<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 22:25:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Jul 2026 22:25:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف نے 2026 کی عالمی معاشی نمو کی پیش گوئی کم کر دی، مشرقِ وسطیٰ میں نئی جنگ کے خطرات سے خبردار کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288471/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بدھ کو 2026 کے لیے عالمی معاشی نمو کی پیش گوئی ایک بار پھر کم کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ بھڑکنے والی جنگ کے باعث عالمی اقتصادی منظرنامے کو غیر یقینی صورتحال اور خطرات لاحق ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق رواں سال عالمی معیشت کی شرح نمو 3 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو اپریل میں جاری کیے گئے 3.1 فیصد کے تخمینے سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ اکنامک آؤٹ لک کی تازہ رپورٹ میں یہ تخمینہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جھڑپوں سے قبل تیار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے شعبۂ تحقیق کی نائب ڈائریکٹر پیٹیا کویوا بروکس نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ”رات بھر ہونے والی پیش رفت نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی اقتصادی منظرنامہ غیر یقینی صورتحال اور خطرات سے گھرا ہوا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہم حالات پر انتہائی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، اور اس کے بعد کہا کہ امریکی افواج آئندہ شب ایران پر شدید حملے کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال یہ دوسرا موقع ہے جب فنڈ نے عالمی معاشی نمو کی مجموعی پیش گوئی کم کی ہے۔ یہ شرح 2025 کے مقابلے میں بھی سست روی کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال عالمی افراطِ زر بڑھ کر 4.7 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جو پہلے کے اندازوں سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹیا کویوا بروکس کے مطابق اگر جنگ کے حالات معمول پر آنا شروع ہوئے تو آئندہ نو ماہ کے دوران بتدریج بہتری آ سکتی ہے، تاہم اگر تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کی توقعات میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے عالمی معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت کا سہارا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال عالمی نمو میں کمی نسبتاً محدود رہی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت سے وابستہ طلب اور سرمایہ کاری نے جنگ کے منفی اثرات کو کسی حد تک متوازن کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو توقع ہے کہ 2027 میں عالمی معاشی نمو بڑھ کر 3.4 فیصد ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ کے شعبۂ تحقیق کی ڈویژن چیف ڈینیز ایگان نے اس بحالی کو ”وی شکل کی بحالی“ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ کے اثرات کے دیر سے ختم ہونے، طویل تعطل اور بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث رواں سال عالمی معیشت کو زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مختلف ممالک پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ کے مطابق تنازع سے باہر توانائی برآمد کرنے والے ممالک بلند قیمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی کی سپلائی چین سے وابستہ معیشتیں، خواہ وہ توانائی درآمد کرنے والی ہی کیوں نہ ہوں، نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس وہ توانائی درآمد کرنے والے ممالک جو ٹیکنالوجی ویلیو چین میں محدود کردار رکھتے ہیں، زیادہ معاشی سست روی کا شکار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 فروری سے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت تقریباً معطل کر دی، جس سے مشرقِ وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اہم آبی گزرگاہ میں نقل و حمل متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں، جس کا دباؤ مختلف معیشتوں پر پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکا اور ایران کے عارضی معاہدے کے بعد تیل اور گیس کی ترسیل بحال ہوئی، تاہم لڑائی دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واضح فرق&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہا کہ اگرچہ عالمی معیشت نے جنگ کے اثرات توقع سے بہتر انداز میں برداشت کیے ہیں، تاہم مختلف ممالک پر اس کے اثرات میں نمایاں فرق موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ شروع ہونے کے بعد ابھرتے ہوئے ایشیائی ممالک میں پیٹرول کی خوردہ قیمتوں میں 30 فیصد جبکہ لاطینی امریکا میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی معیشت کی شرح نمو رواں سال 2.3 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے لیے شرح نمو کا تخمینہ 1.2 فیصد پوائنٹس کم کر کے 0.7 فیصد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو زون کی معاشی نمو 0.9 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ فرانس کی شرح نمو 0.6 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو سابق اندازے سے 0.3 فیصد پوائنٹس کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کی شرح نمو کا تخمینہ معمولی اضافے کے ساتھ 4.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے تمام معاشی اثرات ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹریٹجک تیل کے ذخائر کے اجرا سے توانائی کی محدود ترسیل کے باوجود وقتی ریلیف ضرور ملا ہے، لیکن آگے چل کر مزید کمزوری کا خدشہ برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی تجارت کی تقسیم بھی تیز ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ کے مطابق عالمی ٹیکنالوجی سپلائی چین سے وابستہ بعض معیشتوں نے جنگ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باوجود توقع سے بہتر کارکردگی دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت سے متعلق ہارڈویئر برآمد کرنے والے چار بڑے ممالک، تائیوان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور ملائیشیا، نے مضبوط معاشی نمو برقرار رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈینیز ایگان کے مطابق رواں سال مہنگائی میں اضافے کی توقع مہنگائی میں کمی کے طویل رجحان میں صرف ایک وقفہ ہے، اس رجحان کا خاتمہ نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بدھ کو 2026 کے لیے عالمی معاشی نمو کی پیش گوئی ایک بار پھر کم کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ بھڑکنے والی جنگ کے باعث عالمی اقتصادی منظرنامے کو غیر یقینی صورتحال اور خطرات لاحق ہیں۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق رواں سال عالمی معیشت کی شرح نمو 3 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو اپریل میں جاری کیے گئے 3.1 فیصد کے تخمینے سے کم ہے۔</p>
