<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 15:42:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Jul 2026 15:42:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسحاق ڈار کا پاکستان اور ترکیہ کے سیاسی تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں بدلنے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288325/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ہفتے کے روز پاکستان اور ترکیہ پر زور دیا کہ وہ اپنے دیرینہ سیاسی، برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو ایک مضبوط اور متحرک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے رجحانات دونوں ممالک کے لیے مشترکہ ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استنبول میں منعقدہ پاکستان ترکیہ بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ علاقائی امن، سلامتی اور انسانی ہمدردی کے معاملات میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ اس مضبوط سیاسی تعلق کو اقتصادی تعاون میں بھی تبدیل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل چیلنج یہ ہے کہ اس غیر معمولی سیاسی اور برادرانہ تعلق کو اتنی ہی متحرک اقتصادی شراکت داری میں ڈھالا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2073661677225283695?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2073661677225283695?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی معیشت اس وقت جغرافیائی سیاسی مسابقت، تیز رفتار تکنیکی تبدیلی، سپلائی چینز میں ردوبدل، توانائی کے نئے رجحانات اور تجارت و سرمایہ کاری کے بدلتے ہوئے انداز کے باعث نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جو باہمی تعاون کرنے والے ممالک کے لیے نئی معاشی راہیں کھول رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ یورپ، ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خارجہ نے زور دیا کہ موجودہ دور میں اقتصادی سفارت کاری بین الاقوامی تعلقات کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ انہوں نے سفارت خانوں، تجارتی مشنز، سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اداروں اور کاروباری تنظیموں پر زور دیا کہ وہ تجارت میں آسانیاں پیدا کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور کاروباری برادری کو درپیش رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مزید قریبی تعاون کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں جاری معاشی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد معاشی استحکام، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے ترک سرمایہ کاروں کو توانائی، کان کنی، معدنیات، بجلی کے بنیادی ڈھانچے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، زراعت، لاجسٹکس، سیاحت اور دفاعی صنعت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبے تجارتی کامیابی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، صنعتی جدیدکاری اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل جدت، فِن ٹیک، جدید مینوفیکچرنگ اور تحقیقاتی شراکت داری جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ مستقبل میں یہی شعبے دونوں معیشتوں کی عالمی مسابقت کا تعین کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ نئے اتحاد قائم ہو رہے ہیں، تجارتی معاہدوں پر ازسرِنو مذاکرات ہو رہے ہیں اور عالمی مسابقت کے اصول تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی تبدیلیوں کا صرف ردعمل دینے کے بجائے مستقبل کی تشکیل میں مشترکہ کردار ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکیہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، کیونکہ دونوں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے عالمی منڈیوں میں کامیابی سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صلاحیت موجود ہے، آئیے اسے پاکستان اور ترکیہ کے عوام کی مشترکہ خوشحالی کے لیے بروئے کار لائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب کے اختتام پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ترکیہ بزنس کانفرنس سے یہ واضح پیغام جانا چاہیے کہ دونوں ممالک خوشحالی، جدت اور علاقائی استحکام پر مبنی مشترکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ہفتے کے روز پاکستان اور ترکیہ پر زور دیا کہ وہ اپنے دیرینہ سیاسی، برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو ایک مضبوط اور متحرک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے رجحانات دونوں ممالک کے لیے مشترکہ ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>استنبول میں منعقدہ پاکستان ترکیہ بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ علاقائی امن، سلامتی اور انسانی ہمدردی کے معاملات میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ اس مضبوط سیاسی تعلق کو اقتصادی تعاون میں بھی تبدیل کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل چیلنج یہ ہے کہ اس غیر معمولی سیاسی اور برادرانہ تعلق کو اتنی ہی متحرک اقتصادی شراکت داری میں ڈھالا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2073661677225283695?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2073661677225283695?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی معیشت اس وقت جغرافیائی سیاسی مسابقت، تیز رفتار تکنیکی تبدیلی، سپلائی چینز میں ردوبدل، توانائی کے نئے رجحانات اور تجارت و سرمایہ کاری کے بدلتے ہوئے انداز کے باعث نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جو باہمی تعاون کرنے والے ممالک کے لیے نئی معاشی راہیں کھول رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ یورپ، ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔</p>
<p>وزیر خارجہ نے زور دیا کہ موجودہ دور میں اقتصادی سفارت کاری بین الاقوامی تعلقات کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ انہوں نے سفارت خانوں، تجارتی مشنز، سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اداروں اور کاروباری تنظیموں پر زور دیا کہ وہ تجارت میں آسانیاں پیدا کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور کاروباری برادری کو درپیش رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مزید قریبی تعاون کریں۔</p>
<p>انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں جاری معاشی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد معاشی استحکام، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے ترک سرمایہ کاروں کو توانائی، کان کنی، معدنیات، بجلی کے بنیادی ڈھانچے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، زراعت، لاجسٹکس، سیاحت اور دفاعی صنعت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبے تجارتی کامیابی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، صنعتی جدیدکاری اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل جدت، فِن ٹیک، جدید مینوفیکچرنگ اور تحقیقاتی شراکت داری جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ مستقبل میں یہی شعبے دونوں معیشتوں کی عالمی مسابقت کا تعین کریں گے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ نئے اتحاد قائم ہو رہے ہیں، تجارتی معاہدوں پر ازسرِنو مذاکرات ہو رہے ہیں اور عالمی مسابقت کے اصول تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی تبدیلیوں کا صرف ردعمل دینے کے بجائے مستقبل کی تشکیل میں مشترکہ کردار ادا کریں۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکیہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، کیونکہ دونوں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے عالمی منڈیوں میں کامیابی سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صلاحیت موجود ہے، آئیے اسے پاکستان اور ترکیہ کے عوام کی مشترکہ خوشحالی کے لیے بروئے کار لائیں۔</p>
<p>اپنے خطاب کے اختتام پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ترکیہ بزنس کانفرنس سے یہ واضح پیغام جانا چاہیے کہ دونوں ممالک خوشحالی، جدت اور علاقائی استحکام پر مبنی مشترکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288325</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 12:20:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/05121810ac62c50.webp" type="image/webp" medium="image" height="1333" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/05121810ac62c50.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
