<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 14:06:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Jul 2026 14:06:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سینیٹ کمیٹی نے تیل و گیس کمپنیوں کے 16 سالہ منافع کی تفصیلات طلب کر لیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288393/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو روز کے اندر گزشتہ 16 برس کے دوران تیل اور گیس کمپنیوں کے حاصل کردہ منافع کی مکمل تفصیلات پیش کرے، جبکہ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے اربوں روپے کے فوائد کے اصل مستحقین سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہدایت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں جاری کی گئی، جس کی صدارت سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کی۔ اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا، جو تیل اور گیس کے قدرتی وسائل میں صوبوں کی ملکیت اور شراکت داری کی ضمانت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ تیل و گیس کمپنیوں کے منافع شیئر ہولڈرز میں تقسیم کیے جاتے رہے ہیں، تاہم یہ وضاحت کمیٹی کے ارکان کو مطمئن نہ کر سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ 2009 سے اب تک حاصل ہونے والے منافع کی جامع رپورٹ پیش کی جائے، جس میں نہ صرف منافع کی مجموعی مالیت بلکہ اس کی تقسیم اور استعمال کی مکمل تفصیلات بھی شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں حکام نے بتایا کہ صوبائی چیف سیکریٹریز کو خطوط لکھے جا چکے ہیں، جن میں آئین کے مطابق سرکاری توانائی کمپنیوں کے بورڈز میں صوبائی نمائندگی اور صوبوں کی شیئر ہولڈنگ سے متعلق یاددہانی کرائی گئی ہے، جبکہ اس حوالے سے صوبوں سے مشاورت کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے سوال اٹھایا کہ برسوں تک اس آئینی تقاضے پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبائی نمائندوں کی نامزدگی کا اختیار صرف صوبائی حکومتوں کو حاصل ہے، وفاق کو اس میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے وفاقی حکومت میں تقریباً 2 لاکھ 75 ہزار منظور شدہ مگر خالی آسامیوں کا معاملہ بھی زیر غور لایا۔ ارکان نے کہا کہ بجٹ میں فنڈز مختص ہونے کے باوجود ان آسامیوں کو پر نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 38(جی) کے تحت شہریوں کے روزگار کے حق کے منافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی کوٹے کے تحت سندھ میں کم از کم 83 ہزار جبکہ بلوچستان میں تقریباً 27 ہزار وفاقی آسامیاں خالی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ صوبائی کوٹے سے متعلق سابقہ نوٹیفکیشنز کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، اس مسئلے کے حل کے لیے خصوصی سیل قائم کیا جائے اور ایک ہفتے کے اندر تمام متعلقہ دستاویزات اور اصلاحی اقدامات کا ٹائم لائن پیش کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو گریڈ 1 سے 16 تک کی آسامیوں پر بھرتیوں کا شیڈول، گریڈ 16 اور 17 کی بھرتیوں کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن  کے ذریعے بھرتی منصوبہ، اور گریڈ 18 سے 22 تک کے افسران کے ترقیاتی بورڈز کے اجلاسوں کا شیڈول بھی پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باوجود ہزاروں سرکاری آسامیاں خالی رکھنا کسی صورت قابل جواز نہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ہر سال بڑی تعداد میں نوجوان اعلیٰ تعلیم مکمل کرکے روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو روز کے اندر گزشتہ 16 برس کے دوران تیل اور گیس کمپنیوں کے حاصل کردہ منافع کی مکمل تفصیلات پیش کرے، جبکہ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے اربوں روپے کے فوائد کے اصل مستحقین سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے۔</strong></p>
<p>یہ ہدایت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں جاری کی گئی، جس کی صدارت سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کی۔ اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا، جو تیل اور گیس کے قدرتی وسائل میں صوبوں کی ملکیت اور شراکت داری کی ضمانت دیتا ہے۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ تیل و گیس کمپنیوں کے منافع شیئر ہولڈرز میں تقسیم کیے جاتے رہے ہیں، تاہم یہ وضاحت کمیٹی کے ارکان کو مطمئن نہ کر سکی۔</p>
<p>سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ 2009 سے اب تک حاصل ہونے والے منافع کی جامع رپورٹ پیش کی جائے، جس میں نہ صرف منافع کی مجموعی مالیت بلکہ اس کی تقسیم اور استعمال کی مکمل تفصیلات بھی شامل ہوں۔</p>
<p>اجلاس میں حکام نے بتایا کہ صوبائی چیف سیکریٹریز کو خطوط لکھے جا چکے ہیں، جن میں آئین کے مطابق سرکاری توانائی کمپنیوں کے بورڈز میں صوبائی نمائندگی اور صوبوں کی شیئر ہولڈنگ سے متعلق یاددہانی کرائی گئی ہے، جبکہ اس حوالے سے صوبوں سے مشاورت کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔</p>
<p>سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے سوال اٹھایا کہ برسوں تک اس آئینی تقاضے پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبائی نمائندوں کی نامزدگی کا اختیار صرف صوبائی حکومتوں کو حاصل ہے، وفاق کو اس میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے وفاقی حکومت میں تقریباً 2 لاکھ 75 ہزار منظور شدہ مگر خالی آسامیوں کا معاملہ بھی زیر غور لایا۔ ارکان نے کہا کہ بجٹ میں فنڈز مختص ہونے کے باوجود ان آسامیوں کو پر نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 38(جی) کے تحت شہریوں کے روزگار کے حق کے منافی ہے۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی کوٹے کے تحت سندھ میں کم از کم 83 ہزار جبکہ بلوچستان میں تقریباً 27 ہزار وفاقی آسامیاں خالی ہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ صوبائی کوٹے سے متعلق سابقہ نوٹیفکیشنز کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، اس مسئلے کے حل کے لیے خصوصی سیل قائم کیا جائے اور ایک ہفتے کے اندر تمام متعلقہ دستاویزات اور اصلاحی اقدامات کا ٹائم لائن پیش کیا جائے۔</p>
<p>مزید برآں، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو گریڈ 1 سے 16 تک کی آسامیوں پر بھرتیوں کا شیڈول، گریڈ 16 اور 17 کی بھرتیوں کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن  کے ذریعے بھرتی منصوبہ، اور گریڈ 18 سے 22 تک کے افسران کے ترقیاتی بورڈز کے اجلاسوں کا شیڈول بھی پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔</p>
<p>سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باوجود ہزاروں سرکاری آسامیاں خالی رکھنا کسی صورت قابل جواز نہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ہر سال بڑی تعداد میں نوجوان اعلیٰ تعلیم مکمل کرکے روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں آ رہے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288393</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 09:37:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/07093507f0405bb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/07093507f0405bb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
