<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 15:42:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Jul 2026 15:42:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سفارشات پر عمل درآمد کیلئے باضابطہ انتظامی طریقہ کار وضع کیا جائے، ایف ٹی او</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288319/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو سفارش کی ہے کہ وہ ایک باضابطہ انتظامی طریقہ کار  وضع کرے تاکہ محتسب کی جانب سے جاری کردہ سفارشات پر عمل درآمد اور ٹیکس قوانین کے تحت استعمال کیے جانے والے قانونی اختیارات میں باہمی ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے۔ اس کا مقصد ٹیکس دہندگان کی شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، نہ کہ اس میں رکاوٹ پیدا کرنا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سفارش ریفنڈ سے متعلق ایک شکایت میں عمل درآمد کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے کی گئی۔ سماعت کے دوران محکمہ نے وفاقی ٹیکس محتسب کو آگاہ کیا کہ محتسب کی سفارشات جاری ہونے کے بعد انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 122 کے تحت نظرثانی شدہ اسیسمنٹ آرڈر جاری کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی ٹیکس محتسب نے واضح کیا کہ مذکورہ اسیسمنٹ آرڈر کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینا صرف متعلقہ قانونی اپیلٹ فورمز کا اختیار ہے، لہٰذا انہوں نے اس کے قانونی یا میرٹ سے متعلق کسی بھی پہلو پر رائے دینے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم محتسب نے قرار دیا کہ جب ایک مرتبہ وفاقی ٹیکس محتسب کی سفارشات جاری ہو جائیں تو ان پر پوری دیانت داری اور ان کی حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد ہونا چاہیے۔ اگرچہ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ محکمہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت جہاں قانونی طور پر ضروری ہو کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے، لیکن اس اختیار کا استعمال ایسے انداز میں ہونا چاہیے جو محتسب کے سامنے جاری عمل درآمد کے عمل سے ہم آہنگ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم میں کہا گیا ہے کہ اچھی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ٹیکس قوانین کے تحت حاصل اختیارات اور محتسب کی سفارشات پر عمل درآمد ایک دوسرے کی تکمیل کریں، نہ کہ ایک دوسرے کے مقاصد کو ناکام بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی ٹیکس محتسب نے سفارش کی کہ ایف بی آر اپنے تمام فیلڈ دفاتر کو انتظامی ہدایات جاری کرے تاکہ محتسب کی سفارشات پر مکمل اور مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ایسے معاملات کے لیے ایک اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) بھی تیار کیا جائے جہاں محتسب کی سفارشات جاری ہونے کے بعد ٹیکس قوانین کے تحت مزید قانونی کارروائی ضروری ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی شکایات کے ازالے کے نظام کی مؤثریت صرف سفارشات قبول کرنے سے نہیں بلکہ ان پر بروقت، مخلصانہ اور بامقصد عمل درآمد سے وابستہ ہے۔ فیصلے میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ ٹیکس قوانین کے تحت حاصل اختیارات اور وفاقی ٹیکس محتسب کی سفارشات دونوں کا مقصد بہتر انتظامی نظام کو فروغ دینا ہے، نہ کہ ایک دوسرے کے برعکس کام کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو سفارش کی ہے کہ وہ ایک باضابطہ انتظامی طریقہ کار  وضع کرے تاکہ محتسب کی جانب سے جاری کردہ سفارشات پر عمل درآمد اور ٹیکس قوانین کے تحت استعمال کیے جانے والے قانونی اختیارات میں باہمی ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے۔ اس کا مقصد ٹیکس دہندگان کی شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، نہ کہ اس میں رکاوٹ پیدا کرنا۔</strong></p>
<p>یہ سفارش ریفنڈ سے متعلق ایک شکایت میں عمل درآمد کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے کی گئی۔ سماعت کے دوران محکمہ نے وفاقی ٹیکس محتسب کو آگاہ کیا کہ محتسب کی سفارشات جاری ہونے کے بعد انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 122 کے تحت نظرثانی شدہ اسیسمنٹ آرڈر جاری کیا گیا ہے۔</p>
<p>وفاقی ٹیکس محتسب نے واضح کیا کہ مذکورہ اسیسمنٹ آرڈر کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینا صرف متعلقہ قانونی اپیلٹ فورمز کا اختیار ہے، لہٰذا انہوں نے اس کے قانونی یا میرٹ سے متعلق کسی بھی پہلو پر رائے دینے سے گریز کیا۔</p>
<p>تاہم محتسب نے قرار دیا کہ جب ایک مرتبہ وفاقی ٹیکس محتسب کی سفارشات جاری ہو جائیں تو ان پر پوری دیانت داری اور ان کی حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد ہونا چاہیے۔ اگرچہ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ محکمہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت جہاں قانونی طور پر ضروری ہو کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے، لیکن اس اختیار کا استعمال ایسے انداز میں ہونا چاہیے جو محتسب کے سامنے جاری عمل درآمد کے عمل سے ہم آہنگ ہو۔</p>
<p>حکم میں کہا گیا ہے کہ اچھی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ٹیکس قوانین کے تحت حاصل اختیارات اور محتسب کی سفارشات پر عمل درآمد ایک دوسرے کی تکمیل کریں، نہ کہ ایک دوسرے کے مقاصد کو ناکام بنائیں۔</p>
<p>وفاقی ٹیکس محتسب نے سفارش کی کہ ایف بی آر اپنے تمام فیلڈ دفاتر کو انتظامی ہدایات جاری کرے تاکہ محتسب کی سفارشات پر مکمل اور مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ایسے معاملات کے لیے ایک اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) بھی تیار کیا جائے جہاں محتسب کی سفارشات جاری ہونے کے بعد ٹیکس قوانین کے تحت مزید قانونی کارروائی ضروری ہو جائے۔</p>
<p>وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی شکایات کے ازالے کے نظام کی مؤثریت صرف سفارشات قبول کرنے سے نہیں بلکہ ان پر بروقت، مخلصانہ اور بامقصد عمل درآمد سے وابستہ ہے۔ فیصلے میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ ٹیکس قوانین کے تحت حاصل اختیارات اور وفاقی ٹیکس محتسب کی سفارشات دونوں کا مقصد بہتر انتظامی نظام کو فروغ دینا ہے، نہ کہ ایک دوسرے کے برعکس کام کرنا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288319</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 11:26:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0511240540bcd69.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0511240540bcd69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
