<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 22:36:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Jul 2026 22:36:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیجیٹل اثاثوں کو صرف ایک ہی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے، بِلال بن ثاقب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288591/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیجیٹل اثاثوں کے وزیرِ مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ہفتے کے روز معروف اسلامی اسکالر مفتی محمد تقی عثمانی سے ملاقات کے بعد کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کو صرف ایک ہی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی اور اس سے وابستہ اثاثوں کا جائزہ سخت شرعی جانچ کے ساتھ ساتھ محتاط تکنیکی تجزیے کی بھی ضرورت رکھتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس کے بعد سامنے آئی ہے کہ مفتی محمد تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے اشیا کی خرید و فروخت کو ناجائز قرار دیا تھا۔ انہوں نے ماہرین کی اب تک کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کرپٹو کرنسی شرعی اعتبار سے مال کے زمرے میں نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فتویٰ دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی کی جانب سے 24 ذی الحجہ 1447 ہجری (10 جون 2026) کو جاری کیا گیا تھا۔ سابق جج وفاقی شرعی عدالت مفتی محمد تقی عثمانی کے علاوہ پانچ دیگر ممتاز علما نے بھی اس پر دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال بن ثاقب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ”آج میری مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سے ڈیجیٹل اثاثوں اور ان کی شرعی حیثیت سے متعلق جاری مباحث پر تعمیری گفتگو ہوئی۔ ہم ایک بنیادی مقصد پر متفق ہیں: پاکستانیوں کو دھوکہ دہی، استحصال اور مالی نقصان سے محفوظ رکھنا۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Bilalbinsaqib/status/2075918448970862741'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Bilalbinsaqib/status/2075918448970862741"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بلال بن ثاقب نے کہا، ”میں نے اس بات پر زور دیا کہ بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثے، اسٹیبل کوائنز اور حقیقی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن مختلف نوعیت کی ٹیکنالوجیز اور استعمالات پر مشتمل ایک وسیع شعبہ ہیں۔ اس لیے ان کا جائزہ صرف ایک ہی زاویے سے لینے کے بجائے سخت شرعی جانچ کے ساتھ ساتھ محتاط تکنیکی تجزیے کی بھی ضرورت ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ”چونکہ یہ شعبہ مسلسل ترقی کر رہا ہے، اس لیے میری خواہش ہے کہ معزز علما، ریگولیٹرز اور شعبے کے ماہرین کے درمیان مسلسل رابطہ اور مشاورت جاری رہے، تاکہ پاکستان کی پالیسی اسلامی اصولوں کے ساتھ ساتھ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی جامع سمجھ پر بھی استوار ہو۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈیجیٹل اثاثوں کے وزیرِ مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ہفتے کے روز معروف اسلامی اسکالر مفتی محمد تقی عثمانی سے ملاقات کے بعد کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کو صرف ایک ہی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی اور اس سے وابستہ اثاثوں کا جائزہ سخت شرعی جانچ کے ساتھ ساتھ محتاط تکنیکی تجزیے کی بھی ضرورت رکھتا ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت اس کے بعد سامنے آئی ہے کہ مفتی محمد تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے اشیا کی خرید و فروخت کو ناجائز قرار دیا تھا۔ انہوں نے ماہرین کی اب تک کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کرپٹو کرنسی شرعی اعتبار سے مال کے زمرے میں نہیں آتی۔</p>
<p>یہ فتویٰ دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی کی جانب سے 24 ذی الحجہ 1447 ہجری (10 جون 2026) کو جاری کیا گیا تھا۔ سابق جج وفاقی شرعی عدالت مفتی محمد تقی عثمانی کے علاوہ پانچ دیگر ممتاز علما نے بھی اس پر دستخط کیے تھے۔</p>
<p>بلال بن ثاقب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ”آج میری مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سے ڈیجیٹل اثاثوں اور ان کی شرعی حیثیت سے متعلق جاری مباحث پر تعمیری گفتگو ہوئی۔ ہم ایک بنیادی مقصد پر متفق ہیں: پاکستانیوں کو دھوکہ دہی، استحصال اور مالی نقصان سے محفوظ رکھنا۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Bilalbinsaqib/status/2075918448970862741'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Bilalbinsaqib/status/2075918448970862741"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بلال بن ثاقب نے کہا، ”میں نے اس بات پر زور دیا کہ بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثے، اسٹیبل کوائنز اور حقیقی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن مختلف نوعیت کی ٹیکنالوجیز اور استعمالات پر مشتمل ایک وسیع شعبہ ہیں۔ اس لیے ان کا جائزہ صرف ایک ہی زاویے سے لینے کے بجائے سخت شرعی جانچ کے ساتھ ساتھ محتاط تکنیکی تجزیے کی بھی ضرورت ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ”چونکہ یہ شعبہ مسلسل ترقی کر رہا ہے، اس لیے میری خواہش ہے کہ معزز علما، ریگولیٹرز اور شعبے کے ماہرین کے درمیان مسلسل رابطہ اور مشاورت جاری رہے، تاکہ پاکستان کی پالیسی اسلامی اصولوں کے ساتھ ساتھ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی جامع سمجھ پر بھی استوار ہو۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288591</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 19:31:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/11191716d0f102a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/11191716d0f102a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
