<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 01:16:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Jul 2026 01:16:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان کو خواتین سمیت ہر فرد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت، اقوام متحدہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288384/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے پیر کے روز کہا ہے کہ افغانستان کو درپیش سنگین انسانی بحران اور لاکھوں افغانوں کی وطن واپسی جیسے بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خواتین اور مرد دونوں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنا ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا، ”تمام افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ناگزیر ہے، اور اس میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی صلاحیتیں بھی شامل ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بات شمالی افغانستان کے ضلع نہرِ شاہی میں قالین بافی کے ایک مرکز کے دورے کے دوران کہی، جہاں حال ہی میں وطن واپس آنے والی خواتین کو روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2023 سے اب تک 60 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان اور ایران سے واپس افغانستان جانے پر مجبور ہو چکے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک نے اپنی امیگریشن پالیسیوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ سے تباہ حال افغانستان میں اتنی بڑی تعداد میں واپس آنے والے افراد کی آبادکاری، روزگار، رہائش اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی کرو نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں تک مناسب رسائی فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان حکومت نے خواتین پر متعدد پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن کے تحت انہیں پرائمری سے آگے تعلیم حاصل کرنے، بعض شعبوں میں ملازمت کرنے اور پارکوں میں جانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2025 سے طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کے دفاتر میں خواتین کے کام کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی، جس کی عالمی ادارے نے بارہا مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کے دورے پر موجود اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین برہام صالح نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ”یہ یقیناً افغانستان کے عوام تک ہماری خدمات کی فراہمی کی صلاحیت پر ایک بڑی پابندی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برہام صالح آئندہ چند روز میں کابل میں طالبان حکام سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ انہیں اقوام متحدہ کی خواتین ملازمین پر عائد پابندی ختم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”افغانستان مدد کا مستحق ہے، لیکن اس کے لیے تعاون اور اشتراک ناگزیر ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، ”ہمیں اس معاشرے کی تمام صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ مرد، خواتین، لڑکے اور لڑکیاں سب اپنے ملک کے مستقبل کی تعمیر میں کردار ادا کر سکیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ خواتین اور لڑکیوں کے بغیر افغانستان کی ترقی ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں جاری ہونے والی یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین کی تعلیم اور روزگار پر عائد پابندیوں کے باعث افغانستان کو ہر سال کم از کم 8 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے پیر کے روز کہا ہے کہ افغانستان کو درپیش سنگین انسانی بحران اور لاکھوں افغانوں کی وطن واپسی جیسے بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خواتین اور مرد دونوں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنا ہوگا۔</strong></p>
<p>اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا، ”تمام افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ناگزیر ہے، اور اس میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی صلاحیتیں بھی شامل ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے یہ بات شمالی افغانستان کے ضلع نہرِ شاہی میں قالین بافی کے ایک مرکز کے دورے کے دوران کہی، جہاں حال ہی میں وطن واپس آنے والی خواتین کو روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ستمبر 2023 سے اب تک 60 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان اور ایران سے واپس افغانستان جانے پر مجبور ہو چکے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک نے اپنی امیگریشن پالیسیوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔</p>
<p>جنگ سے تباہ حال افغانستان میں اتنی بڑی تعداد میں واپس آنے والے افراد کی آبادکاری، روزگار، رہائش اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔</p>
<p>ڈی کرو نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں تک مناسب رسائی فراہم کریں۔</p>
<p>طالبان حکومت نے خواتین پر متعدد پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن کے تحت انہیں پرائمری سے آگے تعلیم حاصل کرنے، بعض شعبوں میں ملازمت کرنے اور پارکوں میں جانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔</p>
<p>ستمبر 2025 سے طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کے دفاتر میں خواتین کے کام کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی، جس کی عالمی ادارے نے بارہا مذمت کی ہے۔</p>
<p>افغانستان کے دورے پر موجود اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین برہام صالح نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ”یہ یقیناً افغانستان کے عوام تک ہماری خدمات کی فراہمی کی صلاحیت پر ایک بڑی پابندی ہے۔“</p>
<p>برہام صالح آئندہ چند روز میں کابل میں طالبان حکام سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ انہیں اقوام متحدہ کی خواتین ملازمین پر عائد پابندی ختم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”افغانستان مدد کا مستحق ہے، لیکن اس کے لیے تعاون اور اشتراک ناگزیر ہے۔“</p>
<p>ان کے بقول، ”ہمیں اس معاشرے کی تمام صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ مرد، خواتین، لڑکے اور لڑکیاں سب اپنے ملک کے مستقبل کی تعمیر میں کردار ادا کر سکیں۔“</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ خواتین اور لڑکیوں کے بغیر افغانستان کی ترقی ممکن نہیں۔</p>
<p>اپریل میں جاری ہونے والی یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین کی تعلیم اور روزگار پر عائد پابندیوں کے باعث افغانستان کو ہر سال کم از کم 8 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288384</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 22:28:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/062219319f96e5e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/062219319f96e5e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
