<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 20:10:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 20:10:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کی قیمتیں ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288342/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی منڈی میں پیر کے روز تیل کی قیمتیں تقریباً ایران کے ساتھ جنگ سے پہلے کی سطح پر مستحکم رہیں، کیونکہ سعودی عرب نے اپنے سرکاری فروختی نرخ کم کر دیے جبکہ اوپیک پلس نے اگست سے تیل کی پیداوار کے ہدف میں مزید اضافے پر اتفاق کیا۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز کے ذریعے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات بھی بحال ہونا شروع ہوگئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین وچ معیاری وقت کے مطابق 1322 بجے برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 4 سینٹ، یا 0.06 فیصد، کمی کے بعد 72.08 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ جمعہ کو یہ 0.45 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 7 سینٹ، یا 0.1 فیصد، کمی کے بعد 68.62 ڈالر فی بیرل رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں سرکاری تعطیل کے باعث جمعہ کو ڈبلیو ٹی آئی کی باقاعدہ سیٹلمنٹ نہیں ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر معمولی تبدیلی دیکھی گئی، حالانکہ اس سے قبل کئی ہفتوں تک مسلسل کمی کے بعد قیمتیں فروری کے آخر والی سطح پر واپس آ گئی تھیں، یعنی اس دور کی سطح پر جب ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹانووو کے مطابق ”قیمتوں میں کمی کی وجہ یہ بھی ہے کہ پہلے پھنسی ہوئی آئل ٹینکرز خلیج سے نکلنے میں کامیاب ہو رہی ہیں، جس سے سمندر میں دستیاب تیل کی مقدار بڑھ گئی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے مستقبل پر جاری مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک کی تیل برآمدات کی بحالی کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیداواری اعداد و شمار سے واقف دو ذرائع نے پیر کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے جون میں اپنی خام تیل کی پیداوار بڑھا کر یومیہ 38 لاکھ بیرل سے زائد کر دی، جو ریکارڈ سطح کے قریب ہے۔ امارات نے پیداواری پابندیوں سے بچنے کے لیے اوپیک سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر سعودی عرب نے اگست کے لیے ایشیائی خریداروں کو فروخت کیے جانے والے اپنے مرکزی گریڈ عرب لائٹ خام تیل کی سرکاری قیمت عمان/دبئی اوسط کے مقابلے میں 1.50 ڈالر فی بیرل کم مقرر کی ہے، جو 2003 سے رائٹرز کے ریکارڈ کے مطابق ایک ماہ میں سب سے بڑی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک، جن میں روس بھی شامل ہے، نے اتوار کو اگست سے یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل مزید پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا۔ یہ اضافہ جون اور جولائی میں کیے گئے اسی نوعیت کے اضافوں کے علاوہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایران جنگ کے باعث یہ اضافہ بڑی حد تک کاغذی ثابت ہوا، کیونکہ آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی آمدورفت متاثر ہونے سے سعودی عرب، کویت اور عراق جیسے اہم اوپیک ممالک کی برآمدات اور پیداوار محدود رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی وی ایم کے تجزیہ کار تاماس وارگا نے کہا، ”وہ گرتی ہوئی منڈی میں فروخت کر رہے ہیں، اس لیے قیمتوں میں فوری بحالی کی امید کم ہے، تاہم کم تیل کی قیمتیں مستقبل میں طلب میں ضرور اضافہ کریں گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یوکرین کی فوج نے پیر کو دعویٰ کیا کہ اس نے رات کے وقت روس کی سب سے بڑی آئل ریفائنری، اومسک، کے علاوہ یاروسلاول اور لینن گراڈ کے علاقوں میں واقع تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی منڈی میں پیر کے روز تیل کی قیمتیں تقریباً ایران کے ساتھ جنگ سے پہلے کی سطح پر مستحکم رہیں، کیونکہ سعودی عرب نے اپنے سرکاری فروختی نرخ کم کر دیے جبکہ اوپیک پلس نے اگست سے تیل کی پیداوار کے ہدف میں مزید اضافے پر اتفاق کیا۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز کے ذریعے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات بھی بحال ہونا شروع ہوگئی ہیں۔</p>
<p>گرین وچ معیاری وقت کے مطابق 1322 بجے برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 4 سینٹ، یا 0.06 فیصد، کمی کے بعد 72.08 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ جمعہ کو یہ 0.45 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 7 سینٹ، یا 0.1 فیصد، کمی کے بعد 68.62 ڈالر فی بیرل رہی۔</p>
<p>امریکا میں سرکاری تعطیل کے باعث جمعہ کو ڈبلیو ٹی آئی کی باقاعدہ سیٹلمنٹ نہیں ہوئی تھی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر معمولی تبدیلی دیکھی گئی، حالانکہ اس سے قبل کئی ہفتوں تک مسلسل کمی کے بعد قیمتیں فروری کے آخر والی سطح پر واپس آ گئی تھیں، یعنی اس دور کی سطح پر جب ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں ہوئی تھی۔</p>
<p>یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹانووو کے مطابق ”قیمتوں میں کمی کی وجہ یہ بھی ہے کہ پہلے پھنسی ہوئی آئل ٹینکرز خلیج سے نکلنے میں کامیاب ہو رہی ہیں، جس سے سمندر میں دستیاب تیل کی مقدار بڑھ گئی ہے۔“</p>
<p>سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے مستقبل پر جاری مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک کی تیل برآمدات کی بحالی کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>پیداواری اعداد و شمار سے واقف دو ذرائع نے پیر کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے جون میں اپنی خام تیل کی پیداوار بڑھا کر یومیہ 38 لاکھ بیرل سے زائد کر دی، جو ریکارڈ سطح کے قریب ہے۔ امارات نے پیداواری پابندیوں سے بچنے کے لیے اوپیک سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔</p>
<p>ادھر سعودی عرب نے اگست کے لیے ایشیائی خریداروں کو فروخت کیے جانے والے اپنے مرکزی گریڈ عرب لائٹ خام تیل کی سرکاری قیمت عمان/دبئی اوسط کے مقابلے میں 1.50 ڈالر فی بیرل کم مقرر کی ہے، جو 2003 سے رائٹرز کے ریکارڈ کے مطابق ایک ماہ میں سب سے بڑی کمی ہے۔</p>
<p>اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک، جن میں روس بھی شامل ہے، نے اتوار کو اگست سے یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل مزید پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا۔ یہ اضافہ جون اور جولائی میں کیے گئے اسی نوعیت کے اضافوں کے علاوہ ہوگا۔</p>
<p>تاہم ایران جنگ کے باعث یہ اضافہ بڑی حد تک کاغذی ثابت ہوا، کیونکہ آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی آمدورفت متاثر ہونے سے سعودی عرب، کویت اور عراق جیسے اہم اوپیک ممالک کی برآمدات اور پیداوار محدود رہی۔</p>
<p>پی وی ایم کے تجزیہ کار تاماس وارگا نے کہا، ”وہ گرتی ہوئی منڈی میں فروخت کر رہے ہیں، اس لیے قیمتوں میں فوری بحالی کی امید کم ہے، تاہم کم تیل کی قیمتیں مستقبل میں طلب میں ضرور اضافہ کریں گی۔“</p>
<p>دوسری جانب یوکرین کی فوج نے پیر کو دعویٰ کیا کہ اس نے رات کے وقت روس کی سب سے بڑی آئل ریفائنری، اومسک، کے علاوہ یاروسلاول اور لینن گراڈ کے علاقوں میں واقع تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288342</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 20:10:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/06180653c5ba708.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/06180653c5ba708.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
