<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 22:23:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Jul 2026 22:23:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حماس نے غزہ کا انتظامی ڈھانچہ تحلیل کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288379/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فلسطینی تحریک حماس نے پیر کو غزہ کی تقریباً دو دہائیوں سے قائم انتظامیہ کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد ایک ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے لیے شہری انتظام سنبھالنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام حماس کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔ حماس 2007 سے غزہ پر حکمرانی کر رہی تھی، جب اس نے ایک سال قبل قانون ساز انتخابات میں کامیابی کے بعد حریف فلسطینی جماعت فتح سے غزہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے حماس متعدد بار کہہ چکی ہے کہ وہ روزمرہ حکومتی امور سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے ہتھیاروں سے دستبرداری کا حساس معاملہ اب بھی حل طلب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے حکومتی میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے اے ایف پی کو بتایا، ”ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا نے باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ”انہوں نے غزہ کے انتظام کی قومی کمیٹی (این سی اے جی) کو انتظامی اور حکومتی اختیارات کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایمرجنسی کمیٹی کو تحلیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این سی اے جی، جس کا صدر دفتر اس وقت قاہرہ میں ہے، بورڈ آف پیس نے تشکیل دی تھی۔ یہ بورڈ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر 2025 میں غزہ میں جنگ بندی کرانے کے بعد قائم کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ”حماس نے ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے غزہ کی حکمرانی سے دستبرداری اختیار کر لی ہے تاکہ قابض قوت کو مزید جارحیت اور نسل کشی کی جنگ جاری رکھنے کا کوئی جواز نہ مل سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہم امید کرتے ہیں کہ غزہ کے انتظام کی قومی کمیٹی جلد از جلد اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی، اور حماس اس کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے تمام حکومتی اختیارات اس کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے ایک عہدیدار نے اس سے قبل اے ایف پی کو بتایا تھا کہ تنظیم نے حال ہی میں قاہرہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران اپنے فیصلے سے دیگر فلسطینی دھڑوں کو بھی آگاہ کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کے مطابق، ”دیگر فلسطینی دھڑوں نے حماس کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قومی کمیٹی کو انتظامی اختیارات منتقل کرنے کی جانب ایک سنجیدہ پیش رفت قرار دیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="محض-علامتی-اقدام" href="#محض-علامتی-اقدام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;محض علامتی اقدام؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;حماس کی 15 رکنی انتظامی کمیٹی کی تحلیل سے فلسطینی ٹیکنوکریٹ علی شعث کی سربراہی میں قائم این سی اے جی کے لیے غزہ میں انتظامی امور سنبھالنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم این سی اے جی گزشتہ کئی ماہ سے قاہرہ ہی میں موجود ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے جنگ سے تباہ حال غزہ میں، جہاں تقریباً 21 لاکھ افراد آباد ہیں، اس کے داخلے کی مخالفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار مخیمر ابو سعدہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ حماس کا یہ اقدام اب بھی ”محض ایک علامتی قدم“ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”اصل مسئلہ انتظامی کمیٹی کی تحلیل نہیں بلکہ حماس کا ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہونا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، ”حماس اب بھی غیر مسلح ہونے پر رضامند نہیں، اور یہی سب سے بڑا اختلافی نکتہ ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے ثالثوں کی موجودگی میں قاہرہ میں کئی ادوار کے مذاکرات کیے ہیں تاکہ اختلافات، خصوصاً جنگ بندی کے دوسرے مرحلے اور حماس کے غیر مسلح ہونے کے معاملے پر، کم کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات میں شریک ایک سفارتی ذریعے نے پیر کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”حماس کے نقطۂ نظر سے یہ اقدام کئی مقاصد پورے کرتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حماس عمل کو آگے بڑھا رہی ہے، جبکہ توجہ اسرائیل کی جانب مبذول ہوتی ہے، جس پر حماس اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے کا الزام لگاتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس نے اپنے پاس موجود آخری اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا، جس کے بدلے اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو آزادی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے مرحلے میں حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی افواج کے بتدریج غزہ سے انخلا کا منصوبہ شامل تھا، تاہم یہ عمل کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، حالیہ مہینوں میں اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنی موجودگی مزید بڑھا لی ہے اور اب وہ تقریباً 70 فیصد علاقے پر قابض ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر حماس کا مؤقف ہے کہ جب تک غزہ میں فلسطینی انتظامیہ قائم نہیں ہو جاتی، وہ اپنے اسلحے کا کوئی حصہ بھی حوالے نہیں کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے بعد غزہ کے انتظام کا معاملہ بھی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد میں سب سے بڑے اختلافی نکات میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل ایک طرف حماس کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کو مسترد کرتا ہے، تو دوسری جانب اس مرحلے پر رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے براہِ راست کنٹرول کو بھی قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس اور اسرائیل دونوں ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک غزہ میں 1,072 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ بھی وزارت کے اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد قرار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران غزہ میں اس کے پانچ فوجی اور ایک سویلین کنٹریکٹر ہلاک ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فلسطینی تحریک حماس نے پیر کو غزہ کی تقریباً دو دہائیوں سے قائم انتظامیہ کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد ایک ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے لیے شہری انتظام سنبھالنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔</strong></p>
