<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 19:10:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Jul 2026 19:10:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہفتہ رفتہ : کپاس کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد تیزی کا رجحان دوبارہ غالب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288367/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شدید گرمی، بارشوں کی کمی اور پانی کی قلت کے باعث کپاس کی سپلائی متاثر ہونے سے مقامی روئی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان لوٹ آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے اسپاٹ ریٹ 300 روپے بڑھا کر 17,800 روپے فی من مقرر کر دیا۔ سندھ میں کپاس کی کوالٹی متاثر ہوئی ہے جبکہ پنجاب کی فصل بہتر ہے۔دوسری جانب جون میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات گزشتہ سال کے 1.52 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.28 ارب ڈالر رہ گئیں، تاہم پورے مالیاتی سال کی برآمدات معمولی اضافے کے ساتھ 17.97 ارب ڈالر رہیں۔ انڈسٹری نے بجلی کے اضافی ٹیرف پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو ٹیکسٹائل شعبے کو سالانہ 55 ارب روپے کا نقصان پہنچا رہا ہے۔ مزید برآں کپاس کے علاقوں میں شوگر ملوں کے قیام اور گنے کی کاشت پر اسٹیک ہولڈرز نے تشویش ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں نومبر تک 10 لاکھ ٹن زائد چینی پیدا ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026ء&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شدید گرمی، بارشوں کی کمی اور پانی کی قلت کے باعث کپاس کی سپلائی متاثر ہونے سے مقامی روئی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان لوٹ آیا ہے۔</strong></p>
<p>کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے اسپاٹ ریٹ 300 روپے بڑھا کر 17,800 روپے فی من مقرر کر دیا۔ سندھ میں کپاس کی کوالٹی متاثر ہوئی ہے جبکہ پنجاب کی فصل بہتر ہے۔دوسری جانب جون میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات گزشتہ سال کے 1.52 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.28 ارب ڈالر رہ گئیں، تاہم پورے مالیاتی سال کی برآمدات معمولی اضافے کے ساتھ 17.97 ارب ڈالر رہیں۔ انڈسٹری نے بجلی کے اضافی ٹیرف پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو ٹیکسٹائل شعبے کو سالانہ 55 ارب روپے کا نقصان پہنچا رہا ہے۔ مزید برآں کپاس کے علاقوں میں شوگر ملوں کے قیام اور گنے کی کاشت پر اسٹیک ہولڈرز نے تشویش ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں نومبر تک 10 لاکھ ٹن زائد چینی پیدا ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026ء</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288367</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 14:16:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نسیم عثمان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/06140915967284f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/06140915967284f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
