<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 20:57:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Jul 2026 20:57:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور امن و امان کا تعلق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288579/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور سیکیورٹی: ایسا مساوات جسے پاکستان نظرانداز نہیں کر سکتا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی تازہ ترین سیکیورٹی سروے 2026 کی رپورٹ پالیسی سازوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ انکشاف کہ 71 فیصد نمایاں غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں نے سیکیورٹی کو اپنے تین بڑے کاروباری خدشات میں شامل کیا ہے، محض ایک شماریاتی حقیقت نہیں بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ایک بنیادی اصول کی یاد دہانی بھی ہے: براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) منافع کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کی بھی پیروکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سرمایہ کار کسی بھی ممکنہ سرمایہ کاری کے مقام کا جائزہ دو بنیادی زاویوں سے لیتا ہے۔ پہلا تجارتی موزونیت ہے، جس میں منڈی کا حجم، منافع، ٹیکس کا نظام، ضابطہ جاتی ماحول اور کاروبار کرنے میں آسانی جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، اور اتنا ہی اہم پہلو، افراد، اثاثوں اور سپلائی چینز کا تحفظ ہے۔ اگرچہ حکومتیں مالی مراعات، ٹیکس میں رعایت اور ضابطہ جاتی اصلاحات کے ذریعے کاروباری منافع میں اضافہ کر سکتی ہیں، لیکن ملازمین اور سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا ازالہ کوئی مالی ترغیب نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ فطری طور پر خطرات کے حوالے سے انتہائی حساس ہوتا ہے۔ پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے برعکس، جسے چند لمحوں میں واپس لیا جا سکتا ہے، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ایک طویل المدتی وابستگی ہوتی ہے، جس میں کارخانے، بنیادی ڈھانچہ، ٹیکنالوجی، دانشورانہ املاک اور انسانی وسائل شامل ہوتے ہیں۔ اس نوعیت کی سرمایہ کاری پر لاگت کی واپسی اور پائیدار منافع حاصل کرنے میں اکثر کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے سے قبل کثیرالقومی کمپنیاں تفصیلی خطرات کا جائزہ لیتی ہیں، جس میں سیکیورٹی کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں پاکستان کی معاشی پالیسی کا محور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی)، نجکاری، ٹیکس اصلاحات اور مختلف شعبوں کے لیے خصوصی مراعات کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا رہا ہے۔ یہ اقدامات بلاشبہ ضروری اور قابلِ تحسین ہیں، تاہم جب تک ان کے ساتھ مستحکم اور محفوظ کاروباری ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، ان کی افادیت محدود رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے سروے میں پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بڑھتی تشویش کی نشاندہی کی گئی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں بھی سیکیورٹی کے مسائل بدستور برقرار ہیں۔ کراچی اکیلا ہی پاکستان کی صنعتی پیداوار، برآمدات، بینکاری سرگرمیوں اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے، لہٰذا شہر میں امن و امان کی خرابی پورے ملک کے کاروباری اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی خدشات صرف جرائم یا دہشت گردی سے ہونے والے براہِ راست نقصانات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کے باعث انشورنس اخراجات بڑھ جاتے ہیں، نجی سیکیورٹی پر زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے، رسد کا نظام متاثر ہوتا ہے، غیر ملکی ماہرین اور انتظامی عہدیدار پاکستان آنے سے ہچکچاتے ہیں، پیداواری سرگرمیوں میں خلل آتا ہے اور پوری سپلائی چین کے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پوشیدہ اخراجات خطے کے دیگر سرمایہ کاری مراکز کے مقابلے میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو نمایاں طور پر کمزور کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیرالقومی کمپنیاں اب اپنے بورڈز، حصص یافتگان، انشورنس اداروں اور ماحولیاتی، سماجی اور طرزِ حکمرانی (ای ایس جی) کے تقاضوں کے تحت بھی سخت نگرانی کا سامنا کرتی ہیں۔ آج کمپنیوں کے ڈائریکٹرز کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ان کے ملازمین کو غیر ضروری خطرات سے دوچار نہیں کیا جا رہا۔ اسی لیے اگر سیکیورٹی کی صورتحال بین الاقوامی معیار سے کم سمجھی جائے تو انتہائی منافع بخش منصوبے بھی مؤخر کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے کئی ممالک اس کی مثال ہیں۔ سنگاپور، ویتنام اور ملائیشیا سمیت متعدد معیشتیں صرف مالی مراعات کی وجہ سے نہیں بلکہ محفوظ کاروباری ماحول کی بدولت بڑی مقدار میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ سرمایہ کار ایسے ممالک میں نسبتاً زیادہ آپریٹنگ لاگت بھی قبول کر لیتے ہیں جہاں استحکام، پیش گوئی اور سیکیورٹی یقینی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس قدرتی وسائل سے مالا مال کئی ممالک مسلسل غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں ناکام رہے، کیونکہ سیکیورٹی خطرات نے تجارتی مواقع پر سبقت حاصل کر لی۔ سرمایہ کار صرف ٹیکس کی شرح یا مزدوری کی لاگت کا موازنہ نہیں کرتے بلکہ مجموعی خطرات کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس بے شمار مضبوط معاشی بنیادیں موجود ہیں۔ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع نہایت اہم ہے، آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، صارفین کی بڑی منڈی موجود ہے، مزدوری نسبتاً کم لاگت پر دستیاب ہے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بہتر ہو رہا ہے، جبکہ توانائی، معدنیات، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت اور مینوفیکچرنگ سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ تاہم جب تک عوامی سیکیورٹی میں مستقل بہتری نہیں آتی، ان تمام صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں سرمایہ کاری میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ چیلنج صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے انٹیلی جنس اداروں، صوبائی حکومتوں، عدلیہ، مقامی انتظامیہ، ٹرانسپورٹ حکام اور بلدیاتی اداروں کے درمیان مربوط قومی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ شہری علاقوں میں مؤثر پولیسنگ، فوری انصاف، صنعتی زونز کا تحفظ، محفوظ تجارتی راہداریوں، سائبر سیکیورٹی اور مؤثر ہنگامی انتظامات جیسے عوامل سرمایہ کاری کے مجموعی ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کا تاثر بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کار اکثر اعداد و شمار سے زیادہ خبروں اور عالمی تاثر سے متاثر ہوتے ہیں۔ چند نمایاں ناخوشگوار واقعات کئی برس کی پیش رفت پر پانی پھیر سکتے ہیں۔ اس لیے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے صرف مؤثر کارروائیاں ہی کافی نہیں بلکہ شفاف ابلاغ اور مسلسل اعتماد سازی بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے معاشی اہداف کا تقاضا ہے کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہو۔ صرف ملکی بچتیں صنعتی توسیع، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ٹیکنالوجی کی ترقی اور برآمدات میں تنوع جیسے اہداف کے لیے درکار سرمایہ فراہم نہیں کر سکتیں، جو پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی سرمایہ کاری صرف سرمایہ ہی نہیں لاتی بلکہ اس کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدید انتظامی مہارت، عالمی ویلیو چینز میں شمولیت، روزگار کے مواقع اور برآمدی مسابقت بھی فروغ پاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا سرمایہ کاری کا اصول نہایت واضح ہے: منافع سرمایہ کار کی دلچسپی پیدا کرتا ہے، جبکہ سیکیورٹی اس دلچسپی کو حقیقی سرمایہ کاری میں بدلتی ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے گزشتہ برسوں کے دوران غیر معمولی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ملک نے ماضی میں قومی عزم اور مربوط کوششوں کے ذریعے سنگین سیکیورٹی چیلنجز پر قابو پایا۔ اب اسی عزم کی تجدید محض سیکیورٹی کا نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی بن چکی ہے۔ امن و امان میں ہر بہتری سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کرتی ہے، جبکہ ہر سیکیورٹی واقعہ اپنے فوری اثرات سے کہیں زیادہ معاشی نقصان کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان واقعی خود کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منزل بنانا چاہتا ہے تو اسے بین الاقوامی کاروبار کی اس مستقل حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پائیدار سیکیورٹی کے بغیر پائیدار براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور سیکیورٹی: ایسا مساوات جسے پاکستان نظرانداز نہیں کر سکتا</strong></p>