<p>یہ اقدام حماس کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔ حماس 2007 سے غزہ پر حکمرانی کر رہی تھی، جب اس نے ایک سال قبل قانون ساز انتخابات میں کامیابی کے بعد حریف فلسطینی جماعت فتح سے غزہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ سال اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے حماس متعدد بار کہہ چکی ہے کہ وہ روزمرہ حکومتی امور سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے ہتھیاروں سے دستبرداری کا حساس معاملہ اب بھی حل طلب ہے۔</p>
<p>حماس کے حکومتی میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے اے ایف پی کو بتایا، ”ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا نے باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ”انہوں نے غزہ کے انتظام کی قومی کمیٹی (این سی اے جی) کو انتظامی اور حکومتی اختیارات کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایمرجنسی کمیٹی کو تحلیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔“</p>
<p>این سی اے جی، جس کا صدر دفتر اس وقت قاہرہ میں ہے، بورڈ آف پیس نے تشکیل دی تھی۔ یہ بورڈ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر 2025 میں غزہ میں جنگ بندی کرانے کے بعد قائم کیا تھا۔</p>
<p>حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ”حماس نے ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے غزہ کی حکمرانی سے دستبرداری اختیار کر لی ہے تاکہ قابض قوت کو مزید جارحیت اور نسل کشی کی جنگ جاری رکھنے کا کوئی جواز نہ مل سکے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہم امید کرتے ہیں کہ غزہ کے انتظام کی قومی کمیٹی جلد از جلد اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی، اور حماس اس کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے تمام حکومتی اختیارات اس کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔“</p>
<p>حماس کے ایک عہدیدار نے اس سے قبل اے ایف پی کو بتایا تھا کہ تنظیم نے حال ہی میں قاہرہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران اپنے فیصلے سے دیگر فلسطینی دھڑوں کو بھی آگاہ کر دیا تھا۔</p>
<p>عہدیدار کے مطابق، ”دیگر فلسطینی دھڑوں نے حماس کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قومی کمیٹی کو انتظامی اختیارات منتقل کرنے کی جانب ایک سنجیدہ پیش رفت قرار دیا۔“</p>
<h3><a id="محض-علامتی-اقدام" href="#محض-علامتی-اقدام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>محض علامتی اقدام؟</h3>
<p>حماس کی 15 رکنی انتظامی کمیٹی کی تحلیل سے فلسطینی ٹیکنوکریٹ علی شعث کی سربراہی میں قائم این سی اے جی کے لیے غزہ میں انتظامی امور سنبھالنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔</p>
<p>تاہم این سی اے جی گزشتہ کئی ماہ سے قاہرہ ہی میں موجود ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے جنگ سے تباہ حال غزہ میں، جہاں تقریباً 21 لاکھ افراد آباد ہیں، اس کے داخلے کی مخالفت کی ہے۔</p>
<p>غزہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار مخیمر ابو سعدہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ حماس کا یہ اقدام اب بھی ”محض ایک علامتی قدم“ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”اصل مسئلہ انتظامی کمیٹی کی تحلیل نہیں بلکہ حماس کا ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہونا ہے۔“</p>
<p>ان کے بقول، ”حماس اب بھی غیر مسلح ہونے پر رضامند نہیں، اور یہی سب سے بڑا اختلافی نکتہ ہے۔“</p>
<p>حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے ثالثوں کی موجودگی میں قاہرہ میں کئی ادوار کے مذاکرات کیے ہیں تاکہ اختلافات، خصوصاً جنگ بندی کے دوسرے مرحلے اور حماس کے غیر مسلح ہونے کے معاملے پر، کم کیے جا سکیں۔</p>
<p>مذاکرات میں شریک ایک سفارتی ذریعے نے پیر کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”حماس کے نقطۂ نظر سے یہ اقدام کئی مقاصد پورے کرتا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا، ”اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حماس عمل کو آگے بڑھا رہی ہے، جبکہ توجہ اسرائیل کی جانب مبذول ہوتی ہے، جس پر حماس اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے کا الزام لگاتی ہے۔“</p>
<p>جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس نے اپنے پاس موجود آخری اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا، جس کے بدلے اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو آزادی دی۔</p>
<p>دوسرے مرحلے میں حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی افواج کے بتدریج غزہ سے انخلا کا منصوبہ شامل تھا، تاہم یہ عمل کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس، حالیہ مہینوں میں اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنی موجودگی مزید بڑھا لی ہے اور اب وہ تقریباً 70 فیصد علاقے پر قابض ہے۔</p>
<p>ادھر حماس کا مؤقف ہے کہ جب تک غزہ میں فلسطینی انتظامیہ قائم نہیں ہو جاتی، وہ اپنے اسلحے کا کوئی حصہ بھی حوالے نہیں کرے گی۔</p>
<p>جنگ کے بعد غزہ کے انتظام کا معاملہ بھی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد میں سب سے بڑے اختلافی نکات میں شامل ہے۔</p>
<p>اسرائیل ایک طرف حماس کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کو مسترد کرتا ہے، تو دوسری جانب اس مرحلے پر رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے براہِ راست کنٹرول کو بھی قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔</p>
<p>حماس اور اسرائیل دونوں ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔</p>
<p>غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک غزہ میں 1,072 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ بھی وزارت کے اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد قرار دیتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران غزہ میں اس کے پانچ فوجی اور ایک سویلین کنٹریکٹر ہلاک ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288379</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 19:29:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/061917022e1ec90.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/061917022e1ec90.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
