<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 00:14:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Jul 2026 00:14:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان، ترکیہ کا دوطرفہ تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288307/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور ترکیہ نے اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کی بھرپور صلاحیت سے فائدہ اٹھا کر دوطرفہ تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے، جبکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ہفتے کے روز استنبول میں وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا، ”ہماری بات چیت میں پاکستان۔ترکیہ اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا، جس میں بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، رابطہ سازی، ٹیکنالوجی، علاقائی امن اور عوامی روابط پر توجہ مرکوز رہی۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/2073427731165913570'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2073427731165913570"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے کہا، ”ہم نے اس مشترکہ یقین کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی واحد پائیدار راستہ ہیں۔ میں نے صدر اردوان کی پرتپاک میزبانی پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہم نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اپنی شراکت داری کی بے پناہ صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے باہمی تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کے متفقہ ہدف کو حاصل کیا جائے اور پاکستان و ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور بلند سطح تک لے جایا جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مزید کہا، ”آج اس سے قبل میں نے پاکستان۔ترکیہ بزنس کانفرنس میں شرکت کی، جہاں ترکیہ کی متحرک کاروباری برادری کے ممتاز نمائندوں سے ملاقات ہوئی۔ ان کی مثبت سوچ، جدت پسندی اور کاروباری جذبے نے میرے اس یقین کو مزید مضبوط کیا کہ صدر اردوان کی دور اندیش قیادت میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی شراکت داری ایک نئے اور امید افزا دور میں داخل ہو رہی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے، جو ترکیہ کے شہر استنبول کے سرکاری دورے پر تھے، استنبول کے واحد الدین محل میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے دوطرفہ ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سمیت دونوں ممالک کے وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، “گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا اور دوطرفہ روابط کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور تجارت و سرمایہ کاری، توانائی، سمندر اور خشکی میں تیل و گیس کی تلاش، معدنیات اور کان کنی، نیز انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک پہنچانے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم ہاؤس کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر اردوان نے ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، جن کے نتیجے میں تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) پر دستخط ممکن ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے امن عمل کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قریبی سفارتی رابطوں کو بھی سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال کے اواخر میں ترکیہ میں ہونے والے پاکستان ترکیہ اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک تعاون کونسل ( ایچ ایل ایس سی سی) کے آٹھویں اجلاس کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے صدر اردوان کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور ترکیہ نے اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کی بھرپور صلاحیت سے فائدہ اٹھا کر دوطرفہ تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے، جبکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت ہفتے کے روز استنبول میں وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا، ”ہماری بات چیت میں پاکستان۔ترکیہ اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا، جس میں بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، رابطہ سازی، ٹیکنالوجی، علاقائی امن اور عوامی روابط پر توجہ مرکوز رہی۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/2073427731165913570'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2073427731165913570"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے کہا، ”ہم نے اس مشترکہ یقین کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی واحد پائیدار راستہ ہیں۔ میں نے صدر اردوان کی پرتپاک میزبانی پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔“</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہم نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اپنی شراکت داری کی بے پناہ صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے باہمی تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کے متفقہ ہدف کو حاصل کیا جائے اور پاکستان و ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور بلند سطح تک لے جایا جائے۔“</p>
<p>وزیراعظم نے مزید کہا، ”آج اس سے قبل میں نے پاکستان۔ترکیہ بزنس کانفرنس میں شرکت کی، جہاں ترکیہ کی متحرک کاروباری برادری کے ممتاز نمائندوں سے ملاقات ہوئی۔ ان کی مثبت سوچ، جدت پسندی اور کاروباری جذبے نے میرے اس یقین کو مزید مضبوط کیا کہ صدر اردوان کی دور اندیش قیادت میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی شراکت داری ایک نئے اور امید افزا دور میں داخل ہو رہی ہے۔“</p>
<p>بعد ازاں وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے، جو ترکیہ کے شہر استنبول کے سرکاری دورے پر تھے، استنبول کے واحد الدین محل میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے دوطرفہ ملاقات کی۔</p>
<p>ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سمیت دونوں ممالک کے وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>بیان کے مطابق، “گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا اور دوطرفہ روابط کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور تجارت و سرمایہ کاری، توانائی، سمندر اور خشکی میں تیل و گیس کی تلاش، معدنیات اور کان کنی، نیز انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p>اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک پہنچانے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔“</p>
<p>وزیراعظم ہاؤس کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر اردوان نے ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، جن کے نتیجے میں تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) پر دستخط ممکن ہوئے۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے امن عمل کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قریبی سفارتی رابطوں کو بھی سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنا ناگزیر ہے۔</p>
<p>رواں سال کے اواخر میں ترکیہ میں ہونے والے پاکستان ترکیہ اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک تعاون کونسل ( ایچ ایل ایس سی سی) کے آٹھویں اجلاس کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے صدر اردوان کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288307</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 23:53:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/042347427f6d7bc.webp" type="image/webp" medium="image" height="1168" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/042347427f6d7bc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
