<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 22:36:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Jul 2026 22:36:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بڑھتے درجہ حرارت اور بارشوں کے پیشِ نظر شمالی علاقوں کے لیے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا الرٹ جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288592/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان محکمۂ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ملک کے شمالی علاقوں کے لیے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (گلوف) کا الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آنے والے موسمی نظام کے باعث خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آئندہ ہفتے ایک نئی مغربی ہواؤں کی لہر پاکستان کے شمالی علاقوں میں داخل ہونے کا امکان ہے۔ اس موسمی نظام کے زیرِ اثر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں جزوی سے مکمل ابر آلود موسم، گرج چمک کے ساتھ معتدل سے شدید بارش کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمۂ موسمیات کے مطابق گلیشیئر والی وادیوں میں دن کا درجہ حرارت پہلے ہی معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ غیر معمولی گرمی اور متوقع بارشوں کے امتزاج سے ان علاقوں میں برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھلنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں مقامی ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند رہنے کا امکان ہے، موجودہ گلیشیائی جھیلیں تیزی سے پھیل سکتی ہیں، جبکہ برف پگھلنے سے پیدا ہونے والے بڑی مقدار میں پانی کے باعث نئی گلیشیائی جھیلیں بھی وجود میں آ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمۂ موسمیات کی ہدایت میں موجودہ موسمی حالات سے پیدا ہونے والے متعدد سنگین خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق نشیبی اور دریا یا ندی نالوں کے کنارے واقع زیریں علاقوں کو اچانک زیرِ آب آنے کا شدید خطرہ لاحق ہے، حساس مقامات پر اچانک سیلاب آنے کا قوی امکان ہے، جبکہ گلیشیائی جھیلوں کے تیزی سے پھیلنے سے قدرتی برفیلے یا ملبے سے بنے بند غیر مستحکم ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے شدید سیلاب (گلوف) کے واقعات رونما ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/111819087e5630b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/111819087e5630b.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محکمۂ موسمیات کے مطابق مستقل منجمد رہنے والی زمینی تہہ (پرما فراسٹ) کے پگھلنے اور سطح پر پانی کی زیادتی کے باعث پہاڑی ڈھلوانوں سے مٹی اور پتھروں کے بڑے بڑے تودے گرنے کا خدشہ ہے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی بدستور بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس الرٹ کے پیشِ نظر شہریوں اور مسافروں کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;دریا، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کے کناروں سے محفوظ فاصلہ رکھیں اور پانی کی سطح میں اچانک ہونے والی تبدیلیوں پر کڑی نظر رکھیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;تنگ پہاڑی وادیوں، ندی نالوں اور گلیشیائی جھیلوں کے قریب خیمہ زنی، ٹریکنگ یا قیام سے گریز کریں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;کھڑی ڈھلوانوں اور غیر مستحکم علاقوں میں جانے سے اجتناب کریں، کیونکہ برف پگھلنے سے مٹی اور پتھروں کے تودے گرنے یا لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;پی ایم ڈی نے متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری احتیاطی اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے چوبیس گھنٹے الرٹ رہیں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچاؤ کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان محکمۂ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ملک کے شمالی علاقوں کے لیے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (گلوف) کا الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آنے والے موسمی نظام کے باعث خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ہفتے کے روز جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آئندہ ہفتے ایک نئی مغربی ہواؤں کی لہر پاکستان کے شمالی علاقوں میں داخل ہونے کا امکان ہے۔ اس موسمی نظام کے زیرِ اثر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں جزوی سے مکمل ابر آلود موسم، گرج چمک کے ساتھ معتدل سے شدید بارش کی توقع ہے۔</p>
<p>محکمۂ موسمیات کے مطابق گلیشیئر والی وادیوں میں دن کا درجہ حرارت پہلے ہی معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ غیر معمولی گرمی اور متوقع بارشوں کے امتزاج سے ان علاقوں میں برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھلنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں مقامی ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند رہنے کا امکان ہے، موجودہ گلیشیائی جھیلیں تیزی سے پھیل سکتی ہیں، جبکہ برف پگھلنے سے پیدا ہونے والے بڑی مقدار میں پانی کے باعث نئی گلیشیائی جھیلیں بھی وجود میں آ سکتی ہیں۔</p>
<p>محکمۂ موسمیات کی ہدایت میں موجودہ موسمی حالات سے پیدا ہونے والے متعدد سنگین خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق نشیبی اور دریا یا ندی نالوں کے کنارے واقع زیریں علاقوں کو اچانک زیرِ آب آنے کا شدید خطرہ لاحق ہے، حساس مقامات پر اچانک سیلاب آنے کا قوی امکان ہے، جبکہ گلیشیائی جھیلوں کے تیزی سے پھیلنے سے قدرتی برفیلے یا ملبے سے بنے بند غیر مستحکم ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے شدید سیلاب (گلوف) کے واقعات رونما ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/111819087e5630b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/111819087e5630b.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>محکمۂ موسمیات کے مطابق مستقل منجمد رہنے والی زمینی تہہ (پرما فراسٹ) کے پگھلنے اور سطح پر پانی کی زیادتی کے باعث پہاڑی ڈھلوانوں سے مٹی اور پتھروں کے بڑے بڑے تودے گرنے کا خدشہ ہے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی بدستور بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>اس الرٹ کے پیشِ نظر شہریوں اور مسافروں کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے:</p>
<ul>
<li>دریا، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کے کناروں سے محفوظ فاصلہ رکھیں اور پانی کی سطح میں اچانک ہونے والی تبدیلیوں پر کڑی نظر رکھیں۔</li>
<li>تنگ پہاڑی وادیوں، ندی نالوں اور گلیشیائی جھیلوں کے قریب خیمہ زنی، ٹریکنگ یا قیام سے گریز کریں۔</li>
<li>کھڑی ڈھلوانوں اور غیر مستحکم علاقوں میں جانے سے اجتناب کریں، کیونکہ برف پگھلنے سے مٹی اور پتھروں کے تودے گرنے یا لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔</li>
</ul>
<p>پی ایم ڈی نے متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری احتیاطی اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے چوبیس گھنٹے الرٹ رہیں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچاؤ کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288592</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 20:17:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/112009571abcdc8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/112009571abcdc8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
