<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 15:41:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Jul 2026 15:41:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی آبادکاری کا بے لگام پھیلاؤ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288324/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں حالیہ بحث نے ایک ایسی حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے جسے اب نظر انداز کرنا دن بہ دن زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے: مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل آبادکاری کی سرگرمیاں مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل  کے پہلے ہی محدود امکانات کو بتدریج ختم کر رہی ہیں۔ سلامتی کونسل کے سامنے پیش کی گئی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ نے ایک بار پھر بین الاقوامی قانون کے تحت اس مسلمہ مؤقف کو دہرایا کہ 1967 سے مقبوضہ علاقوں میں قائم کی جانے والی اسرائیلی آبادیاں کسی بھی قانونی حیثیت کی حامل نہیں ہیں۔ اس کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے  میں ان بستیوں کی توسیع کئی دہائیوں کی بین الاقوامی تنقید کے باوجود مسلسل جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی تشویش کا باعث اسرائیل کا ای-ون راہداری  کو ترقی دینے کا منصوبہ ہے، جو مغربی کنارے کے جغرافیائی تسلسل  کو منقطع کر دے گا اور ایک قابلِ عمل اور باہم منسلک فلسطینی ریاست کے قیام کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ اسی دوران غزہ میں انسانی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ وسیع پیمانے پر بھوک، پانی کی قلت، صحت کی سہولیات کے نظام کے انہدام اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی اطلاعات شہری آبادی کی تکالیف کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ سلامتی سے متعلق خدشات اپنی جگہ، لیکن بین الاقوامی انسانی قانون شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو لازمی قرار دیتا ہے۔ بدقسمتی سے ان دونوں مقاصد میں سے کوئی بھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلامتی کونسل میں پاکستان کی مداخلت ان خدشات کی عکاسی کرتی تھی جن کا اظہار اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی ایک وسیع تعداد، بشمول سلامتی کونسل کے بعض یورپی اراکین، نے بھی کیا۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے 4,750 رہائشی یونٹس کی منظوری یا ان کی پیش رفت اور اسرائیلی کابینہ کی جانب سے 34 نئی آبادکاریوں کی منظوری کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارہ حالیہ تاریخ میں آبادکاری کی توسیع کی سب سے بڑی اور مہلک ترین لہر کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اسی نوعیت کے خیالات کئی دیگر وفود نے بھی پیش کیے، جس سے واضح ہوا کہ آبادکاری کی توسیع کی مخالفت صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ اس کی بازگشت دنیا کے مختلف حصوں میں سنائی دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی کنارے سے متعلق اپنی سہ ماہی رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیلی آبادکاری کے پھیلاؤ کو بے لگام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ 1967 کے بعد مغربی کنارے میں بدترین نقل مکانی کے بحران کو جنم دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادکاروں کی نئی چوکیوں میں اضافے نے تشدد کو ہوا دی ہے، فلسطینیوں کی اپنی زمینوں تک رسائی محدود کر دی ہے اور امن کے لیے سازگار حالات کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ ای-ون علاقے کی ترقی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کے لیے نہایت سنگین نتائج پیدا کرے گی اور دو ریاستی حل کے لیے، ان کے الفاظ میں، وجودی خطرہ ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلامتی کونسل کی یہ بحث ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بین الاقوامی اتفاقِ رائے اور زمینی حقائق کے درمیان خلیج مسلسل وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ تاہم تشویش کے بار بار اظہار کے باوجود نہ تو آبادکاری کی توسیع کو روکا جا سکا ہے اور نہ ہی انسانی بحران میں کوئی نمایاں کمی آئی ہے۔ اگر اسرائیل کی موجودہ پالیسی بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رہی تو مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کا امکان مزید معدوم ہوتا جائے گا، جس کے اثرات صرف اسرائیل فلسطین تنازع تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ علاقائی استحکام اور پہلے ہی دباؤ کا شکار قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام  کی ساکھ کو بھی متاثر کریں گے۔ اس لیے سلامتی کونسل کے سامنے اصل چیلنج اصولوں کا نہیں بلکہ سیاسی عزم کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں حالیہ بحث نے ایک ایسی حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے جسے اب نظر انداز کرنا دن بہ دن زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے: مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل آبادکاری کی سرگرمیاں مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل  کے پہلے ہی محدود امکانات کو بتدریج ختم کر رہی ہیں۔ سلامتی کونسل کے سامنے پیش کی گئی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ نے ایک بار پھر بین الاقوامی قانون کے تحت اس مسلمہ مؤقف کو دہرایا کہ 1967 سے مقبوضہ علاقوں میں قائم کی جانے والی اسرائیلی آبادیاں کسی بھی قانونی حیثیت کی حامل نہیں ہیں۔ اس کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے  میں ان بستیوں کی توسیع کئی دہائیوں کی بین الاقوامی تنقید کے باوجود مسلسل جاری ہے۔</strong></p>
<p>خصوصی تشویش کا باعث اسرائیل کا ای-ون راہداری  کو ترقی دینے کا منصوبہ ہے، جو مغربی کنارے کے جغرافیائی تسلسل  کو منقطع کر دے گا اور ایک قابلِ عمل اور باہم منسلک فلسطینی ریاست کے قیام کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ اسی دوران غزہ میں انسانی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ وسیع پیمانے پر بھوک، پانی کی قلت، صحت کی سہولیات کے نظام کے انہدام اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی اطلاعات شہری آبادی کی تکالیف کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ سلامتی سے متعلق خدشات اپنی جگہ، لیکن بین الاقوامی انسانی قانون شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو لازمی قرار دیتا ہے۔ بدقسمتی سے ان دونوں مقاصد میں سے کوئی بھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔</p>
<p>سلامتی کونسل میں پاکستان کی مداخلت ان خدشات کی عکاسی کرتی تھی جن کا اظہار اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی ایک وسیع تعداد، بشمول سلامتی کونسل کے بعض یورپی اراکین، نے بھی کیا۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے 4,750 رہائشی یونٹس کی منظوری یا ان کی پیش رفت اور اسرائیلی کابینہ کی جانب سے 34 نئی آبادکاریوں کی منظوری کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارہ حالیہ تاریخ میں آبادکاری کی توسیع کی سب سے بڑی اور مہلک ترین لہر کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اسی نوعیت کے خیالات کئی دیگر وفود نے بھی پیش کیے، جس سے واضح ہوا کہ آبادکاری کی توسیع کی مخالفت صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ اس کی بازگشت دنیا کے مختلف حصوں میں سنائی دے رہی ہے۔</p>
<p>مغربی کنارے سے متعلق اپنی سہ ماہی رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیلی آبادکاری کے پھیلاؤ کو بے لگام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ 1967 کے بعد مغربی کنارے میں بدترین نقل مکانی کے بحران کو جنم دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادکاروں کی نئی چوکیوں میں اضافے نے تشدد کو ہوا دی ہے، فلسطینیوں کی اپنی زمینوں تک رسائی محدود کر دی ہے اور امن کے لیے سازگار حالات کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ ای-ون علاقے کی ترقی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کے لیے نہایت سنگین نتائج پیدا کرے گی اور دو ریاستی حل کے لیے، ان کے الفاظ میں، وجودی خطرہ ثابت ہوگی۔</p>
<p>سلامتی کونسل کی یہ بحث ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بین الاقوامی اتفاقِ رائے اور زمینی حقائق کے درمیان خلیج مسلسل وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ تاہم تشویش کے بار بار اظہار کے باوجود نہ تو آبادکاری کی توسیع کو روکا جا سکا ہے اور نہ ہی انسانی بحران میں کوئی نمایاں کمی آئی ہے۔ اگر اسرائیل کی موجودہ پالیسی بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رہی تو مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کا امکان مزید معدوم ہوتا جائے گا، جس کے اثرات صرف اسرائیل فلسطین تنازع تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ علاقائی استحکام اور پہلے ہی دباؤ کا شکار قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام  کی ساکھ کو بھی متاثر کریں گے۔ اس لیے سلامتی کونسل کے سامنے اصل چیلنج اصولوں کا نہیں بلکہ سیاسی عزم کا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288324</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 12:12:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/05120953b9a35cd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/05120953b9a35cd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
