<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 17:15:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Jul 2026 17:15:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریلوے اراضی کی واگزاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288412/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے پاکستان ریلویز کے نیٹ ورک پر تجاوزات کے حوالے سے جامع رپورٹ طلب کر کے اچھا اقدام کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کمیٹی کے غور و خوض میں حالیہ حادثات، تنظیم نو کا منصوبہ اور مین لائن-1 (ایم ایل ون) منصوبے پر پیش رفت بھی شامل تھی لیکن ریلوے کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کا معاملہ مستقل توجہ کا متقاضی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک اس دیرینہ مسئلے کو سنجیدگی اور مستقل مزاجی سے حل نہیں کیا جاتا، ریلوے کو جدید بنانے اور بحال کرنے کی کوششیں محدود رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں ریلوے کی 12,400 ایکڑ سے زائد زمین پر قبضہ کیا جا چکا ہے جس میں سب سے بڑا حصہ پنجاب اور سندھ کا ہے۔ اس مسئلے کی شدت محض انتظامی کوتاہیوں کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ یہ دہائیوں پر محیط کمزور نفاذ، ادارہ جاتی غفلت اور کئی معاملات میں سیاسی سرپرستی کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نقصان بہت زیادہ ہے کیونکہ ریلوے کی زمین اس ادارے کے سب سے قیمتی اثاثوں میں سے ایک ہے جس کا زیادہ تر حصہ تجارتی لحاظ سے اہم شہری مراکز میں واقع ہے۔ اس کے مضمرات عوامی جائیداد کے نقصان سے کہیں زیادہ ہیں کیونکہ تجاوزات بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں اور پیچیدہ صورتحال پیدا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیکھ بھال میں مشکلات پیدا کرتی ہیں، حفاظتی خطرات کا باعث بنتی ہیں اور ریل سروسز کی توسیع کو محدود کرتی ہیں۔ یہ تجاوزات پاکستان ریلویز کو غیر کرایہ آمدنی  کے ایک اہم ذریعہ سے بھی محروم کرتی ہیں، ایسے وقت میں جب ادارہ حکومتی امداد پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ریلوے کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے ان کی زمینوں کا تجارتی استعمال کسی بھی قابلِ عمل اصلاحاتی حکمت عملی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، بشمول ایم ایل ون پروجیکٹ اور پپری سے کراچی تک مجوزہ فریٹ کوریڈور کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ان منصوبوں کے لیے راستوں کا محفوظ ہونا اور ریلوے کی املاک کا مؤثر تحفظ لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجاوز شدہ زمین کو بازیاب کرانے میں تاخیر لامحالہ اخراجات میں اضافے اور عمل درآمد کو پیچیدہ بناتی ہے۔ لہذا زمین کے انتظام کو محض ایک ضمنی انتظامی معاملہ سمجھنے کے بجائے ریلوے اصلاحات کا ایک لازمی جزو سمجھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان ریلویز نے اپنی زمین کی تمام حدود کی جیو ریفرنسنگ مکمل کر لی ہے اور انہیں ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس میں ضم کر دیا ہے جو ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح کے تکنیکی اقدامات شفافیت کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور نئی تجاوزات کی بروقت نشاندہی میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل ٹولز صرف حکومتی کارکردگی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، اس کا متبادل نہیں بن سکتے۔ ان کی کامیابی کا انحصار بروقت قانونی کارروائی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور تمام غیر قانونی قابضین کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرنے کے سیاسی عزم پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی نفاذِ قانون کا عمل قانونی اور منصفانہ بھی ہونا چاہیے۔ اگرچہ ریلوے کی زمین پر قابض کمزور خاندانوں کی بحالی کی ضرورت ہوسکتی ہے لیکن منظم لینڈ مافیا یا بااثر مفادات کو عوامی اثاثوں پر قابض رہنے دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے پارلیمانی کمیٹی کی ہدایات کو محض ایک معمول کی رپورٹنگ کا مشق نہیں، بلکہ ایک مستقل بازیابی کی کوششوں کا نقطہ آغاز ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریلوے کی زمین کا تحفظ دراصل عوامی اثاثوں کی حفاظت، ادارہ جاتی ساکھ کو مضبوط کرنے اور ایک جدید، موثر اور تجارتی لحاظ سے پائیدار ریلوے نظام کے لیے درکار جگہ پیدا کرنے کے بارے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک ریاست ان اسٹریٹجک اثاثوں کو بازیاب کرانے اور ان کا تحفظ کرنے کا عزم ظاہر نہیں کرتی، ریلوے کی اصلاحات کا وسیع تر ایجنڈا پورا کرنا مشکل رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے پاکستان ریلویز کے نیٹ ورک پر تجاوزات کے حوالے سے جامع رپورٹ طلب کر کے اچھا اقدام کیا ہے۔</strong></p>
