<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 20:49:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 20:49:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس میں تقریباً ایک ہزار پوائنٹس کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288532/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کواتار چڑھاؤ سے بھرپور ایک اور کاروباری سیشن دیکھا گیا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس کاروباری دن کے دوران ہونے والے آدھے منافع کو گنوانے کے باوجود تقریباً 1,000 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کا آغاز انتہائی مثبت انداز میں ہوا اور گزشتہ سیشن کی تیزی کا سلسلہ برقرار رہا۔ انڈیکس میں بھاری اثر رکھنے والے اہم شیئرز میں جارحانہ خریداری کے باعث مارکیٹ تیزی سے اوپر چلی گئی۔کاروباری سیشن کے پہلے ہاف کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس مسلسل بلندی کی طرف گامزن رہا اور اس نے 183,477.57 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دوپہر کے سیشن میں یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی کیونکہ ابتدائی بڑے منافع کے بعد سرمایہ کاروں نے  پرافٹ بکنگ کو ترجیح دی۔ دوپہر کے بعد مارکیٹ پر فروخت کا دباؤ بتدریج بڑھتا گیا، جس کے نتیجے میں صبح کے وقت ہونے والے اضافے کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 982.10 پوائنٹس یا 0.54 فیصد اضافے کے ساتھ 182,241.77 کی سطح پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکرج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری  اپنی رپورٹ میں بتایا کہ آج کے ایس ای 100 انڈیکس میں واپسی (تیزی) دیکھی گئی کیونکہ ان علامات کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی کہ حالیہ محاذ آرائی کے باوجود امریکہ اور ایران سفارتی مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی اور طویل المدت جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے خدشات کم ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت حصہ بینکنگ سیکٹر کی طرف سے دیکھا گیا، جہاں بینکنگ کے شعبے سے ہی ایم سی بی، ایچ بی ایل، یوبی ایل، ایم ای بی ایل اور اے کے بی ایل نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 548 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے دوران 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ وصول کی ہیں جو ملک کی تاریخ میں کسی بھی سال کے دوران موصول ہونے والی سب سے زیادہ سالانہ رقم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ بھرا تجارتی سیشن دیکھا گیا، تاہم مارکیٹ نے اپنے ابتدائی نقصانات کا بیشتر حصہ بحال کر لیا۔ اس بحالی میں بلیو چپ (مضبوط اور مستحکم) کمپنیوں کے شیئرز میں منتخب خریداری نے مدد کی جس سے مارکیٹ کو بدھ کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والی شدید فروخت کے بعد سنبھلنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو بینچ مارک 100 انڈیکس 369.69 پوائنٹس یا 0.20 فیصد کی کمی سے 181,259.68 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص بازاروں میں زبردست تیزی دیکھی گئی جس کی قیادت چِپ اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں نے کی۔ سرمایہ کاروں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کی بحالی میں تعطل کے خدشات کو نظر انداز کردیا حالانکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ باہمی حلوں کا سلسلہ تین ہفتے پرانی نازک جنگ بندی کو مزید کمزور کر چکا ہے جس سے تیل کی قیمتوں، افراطِ زر اور عالمی شرح سود کے منظرنامے پر دوبارہ خدشات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز رواں ہفتے 5 فیصد اضافے کے ساتھ مئی کے اوائل کے بعد اپنی بہترین ہفتہ وار کارکردگی دکھانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ تاہم 76.03 ڈالر فی بیرل کی قیمت پر برینٹ کروڈ نے ان تمام تر فوائد کا بیشتر حصہ گنوا دیا ہے جو فروری کے اواخر میں تنازعہ شروع ہونے کے وقت اسے حاصل ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نکئی 1.8 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی جو کہ اے آئی ریلی کا مرکز ہے ابتدائی ٹریڈنگ میں 2.4 فیصد اوپر گیا۔ چپ بنانے والی صفِ اول کی کمپنیاں ایس کے ہائینکس اور سام سنگ دونوں میں 3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ تائیوان کی مارکیٹیں بند تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا وسیع تر انڈیکس ایم ایس سی آئی 0.76 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں  روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 0.01 روپے (ایک پیسے) کے اضافے کے ساتھ 278.05 پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آل شیئرز انڈیکس پر کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 982.12 ملین شیئرز سے کم ہو کر 948.78 ملین شیئرز رہ گیا۔ شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 41.86 ارب روپے سے گر کر 38.41 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری کے لحاظ سے سائنرجیکو پی کے 151.75 ملین شیئرز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جس کے بعد  کے الیکٹرک لمیٹڈ 67.53 ملین شیئرز اور  ورلڈ کال ٹیلی کام  51.76 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کومجموعی طور پر 495 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 292 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 169 کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 34 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/10181235f9185cf.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/10181235f9185cf.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کواتار چڑھاؤ سے بھرپور ایک اور کاروباری سیشن دیکھا گیا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس کاروباری دن کے دوران ہونے والے آدھے منافع کو گنوانے کے باوجود تقریباً 1,000 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>مارکیٹ کا آغاز انتہائی مثبت انداز میں ہوا اور گزشتہ سیشن کی تیزی کا سلسلہ برقرار رہا۔ انڈیکس میں بھاری اثر رکھنے والے اہم شیئرز میں جارحانہ خریداری کے باعث مارکیٹ تیزی سے اوپر چلی گئی۔کاروباری سیشن کے پہلے ہاف کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس مسلسل بلندی کی طرف گامزن رہا اور اس نے 183,477.57 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔</p>
