور کسی قسم کے محصول کے بغیر آمدورفت کے لیے کھلی رہیں گی۔ جنگ سے قبل دنیا بھر میں سمندر کے راستے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔</p>
<p>سینئر امریکی حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ جنگ کے دوران تہران نے بڑی حد تک آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا، جس کے باعث دنیا کی طاقتور ترین فوج کے ساتھ اس کی محاذ آرائی تعطل کا شکار ہو گئی۔</p>
<p>ایران کی وزارتِ صحت کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ و اطلاعات کے سربراہ کے مطابق بدھ اور جمعرات کو ایران کے چھ شہروں پر امریکی حملوں میں کم از کم 17 افراد ہلاک اور 115 زخمی ہوئے۔</p>
<p>اس کے باوجود امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت مثبت اور تعمیری رہی ہے۔</p>
<p>ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی تو ایران بھی ”اسی نوعیت کا جواب“ دے گا۔</p>
<p>گزشتہ ماہ ہونے والا عبوری معاہدہ اس جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیا گیا تھا، جو اب اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، عالمی توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے اور دنیا بھر میں معاشی سست روی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>خلیج میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی نے امریکی صارفین پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ کئی ہفتوں تک مسلسل کمی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے آٹھ ہفتوں کی سب سے بڑی ہفتہ وار بڑھوتری ریکارڈ کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288593</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 20:38:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/112026162e6f297.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/112026162e6f297.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
