<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 23:22:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Jul 2026 23:22:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اعلیٰ فوجی قیادت کا انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ، ہائبرڈ خطرات سے خبردار کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288382/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت نے اتوار کو دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر حملے کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ عزم راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت ہونے والی 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں ظاہر کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اجلاس کے بعد جاری بیان میں یہ تفصیلات بتائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے شرکا نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہری شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ان کی قربانیوں کو پاکستان کی سلامتی، اتحاد اور استحکام کی بنیاد قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورم نے ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں اور جنگی صلاحیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق، فوجی قیادت نے اس امر پر شدید تشویش ظاہر کی کہ افغان طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں کو بھارت کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد گروہوں، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان شامل ہیں، پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورم نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار اس امر پر ہے کہ افغان سرزمین کو دہشت گرد پراکسی گروہوں کے استعمال سے روکا جائے، اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آپریشن غضب للحق کے تحت انٹیلی جنس کی بنیاد پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ کور کمانڈرز نے شورش زدہ علاقوں میں حکومتی نظم و نسق کو مزید مؤثر بنانے، عوامی خدمات کی فراہمی بہتر کرنے اور دہشت گردی و منظم جرائم کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانفرنس نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کی جامع کامیابی کے بعد دشمن عناصر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ہائبرڈ جنگ اور گمراہ کن اطلاعاتی مہم کا سہارا زیادہ لینے لگے ہیں۔ فورم نے دہشت گرد پراکسی گروہوں کی ہر قسم کی ریاستی سرپرستی، مالی معاونت اور سہولت کاری کی مذمت کرتے ہوئے ایسے تمام اقدامات کا بھرپور مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے فورم نے کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا، جبکہ تنازعات کے پرامن حل، بین الاقوامی قانون اور علاقائی تعاون سے پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں سندھ طاس معاہدے پر بھی غور کیا گیا۔ کور کمانڈرز نے 24 اپریل 2025 کو قومی سلامتی کمیٹی کے اختیار کردہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے حکومت کی ہدایات کے مطابق پاکستان کے حصے کے پانی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورم نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی۔ اجلاس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے لیے پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے اختتامی کلمات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کے پیش نظر مسلح افواج کے کثیرالجہتی تبدیلی کے منصوبے پر عمل درآمد تیز کیا جائے۔ انہوں نے روایتی، غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے اعلیٰ ترین سطح کی چوکسی، آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت نے اتوار کو دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر حملے کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ عزم راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت ہونے والی 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں ظاہر کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اجلاس کے بعد جاری بیان میں یہ تفصیلات بتائیں۔</p>
<p>اجلاس کے شرکا نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہری شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ان کی قربانیوں کو پاکستان کی سلامتی، اتحاد اور استحکام کی بنیاد قرار دیا۔</p>
<p>فورم نے ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں اور جنگی صلاحیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق، فوجی قیادت نے اس امر پر شدید تشویش ظاہر کی کہ افغان طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں کو بھارت کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد گروہوں، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان شامل ہیں، پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>فورم نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار اس امر پر ہے کہ افغان سرزمین کو دہشت گرد پراکسی گروہوں کے استعمال سے روکا جائے، اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آپریشن غضب للحق کے تحت انٹیلی جنس کی بنیاد پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔</p>
<p>فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ کور کمانڈرز نے شورش زدہ علاقوں میں حکومتی نظم و نسق کو مزید مؤثر بنانے، عوامی خدمات کی فراہمی بہتر کرنے اور دہشت گردی و منظم جرائم کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔</p>
<p>کانفرنس نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کی جامع کامیابی کے بعد دشمن عناصر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ہائبرڈ جنگ اور گمراہ کن اطلاعاتی مہم کا سہارا زیادہ لینے لگے ہیں۔ فورم نے دہشت گرد پراکسی گروہوں کی ہر قسم کی ریاستی سرپرستی، مالی معاونت اور سہولت کاری کی مذمت کرتے ہوئے ایسے تمام اقدامات کا بھرپور مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p>علاقائی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے فورم نے کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا، جبکہ تنازعات کے پرامن حل، بین الاقوامی قانون اور علاقائی تعاون سے پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔</p>
<p>اجلاس میں سندھ طاس معاہدے پر بھی غور کیا گیا۔ کور کمانڈرز نے 24 اپریل 2025 کو قومی سلامتی کمیٹی کے اختیار کردہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے حکومت کی ہدایات کے مطابق پاکستان کے حصے کے پانی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p>فورم نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی۔ اجلاس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے لیے پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔</p>
<p>اپنے اختتامی کلمات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کے پیش نظر مسلح افواج کے کثیرالجہتی تبدیلی کے منصوبے پر عمل درآمد تیز کیا جائے۔ انہوں نے روایتی، غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے اعلیٰ ترین سطح کی چوکسی، آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288382</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 21:11:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/06210214112de1e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/06210214112de1e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
