<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Jul 2026 14:40:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Jul 2026 14:40:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطٰی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے امریکی ڈالر مضبوط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288489/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر جمعرات کو زیادہ تر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہا کیونکہ خلیج میں نئی کشیدگی نے محفوظ سرمایہ کاری  کے رجحان کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے جبکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے شرح سود میں اضافے کی توقعات کو تقویت دی ہے جس کی وجہ سے جاپانی ین دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر 162.41 ین پر رہا جو یکم جولائی کے بعد سے اس کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو اور برطانوی پاؤنڈ کی قدروں میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی اور وہ بالترتیب 1.1426 ڈالر اور 1.3392 ڈالر پر ٹریڈ کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوزی لینڈ کا ڈالر گزشتہ روز شرح سود میں اضافے اور مرکزی بینک کے سخت مانیٹری پالیسی کے موقف کے بعد مضبوط رہا جس میں مزید 0.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 0.5725 ڈالر تک پہنچ گیا۔ آسٹریلوی ڈالر 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 0.6936 ڈالر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر انڈیکس100.96 پر تقریباً غیر تبدیل شدہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر فنانشل مارکیٹ تجزیہ کار کائل روڈا نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے نئے بھڑک اٹھنے سے عالمی منڈیاں دوبارہ ہل کر رہ گئی ہیں اور اثاثوں کی قیمتوں میں جنگ کا رسک پریمیم دوبارہ شامل ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے اہم ثانوی اثر افراطِ زر اور عالمی شرح سود پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں تیزی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے وقت کو قریب لا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج نے بتایا کہ اس نے ایران پر نئے حملے کیے ہیں، یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کا عبوری معاہدہ ختم ہو چکا ہے جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو یہ انتباہ دیا کہ توانائی کی قیمتیں کس طرح افراطِ زر کے دباؤ کو بڑھا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر جمعرات کو زیادہ تر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہا کیونکہ خلیج میں نئی کشیدگی نے محفوظ سرمایہ کاری  کے رجحان کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے جبکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے شرح سود میں اضافے کی توقعات کو تقویت دی ہے جس کی وجہ سے جاپانی ین دباؤ کا شکار ہے۔</strong></p>
<p>ڈالر 162.41 ین پر رہا جو یکم جولائی کے بعد سے اس کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو اور برطانوی پاؤنڈ کی قدروں میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی اور وہ بالترتیب 1.1426 ڈالر اور 1.3392 ڈالر پر ٹریڈ کرتے رہے۔</p>
<p>نیوزی لینڈ کا ڈالر گزشتہ روز شرح سود میں اضافے اور مرکزی بینک کے سخت مانیٹری پالیسی کے موقف کے بعد مضبوط رہا جس میں مزید 0.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 0.5725 ڈالر تک پہنچ گیا۔ آسٹریلوی ڈالر 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 0.6936 ڈالر پر رہا۔</p>
<p>امریکی ڈالر انڈیکس100.96 پر تقریباً غیر تبدیل شدہ رہا۔</p>
<p>سینئر فنانشل مارکیٹ تجزیہ کار کائل روڈا نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے نئے بھڑک اٹھنے سے عالمی منڈیاں دوبارہ ہل کر رہ گئی ہیں اور اثاثوں کی قیمتوں میں جنگ کا رسک پریمیم دوبارہ شامل ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے اہم ثانوی اثر افراطِ زر اور عالمی شرح سود پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں تیزی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے وقت کو قریب لا سکتی ہے۔</p>
<p>امریکی فوج نے بتایا کہ اس نے ایران پر نئے حملے کیے ہیں، یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کا عبوری معاہدہ ختم ہو چکا ہے جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو یہ انتباہ دیا کہ توانائی کی قیمتیں کس طرح افراطِ زر کے دباؤ کو بڑھا سکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288489</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jul 2026 12:42:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/091228468e03fbf.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/091228468e03fbf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
