<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 15:11:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Jul 2026 15:11:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، ایک لاکھ 87 ہزار کی بلند سطح بحال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288355/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار ہے جس کی بدولت 100 انڈیکس 1900 سے زائد پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 87 ہزار کی بلند سطح پر بحال ہوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر ایک بجکر 8 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 1,940.71 پوائنٹس یا 1.05 فیصد اضافے سے 187,312.91 پوائنٹس پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنری شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ انڈیکس میں زیادہ وزن رکھنے والے حصص، جن میں اٹک ریفائنری، حب پاور، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان آئل فیلڈز ، پاکستان اسٹیٹ آئل ، ایم سی بی بینک ، میزان بینک اور نیشنل بینک بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار رہا جہاں 100 انڈیکس میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس مثبت رجحان کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نرمی اور ملک کے حوصلہ افزا معاشی اشاریے رہے جنہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 100 انڈیکس 5,800.93 پوائنٹس یا 3.2 فیصد اضافے سے 185,372.20 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی حصص بازاروں میں زیادہ تر مثبت رجحان دیکھا گیا جبکہ وال اسٹریٹ فیوچرز بھی آئندہ بہتر مالی نتائج کی توقع پر اضافے کے ساتھ ہفتے کا آغاز کرنے میں کامیاب رہے۔ دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں نرمی نے مہنگائی کے دباؤ میں کمی کی امیدوں کو بھی تقویت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ امن مذاکرات میں کوئی نئی پیش رفت سامنے نہیں آئی، تاہم گزشتہ ہفتے پیر سے ہفتہ تک آبنائے ہرمز سے 160 بحری جہازوں کی آمد و رفت رپورٹ ہوئی جس سے عالمی توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات میں کچھ کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اوپیک پلس نے بھی اگست سے یومیہ 1 لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی تیل پیدا کرنے کے ہدف کی منظوری دے دی جو جون اور جولائی میں کیے گئے اسی نوعیت کے اضافوں کے علاوہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں برینٹ کروڈ کی قیمت 0.6 فیصد گر کر تقریباً چار ماہ کی کم ترین سطح 71.70 ڈالر فی بیرل پر آ گئی اور امریکی خام تیل کی قیمت بھی 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 68.38 ڈالر پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی قیمتوں میں کمی اور امریکہ میں روزگار کے اعدادوشمار توقعات سے کمزور آنے کے بعد مالیاتی منڈیوں نے قلیل مدت میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے خدشات کم کردیے ہیں۔ فیوچر مارکیٹ کے مطابق 29 جولائی کے اجلاس میں شرحِ سود برقرار رہنے کا امکان 78 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فیڈرل ریزرو کے گزشتہ اجلاس کی کارروائی بدھ کو جاری کی جائے گی جس سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ بورڈ کے بعض اراکین نے سخت گیر مؤقف کیوں اختیار کیا تھا، تاہم یہ اجلاس عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ نمایاں کمی سے پہلے منعقد ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ شرحِ سود میں اضافے کے خدشات کم ہونے سے سرمایہ کاروں کی توجہ اب آئندہ مالیاتی نتائج پر مرکوز ہونے کا امکان ہے جہاں اے آئی کی تیزی کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کے غیر معمولی منافع کی توقع کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے ڈیلٹا ایئر لائنز اور پیپسی کو اپنے مالی نتائج جاری کریں گی تاہم سب سے زیادہ توجہ سام سنگ الیکٹرانکس کے منگل کو متوقع نتائج پر مرکوز ہے جہاں تجزیہ کار کمپنی کے منافع میں 18 گنا اضافے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ جو رواں سال اب تک 92 فیصد بڑھ چکی ہے، گزشتہ ہفتے کچھ ٹھنڈی ضرور پڑی، تاہم مصنوعی ذہانت سے متعلق مضبوط طلب اور چپس کی محدود رسد کے باعث چپس کی قیمتوں میں اضافے نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ پیر کو بھی جنوبی کوریا کا مرکزی انڈیکس 2.25 فیصد مزید بڑھ گیا جبکہ جاپان کا نکیئی انڈیکس 0.1 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار ہے جس کی بدولت 100 انڈیکس 1900 سے زائد پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 87 ہزار کی بلند سطح پر بحال ہوگیا۔</strong></p>