<p>تاہم دوپہر کے سیشن میں یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی کیونکہ ابتدائی بڑے منافع کے بعد سرمایہ کاروں نے  پرافٹ بکنگ کو ترجیح دی۔ دوپہر کے بعد مارکیٹ پر فروخت کا دباؤ بتدریج بڑھتا گیا، جس کے نتیجے میں صبح کے وقت ہونے والے اضافے کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 982.10 پوائنٹس یا 0.54 فیصد اضافے کے ساتھ 182,241.77 کی سطح پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکرج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری  اپنی رپورٹ میں بتایا کہ آج کے ایس ای 100 انڈیکس میں واپسی (تیزی) دیکھی گئی کیونکہ ان علامات کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی کہ حالیہ محاذ آرائی کے باوجود امریکہ اور ایران سفارتی مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی اور طویل المدت جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے خدشات کم ہوئے۔</p>
<p>ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت حصہ بینکنگ سیکٹر کی طرف سے دیکھا گیا، جہاں بینکنگ کے شعبے سے ہی ایم سی بی، ایچ بی ایل، یوبی ایل، ایم ای بی ایل اور اے کے بی ایل نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 548 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔</p>
<p>پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے دوران 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ وصول کی ہیں جو ملک کی تاریخ میں کسی بھی سال کے دوران موصول ہونے والی سب سے زیادہ سالانہ رقم ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ بھرا تجارتی سیشن دیکھا گیا، تاہم مارکیٹ نے اپنے ابتدائی نقصانات کا بیشتر حصہ بحال کر لیا۔ اس بحالی میں بلیو چپ (مضبوط اور مستحکم) کمپنیوں کے شیئرز میں منتخب خریداری نے مدد کی جس سے مارکیٹ کو بدھ کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والی شدید فروخت کے بعد سنبھلنے میں مدد ملی۔</p>
<p>جمعرات کو بینچ مارک 100 انڈیکس 369.69 پوائنٹس یا 0.20 فیصد کی کمی سے 181,259.68 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص بازاروں میں زبردست تیزی دیکھی گئی جس کی قیادت چِپ اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں نے کی۔ سرمایہ کاروں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کی بحالی میں تعطل کے خدشات کو نظر انداز کردیا حالانکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر گیا تھا۔</p>
<p>یہ باہمی حلوں کا سلسلہ تین ہفتے پرانی نازک جنگ بندی کو مزید کمزور کر چکا ہے جس سے تیل کی قیمتوں، افراطِ زر اور عالمی شرح سود کے منظرنامے پر دوبارہ خدشات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔</p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز رواں ہفتے 5 فیصد اضافے کے ساتھ مئی کے اوائل کے بعد اپنی بہترین ہفتہ وار کارکردگی دکھانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ تاہم 76.03 ڈالر فی بیرل کی قیمت پر برینٹ کروڈ نے ان تمام تر فوائد کا بیشتر حصہ گنوا دیا ہے جو فروری کے اواخر میں تنازعہ شروع ہونے کے وقت اسے حاصل ہوئے تھے۔</p>
<p>جاپان کا نکئی 1.8 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی جو کہ اے آئی ریلی کا مرکز ہے ابتدائی ٹریڈنگ میں 2.4 فیصد اوپر گیا۔ چپ بنانے والی صفِ اول کی کمپنیاں ایس کے ہائینکس اور سام سنگ دونوں میں 3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ تائیوان کی مارکیٹیں بند تھیں۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا وسیع تر انڈیکس ایم ایس سی آئی 0.76 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</p>
<p>دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں  روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 0.01 روپے (ایک پیسے) کے اضافے کے ساتھ 278.05 پر بند ہوئی۔</p>
<p>دوسری جانب آل شیئرز انڈیکس پر کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 982.12 ملین شیئرز سے کم ہو کر 948.78 ملین شیئرز رہ گیا۔ شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 41.86 ارب روپے سے گر کر 38.41 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>سرمایہ کاری کے لحاظ سے سائنرجیکو پی کے 151.75 ملین شیئرز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جس کے بعد  کے الیکٹرک لمیٹڈ 67.53 ملین شیئرز اور  ورلڈ کال ٹیلی کام  51.76 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>جمعہ کومجموعی طور پر 495 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 292 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 169 کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 34 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/10181235f9185cf.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/10181235f9185cf.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288532</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 18:36:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/10104930f9b8af0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/10104930f9b8af0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