<p>ورلڈ اکنامک آؤٹ لک کی تازہ رپورٹ میں یہ تخمینہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جھڑپوں سے قبل تیار کیا گیا تھا۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے شعبۂ تحقیق کی نائب ڈائریکٹر پیٹیا کویوا بروکس نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ”رات بھر ہونے والی پیش رفت نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی اقتصادی منظرنامہ غیر یقینی صورتحال اور خطرات سے گھرا ہوا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہم حالات پر انتہائی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔“</p>
<p>ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، اور اس کے بعد کہا کہ امریکی افواج آئندہ شب ایران پر شدید حملے کریں گی۔</p>
<p>رواں سال یہ دوسرا موقع ہے جب فنڈ نے عالمی معاشی نمو کی مجموعی پیش گوئی کم کی ہے۔ یہ شرح 2025 کے مقابلے میں بھی سست روی کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>رواں سال عالمی افراطِ زر بڑھ کر 4.7 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جو پہلے کے اندازوں سے زیادہ ہے۔</p>
<p>پیٹیا کویوا بروکس کے مطابق اگر جنگ کے حالات معمول پر آنا شروع ہوئے تو آئندہ نو ماہ کے دوران بتدریج بہتری آ سکتی ہے، تاہم اگر تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کی توقعات میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے عالمی معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>مصنوعی ذہانت کا سہارا</strong></p>
<p>فی الحال عالمی نمو میں کمی نسبتاً محدود رہی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت سے وابستہ طلب اور سرمایہ کاری نے جنگ کے منفی اثرات کو کسی حد تک متوازن کر دیا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو توقع ہے کہ 2027 میں عالمی معاشی نمو بڑھ کر 3.4 فیصد ہو جائے گی۔</p>
<p>فنڈ کے شعبۂ تحقیق کی ڈویژن چیف ڈینیز ایگان نے اس بحالی کو ”وی شکل کی بحالی“ قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ کے اثرات کے دیر سے ختم ہونے، طویل تعطل اور بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث رواں سال عالمی معیشت کو زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>تاہم مختلف ممالک پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوں گے۔</p>
<p>فنڈ کے مطابق تنازع سے باہر توانائی برآمد کرنے والے ممالک بلند قیمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی کی سپلائی چین سے وابستہ معیشتیں، خواہ وہ توانائی درآمد کرنے والی ہی کیوں نہ ہوں، نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس وہ توانائی درآمد کرنے والے ممالک جو ٹیکنالوجی ویلیو چین میں محدود کردار رکھتے ہیں، زیادہ معاشی سست روی کا شکار ہوں گے۔</p>
<p>28 فروری سے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت تقریباً معطل کر دی، جس سے مشرقِ وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔</p>
<p>اس اہم آبی گزرگاہ میں نقل و حمل متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں، جس کا دباؤ مختلف معیشتوں پر پڑا۔</p>
<p>اگرچہ امریکا اور ایران کے عارضی معاہدے کے بعد تیل اور گیس کی ترسیل بحال ہوئی، تاہم لڑائی دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔</p>
<p><strong>واضح فرق</strong></p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہا کہ اگرچہ عالمی معیشت نے جنگ کے اثرات توقع سے بہتر انداز میں برداشت کیے ہیں، تاہم مختلف ممالک پر اس کے اثرات میں نمایاں فرق موجود ہے۔</p>
<p>جنگ شروع ہونے کے بعد ابھرتے ہوئے ایشیائی ممالک میں پیٹرول کی خوردہ قیمتوں میں 30 فیصد جبکہ لاطینی امریکا میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>امریکی معیشت کی شرح نمو رواں سال 2.3 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے لیے شرح نمو کا تخمینہ 1.2 فیصد پوائنٹس کم کر کے 0.7 فیصد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>یورو زون کی معاشی نمو 0.9 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ فرانس کی شرح نمو 0.6 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو سابق اندازے سے 0.3 فیصد پوائنٹس کم ہے۔</p>
<p>دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کی شرح نمو کا تخمینہ معمولی اضافے کے ساتھ 4.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>تاہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے تمام معاشی اثرات ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئے۔</p>
<p>اسٹریٹجک تیل کے ذخائر کے اجرا سے توانائی کی محدود ترسیل کے باوجود وقتی ریلیف ضرور ملا ہے، لیکن آگے چل کر مزید کمزوری کا خدشہ برقرار ہے۔</p>
<p>عالمی تجارت کی تقسیم بھی تیز ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>فنڈ کے مطابق عالمی ٹیکنالوجی سپلائی چین سے وابستہ بعض معیشتوں نے جنگ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باوجود توقع سے بہتر کارکردگی دکھائی۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت سے متعلق ہارڈویئر برآمد کرنے والے چار بڑے ممالک، تائیوان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور ملائیشیا، نے مضبوط معاشی نمو برقرار رکھی۔</p>
<p>ڈینیز ایگان کے مطابق رواں سال مہنگائی میں اضافے کی توقع مہنگائی میں کمی کے طویل رجحان میں صرف ایک وقفہ ہے، اس رجحان کا خاتمہ نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288471</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 21:02:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/082023018038e44.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/082023018038e44.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
