<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 19:28:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Jul 2026 19:28:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کی امریکہ میں مقیم پاکستانی تاجروں کو وطن عزیز میں سرمایہ کاری کی دعوت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288467/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے  پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیات، جن میں 20 صنعت کار، ٹیکنالوجسٹ اور فنانسر شامل تھے اور ان میں سے ایک تہائی سے زیادہ سابق فارچیون 500 ایگزیکٹوز تھے، کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے انہیں اپنا سرمایہ، نیٹ ورک اور مہارت پاکستان لانے کی دعوت دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعلامیے کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں قومی سلامتی، سفارت کاری اور میکرو اکنامک استحکام کے حالیہ حاصلات کو اب پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنا ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے وطن سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں اور خاص طور پر پاکستانی نژاد امریکی برادری نے ٹیکنالوجی اور فنانس سے لے کر صحت، توانائی اور تعلیم کے شعبوں تک ہر میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں کی جانے والی مشکل لیکن ضروری اصلاحات کے بعد ملک میں میکرو اکنامک استحکام بحال، افراطِ زر میں کمی اور پالیسی ریٹ نیچے آئے ہیں اور پاکستان نے دنیا کی بہترین معاشی واپسی کی کہانیوں میں سے ایک کے طور پر بین الاقوامی سطح پر اعتراف حاصل کیا ہے۔ بصیرت موجود ہے اور معیشت کو دوبارہ استوار کر دیا گیا ہے، اب ہمیں آپ کے سرمائے، نیٹ ورک اور مہارت کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی امن کے فروغ میں پاکستان کے مثبت کردار نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور تجارت و بین الاقوامی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، لہٰذا بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اپنے پیشہ ورانہ اور سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو میں پاکستان کو شامل کرنے کا یہ بالکل صحیح وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کے بیشتر ارکان پہلے ہی پاکستان میں مختلف سرمایہ کاری اور فلاحی کاموں سے منسلک ہیں اور اس نشست کا مقصد حکومت کے  ” اُڑان پاکستان“ معاشی ایجنڈے کے تحت اس جاری تعلقات کو ایک باضابطہ شراکت داری میں تبدیل کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے اس سیشن کے دوران ”اُڑان پاکستان“ کے تحت 2035 تک معیشت کو 1 ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کا خاکہ پیش کیا، جو 5 ای ایس فریم ورک (برآمدات، ای-پاکستان، ماحول و موسمیاتی تبدیلی، توانائی و بنیادی ڈھانچہ، اور مساوات و بااختیار بنانا) پر مبنی ہے۔ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، مینوفیکچرنگ، سیاحت، کان کنی و معدنیات، بلیو اکانومی، ہنرمند افرادی قوت اور تخلیقی صنعتوں کو ترجیحی برآمدی شعبوں کے طور پر نامزد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے تارکینِ وطن کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اعتماد کا اظہار کیا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی فعال شرکت سے پاکستان اپنے معاشی اہداف حاصل کر کے ایک عالمی سطح پر مسابقتی، علم پر مبنی معیشت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو، الینوائے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف شکاگو اور وسیع تر پاک-امریکہ نالج راہداری کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے پاکستانی نژاد امریکی تعلیمی و تحقیقی برادری کے ساتھ گہرے تعلقات کے ذریعے پاکستان کی نالج اکانومی کو مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کی مصنوعات، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی تیاری اور تکنیکی تبدیلی کی حمایت کے لیے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے جاری کام کو بھی اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے  پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیات، جن میں 20 صنعت کار، ٹیکنالوجسٹ اور فنانسر شامل تھے اور ان میں سے ایک تہائی سے زیادہ سابق فارچیون 500 ایگزیکٹوز تھے، کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے انہیں اپنا سرمایہ، نیٹ ورک اور مہارت پاکستان لانے کی دعوت دی۔</strong></p>
<p>سرکاری اعلامیے کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں قومی سلامتی، سفارت کاری اور میکرو اکنامک استحکام کے حالیہ حاصلات کو اب پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنا ہو گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے وطن سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں اور خاص طور پر پاکستانی نژاد امریکی برادری نے ٹیکنالوجی اور فنانس سے لے کر صحت، توانائی اور تعلیم کے شعبوں تک ہر میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں کی جانے والی مشکل لیکن ضروری اصلاحات کے بعد ملک میں میکرو اکنامک استحکام بحال، افراطِ زر میں کمی اور پالیسی ریٹ نیچے آئے ہیں اور پاکستان نے دنیا کی بہترین معاشی واپسی کی کہانیوں میں سے ایک کے طور پر بین الاقوامی سطح پر اعتراف حاصل کیا ہے۔ بصیرت موجود ہے اور معیشت کو دوبارہ استوار کر دیا گیا ہے، اب ہمیں آپ کے سرمائے، نیٹ ورک اور مہارت کی ضرورت ہے۔</p>
<p>احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی امن کے فروغ میں پاکستان کے مثبت کردار نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور تجارت و بین الاقوامی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، لہٰذا بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اپنے پیشہ ورانہ اور سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو میں پاکستان کو شامل کرنے کا یہ بالکل صحیح وقت ہے۔</p>
<p>وفد کے بیشتر ارکان پہلے ہی پاکستان میں مختلف سرمایہ کاری اور فلاحی کاموں سے منسلک ہیں اور اس نشست کا مقصد حکومت کے  ” اُڑان پاکستان“ معاشی ایجنڈے کے تحت اس جاری تعلقات کو ایک باضابطہ شراکت داری میں تبدیل کرنا تھا۔</p>
<p>احسن اقبال نے اس سیشن کے دوران ”اُڑان پاکستان“ کے تحت 2035 تک معیشت کو 1 ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کا خاکہ پیش کیا، جو 5 ای ایس فریم ورک (برآمدات، ای-پاکستان، ماحول و موسمیاتی تبدیلی، توانائی و بنیادی ڈھانچہ، اور مساوات و بااختیار بنانا) پر مبنی ہے۔ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، مینوفیکچرنگ، سیاحت، کان کنی و معدنیات، بلیو اکانومی، ہنرمند افرادی قوت اور تخلیقی صنعتوں کو ترجیحی برآمدی شعبوں کے طور پر نامزد کیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے تارکینِ وطن کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اعتماد کا اظہار کیا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی فعال شرکت سے پاکستان اپنے معاشی اہداف حاصل کر کے ایک عالمی سطح پر مسابقتی، علم پر مبنی معیشت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو، الینوائے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف شکاگو اور وسیع تر پاک-امریکہ نالج راہداری کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے پاکستانی نژاد امریکی تعلیمی و تحقیقی برادری کے ساتھ گہرے تعلقات کے ذریعے پاکستان کی نالج اکانومی کو مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ بھی کیا۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کی مصنوعات، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی تیاری اور تکنیکی تبدیلی کی حمایت کے لیے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے جاری کام کو بھی اجاگر کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288467</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 17:23:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/081716065d1dc16.webp" type="image/webp" medium="image" height="900" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/081716065d1dc16.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
