<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 19:10:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Jul 2026 19:10:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیجی بندرگاہوں پر تاخیر، شپنگ رکاوٹیں اور بڑھتے لاجسٹکس اخراجات سے برآمدات کو دھچکا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288370/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن پاکستان (ایس ایم اے پی) کے بانی چیئرمین اسماعیل ستار نے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک میں شپنگ اور کسٹمز آپریشنز میں جاری رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل تاخیر، بڑھتے ہوئے لاجسٹکس اخراجات اور بندرگاہوں پر سامان کی غیر ضروری رکاوٹ پاکستانی برآمدات کی عالمی مسابقت کو متاثر کر رہی ہے جبکہ علاقائی تجارتی سرگرمیاں بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں اسماعیل ستار نے کہا کہ خطے بھر کے برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو مسلسل بڑھتے ہوئے مسائل کا سامنا ہے، اگرچہ سامان مقررہ شیڈول کے مطابق اپنی منزل تک پہنچ جاتا ہے تاہم دبئی سمیت جی سی سی کی اہم بندرگاہوں پر کسٹمز کلیئرنس میں غیر معمولی تاخیر معمول بنتی جا رہی ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کو اب صرف فریٹ ریٹس میں اضافے کا ہی سامنا نہیں بلکہ سامان بندرگاہوں پر پہنچنے کے بعد کسٹمز کارروائی میں تاخیر کے باعث اسٹوریج، ڈیٹینشن اور دیگر انتظامی اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال سے درآمدی اشیاء کی مجموعی لاگت بڑھ رہی ہے اور پوری سپلائی چین غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل ستار نے کہا کہ اگرچہ شپنگ کمپنیاں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے مطابق اپنے آپریشنز کو بتدریج معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہیں تاہم مجموعی لاجسٹکس نظام اب بھی غیر مستحکم ہے۔ برآمد کنندگان اپنی کھیپ معاہدے کے مطابق روانہ کررہے ہیں لیکن منزل پر پہنچنے کے بعد پیدا ہونے والی رکاوٹیں سامان کی بروقت ترسیل میں تاخیر کا باعث بن رہی ہیں جس سے برآمد کنندگان، درآمد کنندگان، فریٹ فارورڈرز، شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز اور کسٹمز حکام سب متاثر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد عالمی کنٹینر شپنگ کمپنیاں مارسک، ایم ایس سی اور سی ایم اے سی جی ایم تاحال آبنائے ہرمز کے ذریعے اپنے روایتی شپنگ روٹس مکمل طور پر بحال نہیں کر سکیں جس کے باعث ٹرانزٹ ٹائم میں نمایاں اضافہ، شیڈول کی غیر یقینی صورتحال اور آپریشنل اخراجات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل ستار نے کہا کہ موجودہ شپنگ اور لاجسٹکس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے برآمدی شعبوں میں نمک کی صنعت سرفہرست ہے کیونکہ نمک ایک کم قیمت مگر بھاری مقدار میں برآمد ہونے والی مصنوعات میں شامل ہے جس کی برآمدی لاگت کا بڑا انحصار فریٹ ریٹس پر ہوتا ہے۔ نمک کی قیمت نسبتاً انتہائی کم ہے جبکہ فریٹ چارجز کئی گنا بڑھ کر خود نمک کی مالیت سے بھی تجاوز کر چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب سامان کی ترسیل کی لاگت ہی مصنوعات کی قیمت سے زیادہ ہو جائے تو پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے موجودہ شپنگ اور لاجسٹکس بحران کے نتیجے میں نمک ان برآمدی مصنوعات میں شامل ہو چکا ہے جو سب سے زیادہ مالی نقصان اور کاروباری دباؤ کا شکار ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ علاقائی کشیدگی سے قبل جبل علی تک سامان کی ترسیل عموماً دو سے تین روز میں مکمل ہو جاتی تھی، تاہم اب یہی دورانیہ بڑھ کر 15 سے 20 روز تک پہنچ چکا ہے جس سے برآمد کنندگان کے مالی وسائل پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ہنگامی فریٹ سرچارجز، جنگی خطرات کے باعث اضافی پریمئیم، انشورنس اخراجات میں اضافہ، بندرگاہوں پر رش اور طویل اسٹوریج چارجز نے کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جس کا سب سے زیادہ اثر مینوفیکچررز اور ان برآمد کنندگان پر پڑ رہا ہے جو محدود پیداواری اور ترسیلی شیڈول پر کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل ستار نے خبردار کیا کہ یہ مسلسل رکاوٹیں انوینٹری مینجمنٹ کو پیچیدہ بنا رہی ہیں، سرمایہ کی گردش کا دورانیہ بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ضروری پیشگی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اس کے اثرات صرف برآمدی شعبے تک محدود نہیں بلکہ مینوفیکچرنگ، ہول سیل، ریٹیل ڈسٹری بیوشن اور صارفین تک اشیاء کی بروقت فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شپنگ کمپنیوں، فریٹ فارورڈرز، کسٹمز حکام، ٹرمینل آپریٹرز اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دیں، سپلائی چین کی شفافیت بہتر بنائیں، کسٹمز طریقہ کار کو مزید مؤثر اور تیز کریں اور جی سی سی کی بندرگاہوں پر غیر ضروری تاخیر کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ لاجسٹکس اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور علاقائی تجارت کا تسلسل بحال رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن پاکستان (ایس ایم اے پی) کے بانی چیئرمین اسماعیل ستار نے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک میں شپنگ اور کسٹمز آپریشنز میں جاری رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل تاخیر، بڑھتے ہوئے لاجسٹکس اخراجات اور بندرگاہوں پر سامان کی غیر ضروری رکاوٹ پاکستانی برآمدات کی عالمی مسابقت کو متاثر کر رہی ہے جبکہ علاقائی تجارتی سرگرمیاں بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔</strong></p>
