<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Jul 2026 00:35:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Jul 2026 00:35:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین میں طوفانی بارشوں کے بعد زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری، سپر طوفان کی آمد قریب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288472/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے تباہی کے بعد بدھ کو امدادی کارکن زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف رہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے اپنے تباہ شدہ گھروں کی صفائی شروع کر دی۔ ان طوفانوں کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہوئے، درجنوں دریا بپھر گئے اور ایک آبی ذخیرے کا بند ٹوٹ گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے جنوبی اور وسطی چین شدید موسمی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں رہا، جبکہ ایک سپر طوفان ہفتے کے اختتام پر ملک کے مشرقی صوبوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق جنوبی علاقے گوانگ شی میں مے ساک طوفان کے باعث ہونے والی موسلادھار بارشوں اور شدید سیلاب سے 6 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کم از کم ایک لاکھ 30 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری میڈیا کے مطابق تیز رفتار گدلے پانی نے علاقے کے 40 دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کے کنارے توڑ دیے، جس سے تقریباً 13 ہزار ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لیولان&lt;/strong&gt; گاؤں میں، جہاں آبی ذخیرے کا بند ٹوٹ گیا تھا، بدھ کو خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندوں کی آمد تک سیلابی پانی اتر چکا تھا، تاہم گلیاں اور مکانات اب بھی موٹی کیچڑ میں ڈوبے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹرز نے کئی گاڑیاں قریبی کھیتوں میں دیکھی جو سیلابی ریلے میں بہہ کر مٹی میں دھنس چکی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی رہائشی وو یوہاؤ نے کہا، ”قدرتی آفات کے سامنے ہم خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں، لیکن اب معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور فوج ہماری مدد کر رہے ہیں، جس سے ہمیں اتحاد اور اجتماعی قوت کا حقیقی احساس ہو رہا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبی ذخیرے کا پانی اب بھی تیز رفتاری سے دریا میں بہہ رہا تھا، جبکہ امدادی ٹیم نے دریا کے دوسری جانب پھنسے افراد تک خوراک اور ضروری سامان پہنچانے کے لیے بڑے ڈرون روانہ کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چینی حکام نے متاثرہ علاقوں میں خوراک، برساتی لباس، ربڑ کی کشتیاں اور دیگر امدادی سامان بھی روانہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی کی جاری کردہ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ آبی ذخیرے کے ٹوٹے ہوئے کنکریٹ کے بند کے ساتھ سیلابی ریلہ زور سے بہہ رہا ہے، جبکہ لائف جیکٹس پہنے امدادی کارکن پھلانے والی کشتیوں کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قریبی قصبوں اور دیہات کے رضاکار بھی سرکاری امدادی ٹیموں کے شانہ بشانہ امدادی سرگرمیوں میں شریک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رضاکار چِن چیو یو نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ”متاثرہ علاقوں میں آ کر دل بہت بوجھل ہو جاتا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ مقامات پر لوگ مسلسل مدد کے لیے پکار رہے ہیں اور انہیں ہماری فوری مدد درکار ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قریبی شہر ہینگ ژو کے ایک ریسٹورنٹ ملازم ہوانگ نے بتایا کہ ”کئی مکانات منہدم ہو گئے اور سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="شدید-آزمائش" href="#شدید-آزمائش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;شدید آزمائش&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;لیولان میں اے ایف پی کے نمائندوں نے دیکھا کہ متاثرین اپنے تباہ شدہ گھروں کی صفائی کے طویل عمل کا آغاز کر چکے ہیں، جبکہ بعض افراد کھدائی کرنے والی مشینوں کے ذریعے خراب شدہ گھریلو سامان ایک ہی بار میں باہر نکال رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی ٹی وی کے مطابق گوانگ شی میں تقریباً تین لاکھ 75 ہزار افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی سیلاب اور خشک سالی سے نمٹنے کے ہیڈکوارٹر کے مطابق گوانگ شی کے حکام نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی دوسری بلند ترین سطح برقرار رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ آبی وسائل لی گوئویِنگ نے کہا کہ گوانگ شی کے ووجو ہائیڈرولوجیکل اسٹیشن پر جمعرات کی صبح پانی کی سطح خطرے کے نشان سے چھ میٹر سے زیادہ بلند ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”مسلسل موسلادھار بارشوں اور طویل عرصے تک بلند سطح کے سیلابی پانی کے باعث متاثرہ علاقوں میں آبی ذخائر اور حفاظتی پشتوں کی سلامتی کو شدید آزمائش کا سامنا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وسطی صوبے ہوبے میں گرج چمک، شدید آندھیوں اور تیز ہواؤں کے باعث 11 افراد ہلاک اور 331 زخمی ہوئے، جبکہ پیر کی شب دیگر علاقوں میں گردباد بھی رپورٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شِنہوا کے مطابق ہوبے میں ایک شخص لاپتا ہے، 4 ہزار 800 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ مزید 22 مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سپر-طوفان-کی-آمد" href="#سپر-طوفان-کی-آمد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سپر طوفان کی آمد&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ادھر مشرقی صوبے سپر طوفان باوی کی آمد کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جس کے ہفتہ اور اتوار کے درمیان ژی جیانگ اور فوجیان کی سرحد کے قریب ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی ٹی وی نے قومی محکمہ موسمیات کے حوالے سے بتایا کہ طوفان تائیوان کے مشرقی سمندری علاقوں سے شمال کی جانب بڑھ کر براہِ راست ژی جیانگ کے ساحل سے بھی ٹکرا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باوی اس ہفتے کے آغاز میں امریکا کے بحرالکاہل میں واقع علاقوں سے گزرا، جہاں گوام اور شمالی ماریانا میں دسیوں ہزار افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں قدرتی آفات، خصوصاً گرمیوں کے موسم میں، معمول کی بات ہیں، جب بعض علاقوں میں شدید بارشیں ہوتی ہیں جبکہ دیگر حصے شدید گرمی کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ فوسل ایندھن کے استعمال سے کرۂ ارض کے مسلسل گرم ہونے کے باعث دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، شمال مغربی صوبے گانسو میں منگل کو ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 21 ہو گئی ہے، جبکہ تلاش اور امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے ہوبے میں بے گھر ہونے والے افراد کی آبادکاری کے لیے 7 کروڑ یوان (ایک کروڑ ڈالر) اور گانسو میں تعمیرِ نو کے لیے مزید 6 کروڑ یوان مختص کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے تباہی کے بعد بدھ کو امدادی کارکن زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف رہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے اپنے تباہ شدہ گھروں کی صفائی شروع کر دی۔ ان طوفانوں کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہوئے، درجنوں دریا بپھر گئے اور ایک آبی ذخیرے کا بند ٹوٹ گیا۔</strong></p>
<p>رواں ہفتے جنوبی اور وسطی چین شدید موسمی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں رہا، جبکہ ایک سپر طوفان ہفتے کے اختتام پر ملک کے مشرقی صوبوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق جنوبی علاقے گوانگ شی میں مے ساک طوفان کے باعث ہونے والی موسلادھار بارشوں اور شدید سیلاب سے 6 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کم از کم ایک لاکھ 30 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔</p>
<p>سرکاری میڈیا کے مطابق تیز رفتار گدلے پانی نے علاقے کے 40 دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کے کنارے توڑ دیے، جس سے تقریباً 13 ہزار ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی۔</p>
<p><strong>لیولان</strong> گاؤں میں، جہاں آبی ذخیرے کا بند ٹوٹ گیا تھا، بدھ کو خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندوں کی آمد تک سیلابی پانی اتر چکا تھا، تاہم گلیاں اور مکانات اب بھی موٹی کیچڑ میں ڈوبے ہوئے تھے۔</p>
<p>رپورٹرز نے کئی گاڑیاں قریبی کھیتوں میں دیکھی جو سیلابی ریلے میں بہہ کر مٹی میں دھنس چکی تھیں۔</p>
<p>مقامی رہائشی وو یوہاؤ نے کہا، ”قدرتی آفات کے سامنے ہم خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں، لیکن اب معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور فوج ہماری مدد کر رہے ہیں، جس سے ہمیں اتحاد اور اجتماعی قوت کا حقیقی احساس ہو رہا ہے۔“</p>
