<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 16:16:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Jul 2026 16:16:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میپکو کی شاندار کارکردگی: 36 ارب روپے کے نقصان کے بعد 1.05 ارب روپے کا منافع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288445/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے مالی سال 2024-25 میں 36 ارب روپے کے نقصان کے بعد 2025-26 میں 1.05 ارب روپے کا منافع کمایا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ توانائی کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی اور چیلنجنگ بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں سے ایک کی اس بحالی اور تبدیلی کا سہرا وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت کو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے مزید کہا کہ یہ بہتری کسی ایک وقتی اصلاح کا نتیجہ نہیں بلکہ بتدریج اور مستقل بنیادوں پر حاصل ہونے والی کامیابی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی عرصے کے دوران لائن لاسز 15.2 فیصد سے کم ہو کر 11.9 فیصد رہ گئے جبکہ ریکوری کی شرح 98.6 فیصد سے بڑھ کر 100.8 فیصد تک پہنچ گئی جو مؤثر بلنگ، بجلی چوری میں کمی اور صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ کامیابی جامع اور سوچے سمجھے اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اصلاحات میں روزمرہ کی مداخلت سے آزاد خودمختار بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری، وزارت کی جانب سے مسلسل پالیسی رہنمائی اور کارکردگی کی نگرانی، بجلی کے تقسیمی نظام کی آٹومیشن اور میٹرائزیشن، نیز صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی پر خصوصی توجہ شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حکمتِ عملی ڈسکوز میں وقتی اور غیر منظم مداخلت کے بجائے ادارہ جاتی ڈھانچے اور بہتر طرزِ حکمرانی پر مبنی اصلاحات کی جانب ایک اہم تبدیلی کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ میپکو کی کامیابی کوئی استثنا نہیں بلکہ ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے، اور خودمختار طرزِ حکمرانی، شفافیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے اسی ماڈل کو گردشی قرضے کے خاتمے اور بجلی کے شعبے کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کے تحت دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں تک بھی توسیع دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میپکو پاکستان کی دس بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں سے ایک ہے جو وزارتِ توانائی  کی انتظامی نگرانی میں کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمپنی جنوبی پنجاب کے 13 اضلاع میں خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے امور کمپنیز ایکٹ 2017 اور پبلک سیکٹر کمپنیز (کارپوریٹ گورننس) رولز 2013 کے تحت چلائے جاتے ہیں جس کے لیے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو حکومتِ پاکستان نامزد کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے مالی سال 2024-25 میں 36 ارب روپے کے نقصان کے بعد 2025-26 میں 1.05 ارب روپے کا منافع کمایا۔</strong></p>
<p>وزارتِ توانائی کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی اور چیلنجنگ بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں سے ایک کی اس بحالی اور تبدیلی کا سہرا وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت کو جاتا ہے۔</p>
<p>وزارت نے مزید کہا کہ یہ بہتری کسی ایک وقتی اصلاح کا نتیجہ نہیں بلکہ بتدریج اور مستقل بنیادوں پر حاصل ہونے والی کامیابی ہے۔</p>
<p>اسی عرصے کے دوران لائن لاسز 15.2 فیصد سے کم ہو کر 11.9 فیصد رہ گئے جبکہ ریکوری کی شرح 98.6 فیصد سے بڑھ کر 100.8 فیصد تک پہنچ گئی جو مؤثر بلنگ، بجلی چوری میں کمی اور صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ کامیابی جامع اور سوچے سمجھے اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔</p>
<p>ان اصلاحات میں روزمرہ کی مداخلت سے آزاد خودمختار بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری، وزارت کی جانب سے مسلسل پالیسی رہنمائی اور کارکردگی کی نگرانی، بجلی کے تقسیمی نظام کی آٹومیشن اور میٹرائزیشن، نیز صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی پر خصوصی توجہ شامل تھی۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حکمتِ عملی ڈسکوز میں وقتی اور غیر منظم مداخلت کے بجائے ادارہ جاتی ڈھانچے اور بہتر طرزِ حکمرانی پر مبنی اصلاحات کی جانب ایک اہم تبدیلی کی عکاس ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ میپکو کی کامیابی کوئی استثنا نہیں بلکہ ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے، اور خودمختار طرزِ حکمرانی، شفافیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے اسی ماڈل کو گردشی قرضے کے خاتمے اور بجلی کے شعبے کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کے تحت دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں تک بھی توسیع دی جا رہی ہے۔</p>
<p>میپکو پاکستان کی دس بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں سے ایک ہے جو وزارتِ توانائی  کی انتظامی نگرانی میں کام کرتی ہے۔</p>
<p>یہ کمپنی جنوبی پنجاب کے 13 اضلاع میں خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے امور کمپنیز ایکٹ 2017 اور پبلک سیکٹر کمپنیز (کارپوریٹ گورننس) رولز 2013 کے تحت چلائے جاتے ہیں جس کے لیے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو حکومتِ پاکستان نامزد کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288445</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 11:29:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/081123359b973f2.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="400">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/081123359b973f2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