<p>ایک بیان میں اسماعیل ستار نے کہا کہ خطے بھر کے برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو مسلسل بڑھتے ہوئے مسائل کا سامنا ہے، اگرچہ سامان مقررہ شیڈول کے مطابق اپنی منزل تک پہنچ جاتا ہے تاہم دبئی سمیت جی سی سی کی اہم بندرگاہوں پر کسٹمز کلیئرنس میں غیر معمولی تاخیر معمول بنتی جا رہی ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کو اب صرف فریٹ ریٹس میں اضافے کا ہی سامنا نہیں بلکہ سامان بندرگاہوں پر پہنچنے کے بعد کسٹمز کارروائی میں تاخیر کے باعث اسٹوریج، ڈیٹینشن اور دیگر انتظامی اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال سے درآمدی اشیاء کی مجموعی لاگت بڑھ رہی ہے اور پوری سپلائی چین غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہو چکی ہے۔</p>
<p>اسماعیل ستار نے کہا کہ اگرچہ شپنگ کمپنیاں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے مطابق اپنے آپریشنز کو بتدریج معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہیں تاہم مجموعی لاجسٹکس نظام اب بھی غیر مستحکم ہے۔ برآمد کنندگان اپنی کھیپ معاہدے کے مطابق روانہ کررہے ہیں لیکن منزل پر پہنچنے کے بعد پیدا ہونے والی رکاوٹیں سامان کی بروقت ترسیل میں تاخیر کا باعث بن رہی ہیں جس سے برآمد کنندگان، درآمد کنندگان، فریٹ فارورڈرز، شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز اور کسٹمز حکام سب متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد عالمی کنٹینر شپنگ کمپنیاں مارسک، ایم ایس سی اور سی ایم اے سی جی ایم تاحال آبنائے ہرمز کے ذریعے اپنے روایتی شپنگ روٹس مکمل طور پر بحال نہیں کر سکیں جس کے باعث ٹرانزٹ ٹائم میں نمایاں اضافہ، شیڈول کی غیر یقینی صورتحال اور آپریشنل اخراجات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔</p>
<p>اسماعیل ستار نے کہا کہ موجودہ شپنگ اور لاجسٹکس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے برآمدی شعبوں میں نمک کی صنعت سرفہرست ہے کیونکہ نمک ایک کم قیمت مگر بھاری مقدار میں برآمد ہونے والی مصنوعات میں شامل ہے جس کی برآمدی لاگت کا بڑا انحصار فریٹ ریٹس پر ہوتا ہے۔ نمک کی قیمت نسبتاً انتہائی کم ہے جبکہ فریٹ چارجز کئی گنا بڑھ کر خود نمک کی مالیت سے بھی تجاوز کر چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب سامان کی ترسیل کی لاگت ہی مصنوعات کی قیمت سے زیادہ ہو جائے تو پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے موجودہ شپنگ اور لاجسٹکس بحران کے نتیجے میں نمک ان برآمدی مصنوعات میں شامل ہو چکا ہے جو سب سے زیادہ مالی نقصان اور کاروباری دباؤ کا شکار ہوئی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ علاقائی کشیدگی سے قبل جبل علی تک سامان کی ترسیل عموماً دو سے تین روز میں مکمل ہو جاتی تھی، تاہم اب یہی دورانیہ بڑھ کر 15 سے 20 روز تک پہنچ چکا ہے جس سے برآمد کنندگان کے مالی وسائل پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ہنگامی فریٹ سرچارجز، جنگی خطرات کے باعث اضافی پریمئیم، انشورنس اخراجات میں اضافہ، بندرگاہوں پر رش اور طویل اسٹوریج چارجز نے کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جس کا سب سے زیادہ اثر مینوفیکچررز اور ان برآمد کنندگان پر پڑ رہا ہے جو محدود پیداواری اور ترسیلی شیڈول پر کام کرتے ہیں۔</p>
<p>اسماعیل ستار نے خبردار کیا کہ یہ مسلسل رکاوٹیں انوینٹری مینجمنٹ کو پیچیدہ بنا رہی ہیں، سرمایہ کی گردش کا دورانیہ بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ضروری پیشگی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اس کے اثرات صرف برآمدی شعبے تک محدود نہیں بلکہ مینوفیکچرنگ، ہول سیل، ریٹیل ڈسٹری بیوشن اور صارفین تک اشیاء کی بروقت فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے شپنگ کمپنیوں، فریٹ فارورڈرز، کسٹمز حکام، ٹرمینل آپریٹرز اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دیں، سپلائی چین کی شفافیت بہتر بنائیں، کسٹمز طریقہ کار کو مزید مؤثر اور تیز کریں اور جی سی سی کی بندرگاہوں پر غیر ضروری تاخیر کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ لاجسٹکس اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور علاقائی تجارت کا تسلسل بحال رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288370</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 15:21:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/061440345e06e2c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/061440345e06e2c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