<p>آبی ذخیرے کا پانی اب بھی تیز رفتاری سے دریا میں بہہ رہا تھا، جبکہ امدادی ٹیم نے دریا کے دوسری جانب پھنسے افراد تک خوراک اور ضروری سامان پہنچانے کے لیے بڑے ڈرون روانہ کیے۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چینی حکام نے متاثرہ علاقوں میں خوراک، برساتی لباس، ربڑ کی کشتیاں اور دیگر امدادی سامان بھی روانہ کر دیا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی کی جاری کردہ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ آبی ذخیرے کے ٹوٹے ہوئے کنکریٹ کے بند کے ساتھ سیلابی ریلہ زور سے بہہ رہا ہے، جبکہ لائف جیکٹس پہنے امدادی کارکن پھلانے والی کشتیوں کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔</p>
<p>قریبی قصبوں اور دیہات کے رضاکار بھی سرکاری امدادی ٹیموں کے شانہ بشانہ امدادی سرگرمیوں میں شریک ہو گئے۔</p>
<p>رضاکار چِن چیو یو نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ”متاثرہ علاقوں میں آ کر دل بہت بوجھل ہو جاتا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ مقامات پر لوگ مسلسل مدد کے لیے پکار رہے ہیں اور انہیں ہماری فوری مدد درکار ہے۔“</p>
<p>قریبی شہر ہینگ ژو کے ایک ریسٹورنٹ ملازم ہوانگ نے بتایا کہ ”کئی مکانات منہدم ہو گئے اور سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔“</p>
<h3><a id="شدید-آزمائش" href="#شدید-آزمائش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>شدید آزمائش</strong></h3>
<p>لیولان میں اے ایف پی کے نمائندوں نے دیکھا کہ متاثرین اپنے تباہ شدہ گھروں کی صفائی کے طویل عمل کا آغاز کر چکے ہیں، جبکہ بعض افراد کھدائی کرنے والی مشینوں کے ذریعے خراب شدہ گھریلو سامان ایک ہی بار میں باہر نکال رہے تھے۔</p>
<p>سی سی ٹی وی کے مطابق گوانگ شی میں تقریباً تین لاکھ 75 ہزار افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p>ریاستی سیلاب اور خشک سالی سے نمٹنے کے ہیڈکوارٹر کے مطابق گوانگ شی کے حکام نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی دوسری بلند ترین سطح برقرار رکھی ہے۔</p>
<p>وزیرِ آبی وسائل لی گوئویِنگ نے کہا کہ گوانگ شی کے ووجو ہائیڈرولوجیکل اسٹیشن پر جمعرات کی صبح پانی کی سطح خطرے کے نشان سے چھ میٹر سے زیادہ بلند ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”مسلسل موسلادھار بارشوں اور طویل عرصے تک بلند سطح کے سیلابی پانی کے باعث متاثرہ علاقوں میں آبی ذخائر اور حفاظتی پشتوں کی سلامتی کو شدید آزمائش کا سامنا ہے۔“</p>
<p>دوسری جانب وسطی صوبے ہوبے میں گرج چمک، شدید آندھیوں اور تیز ہواؤں کے باعث 11 افراد ہلاک اور 331 زخمی ہوئے، جبکہ پیر کی شب دیگر علاقوں میں گردباد بھی رپورٹ ہوئے۔</p>
<p>شِنہوا کے مطابق ہوبے میں ایک شخص لاپتا ہے، 4 ہزار 800 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ مزید 22 مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔</p>
<h3><a id="سپر-طوفان-کی-آمد" href="#سپر-طوفان-کی-آمد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سپر طوفان کی آمد</strong></h3>
<p>ادھر مشرقی صوبے سپر طوفان باوی کی آمد کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جس کے ہفتہ اور اتوار کے درمیان ژی جیانگ اور فوجیان کی سرحد کے قریب ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔</p>
<p>سی سی ٹی وی نے قومی محکمہ موسمیات کے حوالے سے بتایا کہ طوفان تائیوان کے مشرقی سمندری علاقوں سے شمال کی جانب بڑھ کر براہِ راست ژی جیانگ کے ساحل سے بھی ٹکرا سکتا ہے۔</p>
<p>باوی اس ہفتے کے آغاز میں امریکا کے بحرالکاہل میں واقع علاقوں سے گزرا، جہاں گوام اور شمالی ماریانا میں دسیوں ہزار افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔</p>
<p>چین میں قدرتی آفات، خصوصاً گرمیوں کے موسم میں، معمول کی بات ہیں، جب بعض علاقوں میں شدید بارشیں ہوتی ہیں جبکہ دیگر حصے شدید گرمی کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔</p>
<p>تاہم سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ فوسل ایندھن کے استعمال سے کرۂ ارض کے مسلسل گرم ہونے کے باعث دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔</p>
<p>دریں اثنا، شمال مغربی صوبے گانسو میں منگل کو ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 21 ہو گئی ہے، جبکہ تلاش اور امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔</p>
<p>مقامی میڈیا کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>حکام نے ہوبے میں بے گھر ہونے والے افراد کی آبادکاری کے لیے 7 کروڑ یوان (ایک کروڑ ڈالر) اور گانسو میں تعمیرِ نو کے لیے مزید 6 کروڑ یوان مختص کیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288472</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 22:17:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/082207327d34348.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/082207327d34348.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