<p>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی تازہ ترین سیکیورٹی سروے 2026 کی رپورٹ پالیسی سازوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہونی چاہیے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ انکشاف کہ 71 فیصد نمایاں غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں نے سیکیورٹی کو اپنے تین بڑے کاروباری خدشات میں شامل کیا ہے، محض ایک شماریاتی حقیقت نہیں بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ایک بنیادی اصول کی یاد دہانی بھی ہے: براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) منافع کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کی بھی پیروکار ہوتی ہے۔</p>
<p>ہر سرمایہ کار کسی بھی ممکنہ سرمایہ کاری کے مقام کا جائزہ دو بنیادی زاویوں سے لیتا ہے۔ پہلا تجارتی موزونیت ہے، جس میں منڈی کا حجم، منافع، ٹیکس کا نظام، ضابطہ جاتی ماحول اور کاروبار کرنے میں آسانی جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔</p>
<p>دوسرا، اور اتنا ہی اہم پہلو، افراد، اثاثوں اور سپلائی چینز کا تحفظ ہے۔ اگرچہ حکومتیں مالی مراعات، ٹیکس میں رعایت اور ضابطہ جاتی اصلاحات کے ذریعے کاروباری منافع میں اضافہ کر سکتی ہیں، لیکن ملازمین اور سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا ازالہ کوئی مالی ترغیب نہیں کر سکتی۔</p>
<p>سرمایہ فطری طور پر خطرات کے حوالے سے انتہائی حساس ہوتا ہے۔ پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے برعکس، جسے چند لمحوں میں واپس لیا جا سکتا ہے، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ایک طویل المدتی وابستگی ہوتی ہے، جس میں کارخانے، بنیادی ڈھانچہ، ٹیکنالوجی، دانشورانہ املاک اور انسانی وسائل شامل ہوتے ہیں۔ اس نوعیت کی سرمایہ کاری پر لاگت کی واپسی اور پائیدار منافع حاصل کرنے میں اکثر کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔</p>
<p>سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے سے قبل کثیرالقومی کمپنیاں تفصیلی خطرات کا جائزہ لیتی ہیں، جس میں سیکیورٹی کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں پاکستان کی معاشی پالیسی کا محور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی)، نجکاری، ٹیکس اصلاحات اور مختلف شعبوں کے لیے خصوصی مراعات کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا رہا ہے۔ یہ اقدامات بلاشبہ ضروری اور قابلِ تحسین ہیں، تاہم جب تک ان کے ساتھ مستحکم اور محفوظ کاروباری ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، ان کی افادیت محدود رہے گی۔</p>
<p>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے سروے میں پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بڑھتی تشویش کی نشاندہی کی گئی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں بھی سیکیورٹی کے مسائل بدستور برقرار ہیں۔ کراچی اکیلا ہی پاکستان کی صنعتی پیداوار، برآمدات، بینکاری سرگرمیوں اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے، لہٰذا شہر میں امن و امان کی خرابی پورے ملک کے کاروباری اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔</p>
<p>سیکیورٹی خدشات صرف جرائم یا دہشت گردی سے ہونے والے براہِ راست نقصانات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کے باعث انشورنس اخراجات بڑھ جاتے ہیں، نجی سیکیورٹی پر زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے، رسد کا نظام متاثر ہوتا ہے، غیر ملکی ماہرین اور انتظامی عہدیدار پاکستان آنے سے ہچکچاتے ہیں، پیداواری سرگرمیوں میں خلل آتا ہے اور پوری سپلائی چین کے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔</p>
<p>یہ پوشیدہ اخراجات خطے کے دیگر سرمایہ کاری مراکز کے مقابلے میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو نمایاں طور پر کمزور کرتے ہیں۔</p>
<p>کثیرالقومی کمپنیاں اب اپنے بورڈز، حصص یافتگان، انشورنس اداروں اور ماحولیاتی، سماجی اور طرزِ حکمرانی (ای ایس جی) کے تقاضوں کے تحت بھی سخت نگرانی کا سامنا کرتی ہیں۔ آج کمپنیوں کے ڈائریکٹرز کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ان کے ملازمین کو غیر ضروری خطرات سے دوچار نہیں کیا جا رہا۔ اسی لیے اگر سیکیورٹی کی صورتحال بین الاقوامی معیار سے کم سمجھی جائے تو انتہائی منافع بخش منصوبے بھی مؤخر کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>دنیا کے کئی ممالک اس کی مثال ہیں۔ سنگاپور، ویتنام اور ملائیشیا سمیت متعدد معیشتیں صرف مالی مراعات کی وجہ سے نہیں بلکہ محفوظ کاروباری ماحول کی بدولت بڑی مقدار میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ سرمایہ کار ایسے ممالک میں نسبتاً زیادہ آپریٹنگ لاگت بھی قبول کر لیتے ہیں جہاں استحکام، پیش گوئی اور سیکیورٹی یقینی ہو۔</p>