<p>دوپہر ایک بجکر 8 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 1,940.71 پوائنٹس یا 1.05 فیصد اضافے سے 187,312.91 پوائنٹس پر جاپہنچا۔</p>
<p>آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنری شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ انڈیکس میں زیادہ وزن رکھنے والے حصص، جن میں اٹک ریفائنری، حب پاور، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان آئل فیلڈز ، پاکستان اسٹیٹ آئل ، ایم سی بی بینک ، میزان بینک اور نیشنل بینک بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار رہا جہاں 100 انڈیکس میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس مثبت رجحان کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نرمی اور ملک کے حوصلہ افزا معاشی اشاریے رہے جنہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دی۔</p>
<p>ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 100 انڈیکس 5,800.93 پوائنٹس یا 3.2 فیصد اضافے سے 185,372.20 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی حصص بازاروں میں زیادہ تر مثبت رجحان دیکھا گیا جبکہ وال اسٹریٹ فیوچرز بھی آئندہ بہتر مالی نتائج کی توقع پر اضافے کے ساتھ ہفتے کا آغاز کرنے میں کامیاب رہے۔ دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں نرمی نے مہنگائی کے دباؤ میں کمی کی امیدوں کو بھی تقویت دی۔</p>
<p>اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ امن مذاکرات میں کوئی نئی پیش رفت سامنے نہیں آئی، تاہم گزشتہ ہفتے پیر سے ہفتہ تک آبنائے ہرمز سے 160 بحری جہازوں کی آمد و رفت رپورٹ ہوئی جس سے عالمی توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات میں کچھ کمی آئی۔</p>
<p>دوسری جانب اوپیک پلس نے بھی اگست سے یومیہ 1 لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی تیل پیدا کرنے کے ہدف کی منظوری دے دی جو جون اور جولائی میں کیے گئے اسی نوعیت کے اضافوں کے علاوہ ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں برینٹ کروڈ کی قیمت 0.6 فیصد گر کر تقریباً چار ماہ کی کم ترین سطح 71.70 ڈالر فی بیرل پر آ گئی اور امریکی خام تیل کی قیمت بھی 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 68.38 ڈالر پر بند ہوئی۔</p>
<p>توانائی قیمتوں میں کمی اور امریکہ میں روزگار کے اعدادوشمار توقعات سے کمزور آنے کے بعد مالیاتی منڈیوں نے قلیل مدت میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے خدشات کم کردیے ہیں۔ فیوچر مارکیٹ کے مطابق 29 جولائی کے اجلاس میں شرحِ سود برقرار رہنے کا امکان 78 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب فیڈرل ریزرو کے گزشتہ اجلاس کی کارروائی بدھ کو جاری کی جائے گی جس سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ بورڈ کے بعض اراکین نے سخت گیر مؤقف کیوں اختیار کیا تھا، تاہم یہ اجلاس عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ نمایاں کمی سے پہلے منعقد ہوا تھا۔</p>
<p>رواں ماہ شرحِ سود میں اضافے کے خدشات کم ہونے سے سرمایہ کاروں کی توجہ اب آئندہ مالیاتی نتائج پر مرکوز ہونے کا امکان ہے جہاں اے آئی کی تیزی کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کے غیر معمولی منافع کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p>رواں ہفتے ڈیلٹا ایئر لائنز اور پیپسی کو اپنے مالی نتائج جاری کریں گی تاہم سب سے زیادہ توجہ سام سنگ الیکٹرانکس کے منگل کو متوقع نتائج پر مرکوز ہے جہاں تجزیہ کار کمپنی کے منافع میں 18 گنا اضافے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ جو رواں سال اب تک 92 فیصد بڑھ چکی ہے، گزشتہ ہفتے کچھ ٹھنڈی ضرور پڑی، تاہم مصنوعی ذہانت سے متعلق مضبوط طلب اور چپس کی محدود رسد کے باعث چپس کی قیمتوں میں اضافے نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ پیر کو بھی جنوبی کوریا کا مرکزی انڈیکس 2.25 فیصد مزید بڑھ گیا جبکہ جاپان کا نکیئی انڈیکس 0.1 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔</p>
<p>ادھر جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288355</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 13:16:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/061118494500bac.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/061118494500bac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
