<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 23:58:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 10 Jul 2026 23:58:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران سے کشیدگی میں اضافہ : آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت سست پڑ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288555/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ڈیٹا کے مطابق  مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی یومیہ شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں قطر انرجی اور یونانی کمپنیوں سے وابستہ ایل این جی کے پانچ خالی ٹینکرز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے مخصوص بحری راستوں پر حملوں کے بعد اب جہازوں نے سراغ رانی سے بچنے کے لیے اپنے ٹریکنگ سسٹم (اے آئی ایس) بند کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے ان کی نگرانی مشکل ہو گئی ہے۔دوسری جانب جاپانی وزیرِ ٹرانسپورٹ یاسوشی کانیکو نے تصدیق کی ہے کہ منگل سے اب تک جاپان سے منسلک 22 بحری جہاز خلیج سے نکل چکے ہیں اور اب وہاں صرف 4 جہاز باقی رہ گئے ہیں۔ جنگ کے آغاز پر ان جہازوں کی تعداد 45 تھی۔ تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں اور امریکی جوابی کارروائی کے بعد انشورنس کمپنیوں نے جہاز مالکان کو سفر روکنے کا مشورہ دیا ہے، جس کے باعث بحری انشورنس کی شرح (وار انشورنس ریٹس) میں ایک بار پھر بھاری اضافہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ڈیٹا کے مطابق  مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی یومیہ شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں قطر انرجی اور یونانی کمپنیوں سے وابستہ ایل این جی کے پانچ خالی ٹینکرز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے مخصوص بحری راستوں پر حملوں کے بعد اب جہازوں نے سراغ رانی سے بچنے کے لیے اپنے ٹریکنگ سسٹم (اے آئی ایس) بند کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے ان کی نگرانی مشکل ہو گئی ہے۔دوسری جانب جاپانی وزیرِ ٹرانسپورٹ یاسوشی کانیکو نے تصدیق کی ہے کہ منگل سے اب تک جاپان سے منسلک 22 بحری جہاز خلیج سے نکل چکے ہیں اور اب وہاں صرف 4 جہاز باقی رہ گئے ہیں۔ جنگ کے آغاز پر ان جہازوں کی تعداد 45 تھی۔ تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں اور امریکی جوابی کارروائی کے بعد انشورنس کمپنیوں نے جہاز مالکان کو سفر روکنے کا مشورہ دیا ہے، جس کے باعث بحری انشورنس کی شرح (وار انشورنس ریٹس) میں ایک بار پھر بھاری اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288555</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 18:01:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/10175800635ba47.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/10175800635ba47.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