<p>اگرچہ کمیٹی کے غور و خوض میں حالیہ حادثات، تنظیم نو کا منصوبہ اور مین لائن-1 (ایم ایل ون) منصوبے پر پیش رفت بھی شامل تھی لیکن ریلوے کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کا معاملہ مستقل توجہ کا متقاضی ہے۔</p>
<p>جب تک اس دیرینہ مسئلے کو سنجیدگی اور مستقل مزاجی سے حل نہیں کیا جاتا، ریلوے کو جدید بنانے اور بحال کرنے کی کوششیں محدود رہیں گی۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں ریلوے کی 12,400 ایکڑ سے زائد زمین پر قبضہ کیا جا چکا ہے جس میں سب سے بڑا حصہ پنجاب اور سندھ کا ہے۔ اس مسئلے کی شدت محض انتظامی کوتاہیوں کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ یہ دہائیوں پر محیط کمزور نفاذ، ادارہ جاتی غفلت اور کئی معاملات میں سیاسی سرپرستی کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>یہ نقصان بہت زیادہ ہے کیونکہ ریلوے کی زمین اس ادارے کے سب سے قیمتی اثاثوں میں سے ایک ہے جس کا زیادہ تر حصہ تجارتی لحاظ سے اہم شہری مراکز میں واقع ہے۔ اس کے مضمرات عوامی جائیداد کے نقصان سے کہیں زیادہ ہیں کیونکہ تجاوزات بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں اور پیچیدہ صورتحال پیدا کرتی ہیں۔</p>
<p>دیکھ بھال میں مشکلات پیدا کرتی ہیں، حفاظتی خطرات کا باعث بنتی ہیں اور ریل سروسز کی توسیع کو محدود کرتی ہیں۔ یہ تجاوزات پاکستان ریلویز کو غیر کرایہ آمدنی  کے ایک اہم ذریعہ سے بھی محروم کرتی ہیں، ایسے وقت میں جب ادارہ حکومتی امداد پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ریلوے کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے ان کی زمینوں کا تجارتی استعمال کسی بھی قابلِ عمل اصلاحاتی حکمت عملی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>یہ مسئلہ اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، بشمول ایم ایل ون پروجیکٹ اور پپری سے کراچی تک مجوزہ فریٹ کوریڈور کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ان منصوبوں کے لیے راستوں کا محفوظ ہونا اور ریلوے کی املاک کا مؤثر تحفظ لازمی ہے۔</p>
<p>تجاوز شدہ زمین کو بازیاب کرانے میں تاخیر لامحالہ اخراجات میں اضافے اور عمل درآمد کو پیچیدہ بناتی ہے۔ لہذا زمین کے انتظام کو محض ایک ضمنی انتظامی معاملہ سمجھنے کے بجائے ریلوے اصلاحات کا ایک لازمی جزو سمجھا جانا چاہیے۔</p>
<p>یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان ریلویز نے اپنی زمین کی تمام حدود کی جیو ریفرنسنگ مکمل کر لی ہے اور انہیں ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس میں ضم کر دیا ہے جو ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>اس طرح کے تکنیکی اقدامات شفافیت کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور نئی تجاوزات کی بروقت نشاندہی میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل ٹولز صرف حکومتی کارکردگی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، اس کا متبادل نہیں بن سکتے۔ ان کی کامیابی کا انحصار بروقت قانونی کارروائی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور تمام غیر قانونی قابضین کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرنے کے سیاسی عزم پر ہوگا۔</p>
<p>ساتھ ہی نفاذِ قانون کا عمل قانونی اور منصفانہ بھی ہونا چاہیے۔ اگرچہ ریلوے کی زمین پر قابض کمزور خاندانوں کی بحالی کی ضرورت ہوسکتی ہے لیکن منظم لینڈ مافیا یا بااثر مفادات کو عوامی اثاثوں پر قابض رہنے دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔</p>
<p>اس لیے پارلیمانی کمیٹی کی ہدایات کو محض ایک معمول کی رپورٹنگ کا مشق نہیں، بلکہ ایک مستقل بازیابی کی کوششوں کا نقطہ آغاز ہونا چاہیے۔</p>
<p>ریلوے کی زمین کا تحفظ دراصل عوامی اثاثوں کی حفاظت، ادارہ جاتی ساکھ کو مضبوط کرنے اور ایک جدید، موثر اور تجارتی لحاظ سے پائیدار ریلوے نظام کے لیے درکار جگہ پیدا کرنے کے بارے میں ہے۔</p>
<p>جب تک ریاست ان اسٹریٹجک اثاثوں کو بازیاب کرانے اور ان کا تحفظ کرنے کا عزم ظاہر نہیں کرتی، ریلوے کی اصلاحات کا وسیع تر ایجنڈا پورا کرنا مشکل رہے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288412</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 14:17:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/07134552809e3b9.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/07134552809e3b9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