<p>اس کے برعکس قدرتی وسائل سے مالا مال کئی ممالک مسلسل غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں ناکام رہے، کیونکہ سیکیورٹی خطرات نے تجارتی مواقع پر سبقت حاصل کر لی۔ سرمایہ کار صرف ٹیکس کی شرح یا مزدوری کی لاگت کا موازنہ نہیں کرتے بلکہ مجموعی خطرات کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے پاس بے شمار مضبوط معاشی بنیادیں موجود ہیں۔ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع نہایت اہم ہے، آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، صارفین کی بڑی منڈی موجود ہے، مزدوری نسبتاً کم لاگت پر دستیاب ہے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بہتر ہو رہا ہے، جبکہ توانائی، معدنیات، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت اور مینوفیکچرنگ سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ تاہم جب تک عوامی سیکیورٹی میں مستقل بہتری نہیں آتی، ان تمام صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں سرمایہ کاری میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>یہ چیلنج صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے انٹیلی جنس اداروں، صوبائی حکومتوں، عدلیہ، مقامی انتظامیہ، ٹرانسپورٹ حکام اور بلدیاتی اداروں کے درمیان مربوط قومی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ شہری علاقوں میں مؤثر پولیسنگ، فوری انصاف، صنعتی زونز کا تحفظ، محفوظ تجارتی راہداریوں، سائبر سیکیورٹی اور مؤثر ہنگامی انتظامات جیسے عوامل سرمایہ کاری کے مجموعی ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کا تاثر بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کار اکثر اعداد و شمار سے زیادہ خبروں اور عالمی تاثر سے متاثر ہوتے ہیں۔ چند نمایاں ناخوشگوار واقعات کئی برس کی پیش رفت پر پانی پھیر سکتے ہیں۔ اس لیے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے صرف مؤثر کارروائیاں ہی کافی نہیں بلکہ شفاف ابلاغ اور مسلسل اعتماد سازی بھی ضروری ہے۔</p>
<p>پاکستان کے معاشی اہداف کا تقاضا ہے کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہو۔ صرف ملکی بچتیں صنعتی توسیع، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ٹیکنالوجی کی ترقی اور برآمدات میں تنوع جیسے اہداف کے لیے درکار سرمایہ فراہم نہیں کر سکتیں، جو پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی سرمایہ کاری صرف سرمایہ ہی نہیں لاتی بلکہ اس کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدید انتظامی مہارت، عالمی ویلیو چینز میں شمولیت، روزگار کے مواقع اور برآمدی مسابقت بھی فروغ پاتی ہے۔</p>
<p>لہٰذا سرمایہ کاری کا اصول نہایت واضح ہے: منافع سرمایہ کار کی دلچسپی پیدا کرتا ہے، جبکہ سیکیورٹی اس دلچسپی کو حقیقی سرمایہ کاری میں بدلتی ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔</p>
<p>پاکستان نے گزشتہ برسوں کے دوران غیر معمولی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ملک نے ماضی میں قومی عزم اور مربوط کوششوں کے ذریعے سنگین سیکیورٹی چیلنجز پر قابو پایا۔ اب اسی عزم کی تجدید محض سیکیورٹی کا نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی بن چکی ہے۔ امن و امان میں ہر بہتری سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کرتی ہے، جبکہ ہر سیکیورٹی واقعہ اپنے فوری اثرات سے کہیں زیادہ معاشی نقصان کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p>اگر پاکستان واقعی خود کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منزل بنانا چاہتا ہے تو اسے بین الاقوامی کاروبار کی اس مستقل حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پائیدار سیکیورٹی کے بغیر پائیدار براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ممکن نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288579</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 17:28:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/111729081835e23.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/111729081835e23.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
